استحکام کے آثار اور ریاست مخالف عناصر کی سازشیں
ملک استحکام کی راہ پر گامزن ہے۔ گزشتہ تین برسوں پر محیط سیاسی ہیجان کے بد اثرات اب دور ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ سٹیٹ بینک نے مسلسل شرح سود کم کی ہے۔ افراط زر میں کمی بتدریج ہو رہی
ملک استحکام کی راہ پر گامزن ہے۔ گزشتہ تین برسوں پر محیط سیاسی ہیجان کے بد اثرات اب دور ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ سٹیٹ بینک نے مسلسل شرح سود کم کی ہے۔ افراط زر میں کمی بتدریج ہو رہی
بلوچستان میں دہشت گرد کالعدم تنظیمیں پاکستان کے وجود کو پارہ پارہ کرنے کے لیے نت نئے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہیں۔نوجوانوں کو قلم کے بجائے ہتھیار تھمانے کے لیے پروپیگنڈے کا بےدریغ استعمال کیا جا رہا ہے۔اب یہ تنظیمیں
القادر ٹرسٹ کیس کے معاملے میں مزید پیچ و خم متوقع ہیں۔ احتساب عدالت کے فیصلے سے نئے مراحل کا آغاز ہوا ہے۔ اس فیصلے پر حکومتی ترجمان دھواں دار بیانات داغ کر تحریک انصاف کے خلاف دل کی بھڑاس
احتساب عدالت کے فیصلے کے بعد تحریک انصاف نے قانونی پہلوئوں کے بجائے مذہبی جذبات کو چھو کر مظلومیت کا بیانیہ بنانے پر توجہ مرکوز کر لی ہے۔ یہ بات پہلے بھی زیر تبصرہ رہی کہ سابق وزیر اعظم کی
جہاں جدید ٹیکنالوجی کی افادیت سے انکار ممکن نہیں وہیں اس کی ہلاکت انگیزی کو بھی جھٹلانا آسا ن نہیں۔ جو گاڑی انسان کو تھوڑے وقت میں طویل فاصلہ بآسانی طے کروا دیتی ہے اسی کو جب کوئی شر پسند
جوں جوں القادر ٹرسٹ کیس کے فیصلے کی گھڑی قریب آرہی ہے یہ تاثر گہرا ہو رہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم اس مقدمے میں مضبوط دفاع پیش کرنے میں ناکام رہی ہے۔ وکلا دوران سماعت
کیا یہ ممکن ہے کہ ہمارا سرکاری چینل پی ٹی وی یا ریڈیو پاکستان امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں مقامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے رہائشی علاقے میں کمرشل یا تجارتی سرگرمیاں جاری رکھ سکے؟
فیک نیوز یا جعلی خبرکا دھندہ مستند صحافت کے متوازی صنعت بنتا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا سمیت متعدد ڈیجیٹل پلیٹ فارم صحافت کی آڑ میں جعلی خبروں کی منڈیاں بن چکے ہیں۔ ہمارا عیار پڑوسی بھارت صحافتی جعلسازی میں
جان پرکنز کی مشہو زمانہ کتاب سے اکنامک ہٹ مین کی اصطلاح مشہور ہوئی تھی۔ ایک نامور کام نگار نے ’’اکنامک ہٹ مین ‘‘ کا ترجمہ کیا تھا ’’معاشی غارت گر‘‘ سیاست کے نام پر ریاست کے خلاف جو مذموم
یہ امر خوش آئند ہے کہ سیاسی بے یقینی کے گہرے بادل چھٹ رہے ہیں۔ معاشی استحکام کا روشن سورج طلوع ہو رہا ہے ۔گزشتہ ڈھائی برس کے دوران سیاسی بے یقینی کی وجہ سے پیدا ہونے والے اندرونی عدم