قوموں کی ترقی کا راز صرف قدرتی وسائل، بلند و بالا عمارتوں یا جدید سڑکوں میں پوشیدہ نہیں ہوتا بلکہ اصل سرمایہ ان کے ہنر مند اور باصلاحیت نوجوان ہوتے ہیں۔ تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جن ممالک نے اپنے نوجوانوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ فنی اور تکنیکی مہارتوں سے آراستہ کیا، انہوں نے معاشی استحکام، صنعتی ترقی اور عالمی مسابقت میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ آج کی دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، آٹومیشن اور جدید صنعتوں نے روزگار کے روایتی تصورات کو تبدیل کر دیا ہے۔ ایسے میں صرف ڈگری حاصل کرنا کامیابی کی ضمانت نہیں رہا بلکہ عملی مہارت، فنی قابلیت اور پیشہ ورانہ ہنر ہی وہ طاقت بن چکے ہیں جو نوجوانوں کو معاشی خودمختاری اور قومی ترقی کے سفر میں موثر کردار ادا کرنے کے قابل بناتے ہیں۔ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں نوجوان آبادی کا تناسب بہت زیادہ ہے اور یہ آبادی ایک طرف بے پناہ صلاحیتوں کا خزانہ ہے تو دوسری طرف اگر اس کی توانائی کو مثبت سمت نہ دی جائے تو یہ ایک بڑا چیلنج بھی بن سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوانوں کو ہنر مند بنانا محض ایک تعلیمی یا معاشی ضرورت نہیں بلکہ قومی بقا اور ترقی کا تقاضا ہے۔ آج کا دور اس بات کا متقاضی ہے کہ نوجوان صرف کتابی علم تک محدود نہ رہیں بلکہ ایسے ہنر حاصل کریں جو انہیں روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ دوسروں کے لئے بھی روزگار پیدا کرنے کے قابل بنائیں۔ہنر مندی کا تصور بہت وسیع ہے۔ اس میں روایتی فنی تعلیم، انجینئرنگ، الیکٹریکل ورک، مکینیکل مہارتیں، تعمیرات، زراعت، آئی ٹی، گرافک ڈیزائننگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، پروگرامنگ، موبائل ایپلیکیشن ڈویلپمنٹ، سائبر سکیورٹی، مصنوعی ذہانت، ای کامرس، فری لانسنگ اور دیگر بے شمار شعبے شامل ہیں۔
دنیا میں وہی قومیں آگے بڑھ رہی ہیں جو اپنے نوجوانوں کو جدید تقاضوں کے مطابق مہارتیں سکھا رہی ہیں۔ پاکستان میں بھی ہنر مندی کے فروغ کے لیے مختلف سطحوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ فنی تربیتی ادارے، ووکیشنل سینٹرز، ٹیکنیکل ایجوکیشن بورڈز اور مختلف سرکاری و نجی پروگرام نوجوانوں کو مہارتیں فراہم کرنے میں مصروف ہیں۔ تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کوششوں کو مزید موثر، جدید اور مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ بنایا جائے۔ اکثر نوجوان ایسی تعلیم حاصل کرتے ہیں جس کی مارکیٹ میں طلب کم ہوتی ہے، نتیجتاً انہیں بے روزگاری یا کم آمدنی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر تعلیمی اداروں اور صنعتوں کے درمیان مضبوط رابطہ قائم کیا جائے تو نوجوانوں کو ایسی مہارتیں سکھائی جا سکتی ہیں جن کی ملکی اور بین الاقوامی سطح پر ضرورت ہو۔ڈیجیٹل معیشت نے نوجوانوں کے لیے بے شمار نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔ انٹرنیٹ کی بدولت آج ایک نوجوان اپنے گھر بیٹھے عالمی منڈی تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ فری لانسنگ، آن لائن تعلیم، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، کانٹینٹ رائٹنگ، ویڈیو ایڈیٹنگ، ویب ڈیزائننگ اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ جیسے شعبوں میں پاکستانی نوجوان نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ یہ شعبے نہ صرف زرمبادلہ کمانے کا ذریعہ بن رہے ہیں بلکہ نوجوانوں کو خود انحصاری کی راہ پر بھی گامزن کر رہے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوانوں کو ان مواقع کے بارے میں آگاہی دی جائے اور انہیں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی تربیت فراہم کی جائے۔ دنیا بھر میں کامیاب معیشتوں کی بنیاد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں پر قائم ہے۔ اگر نوجوانوں کو کاروباری منصوبہ بندی، مالی نظم و نسق، مارکیٹنگ اور جدت طرازی کی تربیت دی جائے تو وہ نہ صرف اپنے لیے بلکہ دوسروں کے لیے بھی روزگار کے مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔ اس سے بے روزگاری میں کمی آئے گی اور ملکی معیشت مضبوط ہوگی۔دیہی علاقوں کے نوجوانوں کے لیے ہنر مندی کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ پاکستان کی ایک بڑی آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے جہاں روزگار کے مواقع محدود ہیں۔ اگر ان نوجوانوں کو جدید زرعی تکنیکوں، لائیو اسٹاک مینجمنٹ، فوڈ پروسیسنگ، دستکاری اور دیگر متعلقہ مہارتوں کی تربیت دی جائے تو دیہی معیشت کو نئی زندگی مل سکتی ہے۔ اس سے شہروں کی جانب ہجرت کا رجحان بھی کم ہوگا اور مقامی سطح پر ترقی کے مواقع پیدا ہوں گے۔خواتین نوجوانوں کی ہنر مندی بھی قومی ترقی کے لئے ناگزیر ہے۔
معاشرے کی نصف آبادی کو ترقی کے عمل میں شامل کئے بغیر پائیدار ترقی کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔ جدید دور میں خواتین مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔ اگر انہیں فنی تعلیم، ڈیجیٹل مہارتوں اور کاروباری تربیت تک بہتر رسائی فراہم کی جائے تو وہ نہ صرف اپنی معاشی حالت بہتر بنا سکتی ہیں بلکہ قومی معیشت میں بھی نمایاں کردار ادا کر سکتی ہیں۔بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں فنی تعلیم کو اب بھی بعض اوقات روایتی تعلیمی ڈگریوں کے مقابلے میں کم اہم سمجھا جاتا ہے۔ یہ سوچ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ایک ماہر ٹیکنیشن، الیکٹریشن، پلمبر، مکینک یا پروگرامر کو انتہائی اہمیت دی جاتی ہے کیونکہ ان کی مہارت براہ راست معیشت اور صنعت کو مضبوط بناتی ہے۔ ہمیں اپنے نوجوانوں میں یہ شعور اجاگر کرنا ہوگا کہ عزت اور کامیابی کا معیار صرف ڈگری نہیں بلکہ قابلیت، مہارت اور کارکردگی ہے۔تعلیمی نظام میں بھی اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ طلبہ کو ابتدائی سطح سے ہی عملی اور فنی مہارتوں کی جانب راغب کیا جا سکے۔ سکولوں اور کالجوں میں کیریئر کونسلنگ، تکنیکی مضامین، ڈیجیٹل خواندگی اور عملی تربیت کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس سے نوجوان اپنی دلچسپی اور صلاحیت کے مطابق شعبے کا انتخاب کر سکیں گے اور مستقبل میں بہتر پیشہ ورانہ زندگی گزار سکیں گے۔سرکاری اداروں، نجی شعبے اور تعلیمی مراکز کے درمیان شراکت داری بھی ہنر مندی کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔ صنعتوں کو چاہیے کہ وہ تربیتی پروگراموں اورانٹرن شپ کے مواقع فراہم کریں تاکہ نوجوان عملی تجربہ حاصل کر سکیں۔ عالمی سطح پر مہارت یافتہ افرادی قوت کی مانگ مسلسل بڑھ رہی ہے۔ خلیجی ممالک، یورپ، ایشیا اور دیگر خطوں میں مختلف شعبوں کے ماہرین کی ضرورت موجود ہے۔ اگر پاکستانی نوجوان بین الاقوامی معیار کی مہارتیں حاصل کریں تو وہ بیرون ملک بہتر مواقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ بھی کما سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے تربیتی پروگراموں کو عالمی تقاضوں کے مطابق ترتیب دینا ضروری ہے۔آج پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہ صورتحال ایک سنہری موقع بھی ہے اور ایک بڑی ذمہ داری بھی۔ اگر ہم اپنے نوجوانوں کو جدید ہنر، فنی تعلیم اور عملی مہارتوں سے آراستہ کرنے میں کامیاب ہو گئے تو یہی نوجوان پاکستان کو ترقی، خوشحالی اور عالمی وقار کی نئی منزلوں تک پہنچا سکتے ہیں۔یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کے نوجوانوں کو بااختیار، خودمختار اور کامیاب بنا سکتا ہے اور یہی وہ سرمایہ کاری ہے جو آنے والی نسلوں کے روشن مستقبل کی ضمانت بنے گی۔