آزاد کشمیر میں احتجاج کا معاملہ اب پیچیدہ ہوچکا ہے۔ ازلی دشمن بھارت اس معاملے کو اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کر رہا ہے۔ ایک آئینی مطالبے کو سڑکوں گلیوں میں پرتشدد انداز میں طے کرنے کی غیر دانشمندانہ حکمت عملی اب نام ایکشن کمیٹی کے سیاسی نامہ اعمال میں فاش غلطی کے طور پر درج ہوچکی ہے۔ حالات کا تقاضا ہے کہ مقامی کشمیری اپنی صفوں میں موجود کالی بھیڑوں سے نجات حاصل کر کے ایسا طرز عمل اختیار کریں جو کسی صورت بھی تحریک حریت کشمیر کے مقاصد کے منافی نہ ہو۔حکومتِ آزاد جموں و کشمیر کی جانب سے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کی بنیادی وجوہات ریاست میں بدامنی، قانون ہاتھ میں لینے، اور مبینہ طور پر پرتشدد کارروائیوں میں ملوث ہونا ہیں۔ جون 2026 ء میں جاری ہونے والے سرکاری نوٹیفکیشن اور حکومتی بیانات کے مطابق، اس تنظیم پر پابندی عائد کرتے ہوئے متعدد محرکات پیش نظر رہے۔ آزاد کشمیر حکومت کے مطابق کمیٹی ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہے جو ریاست کے امن اور سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ ہیں۔ اسے انسداد دہشت گردی ایکٹ 2014ء کے شیڈول ون میں شامل کیا گیا ہے۔ انتظامیہ نے تنظیم پر ریاست میں بغاوت، افراتفری اور انارکی پھیلانے کا الزام عائد کیا ہے۔ اس کے مرکزی رہنمائوں کے خلاف بغاوت کے مقدمات بھی درج کئے گئے ہیں۔
حکام کے مطابق، راولاکوٹ اور دیگر علاقوں میں لانگ مارچ اور احتجاج کے دوران تنظیم کے کچھ عناصر سکیورٹی فورسز اور رینجرز پر جدید ہتھیاروں سے سیدھی فائرنگ، لاٹھی چارج، اور پتھرائو میں ملوث پائے گئے۔ ان جھڑپوں میں متعدد پولیس اہلکار اور عام شہری ہلاک و زخمی ہوئے۔نوٹیفکیشن کے مطابق تنظیم کے بیانات اور حالیہ احتجاجی طریقہ کار کے باعث عوامی حلقوں میں نفرت انگیزی پھیلی اور عام شہریوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھا۔طویل ہڑتالوں، کاروباری مراکز کی زبردستی بندش، اور آزاد پتن جیسے مقامات پر راستے مسدود کرنے سے ریاست میں خوراک، ادویات اور بنیادی ضرورتِ زندگی کی قلت پیدا ہوئی، جس سے معیشت اور سیاحت بری طرح متاثر ہوئی۔ریاستی اداروں اور سکیورٹی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ احتجاج کی آڑ میں کچھ عناصر بیرونی ایما یا فنڈنگ پر امن و امان خراب کرنے کی کوشش کر رہے تھے، جس کے باعث تنظیم کے بیرونِ ملک سہولت کاروں کے خلاف بھی کارروائی شروع کی گئی ہے۔دوسری جانب، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے ان الزامات کی سخت تردید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کشمیری مہاجرین کی 12نشستوں کے خاتمے اور عوامی حقوق کے لیے پرامن احتجاج کر رہے تھے، اور حکومت نے اپنی بوکھلاہٹ اور عوامی آواز کو دبانے کے لیے ان پر یہ پابندی عائد کی ہے۔ اگر یہ موقف درست ہے تو پھر مظاہروں کی آڑ میں تشدد کا ذمہ دار کون ہے؟ اس سوال کا جواب کالعدم کمیٹی کی قیادت پر واجب ہے!بھارتی نیوز چینلز اور ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمز آزاد کشمیر کے احتجاج کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں تاکہ دنیا کو یہ تاثر دیا جا سکے کہ خطے میں شدید عدم استحکام ہے۔ وہ مقامی سطح پر بجلی، آٹے کی قیمتوں یا سیاسی نشستوں کے انتظامی مطالبات کو‘‘ ریاست کے خلاف بغاوت’’کا رنگ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔
بھارتی میڈیا اکثر اپنے تجزیوں میں یہ بیانیہ بنانے کی کوشش کرتا ہے کہ آزاد کشمیر میں کوئی حقیقی خودمختاری یا آزادی نہیں ہے۔ عوامی ایکشن کمیٹی پر حکومت کی جانب سے لگائی جانے والی پابندی اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے استعمال کو وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور ’’حقوق دبانے‘‘سے تعبیر کرتے ہیں۔بھارتی مقتدرہ اس احتجاج کو مقبوضہ کشمیر میں جاری مسلمہ انسانی حقوق کی پامالیوں، سخت سکیورٹی لاک ڈان اور سیاسی گرفتاریوں سے عالمی برادری کی توجہ ہٹانے کے لئے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ احتجاج کے دوران مظاہرین اور پولیس یا رینجرز کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کی ویڈیوز اور تصاویر کو بھارتی میڈیا پر ’’پاکستانی فورسز کے مبینہ مظالم‘‘کے طور پر نشر کیا جاتا ہے۔ وہ سکیورٹی فورسز کے اقدامات کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں تاکہ ریاستی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جا سکے۔ سوشل میڈیا پر متعدد ایسے نیٹ ورکس اور اکانٹس متحرک پائے گئے ہیں جو بھارت سے آپریٹ ہوتے ہیں اور وہ عوامی ایکشن کمیٹی کے ہیش ٹیگز کا استعمال کر کے پرانی یا فیک ویڈیوز شیئر کرتے ہیں تاکہ آزاد کشمیر کے عوام اور سکیورٹی اداروں کے درمیان خلیج کو گہرا کیا جا سکے۔بھارتی میڈیا اس صورتحال کا ناجائز فائدہ اٹھا رہا ہے ۔ جیسے بیرونی اداروں کی پشت پناہی حاصل ہونے کا شبہ ہے۔
دوسری جانب، خود عوامی ایکشن کمیٹی کے بعض رہنماں نے بھارتی میڈیا کے اس پروپیگنڈے کی سختی سے تردید کی ہے۔ ان کا واضح کہنا ہے کہ ان کی تحریک پاکستان یا ریاست کے خلاف نہیں بلکہ صرف مقامی انتظامیہ، کرپشن اور بنیادی حقوق کے حصول کے لیے ہے، اور وہ کسی بھی بیرونی یا بھارتی ایجنڈے کا حصہ بننے کو سختی سے مسترد کرتے ہیں۔ اس دعوے کو درست ثابت کرنے کے لئے ایکشن کمیٹی کو اپنی صفوں کی تطہیر کر کے پرامن جمہوری و آئینی طرز عمل اختیار کرنا چاہئیے ۔