دوہری حکمتِ عملی پی پی پی کی وقتی سیاست نہیں بلکہ مستقل مزاج بن چکی ہے۔ حالیہ دنوں حکومت کی مجوزہ سولر پالیسی پر پاکستان پیپلز پارٹی کے تحفظات اور تعاون واپس لینے کی دھمکی اسی سیاسی روش کی تازہ مثال ہے۔ بیانات سخت، لہجہ جارحانہ، مگر عملی سیاست ہمیشہ طاقت کے ایوانوں کے گرد گھومتی ہوئی۔ سوال یہ نہیں کہ سولر پالیسی درست ہے یا غلط،سوال یہ ہے کہ کیا پیپلز پارٹی واقعی عوامی مفاد کے لئے کھڑی ہے یا پھر ایک بار پھر سیاسی توازن کے کھیل میں اپنا حصہ محفوظ کرنے کی تگ و دو میں ہے؟ پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی بیانیہ ہمیشہ غریب عوام ، مزدور اور پسے ہوئے طبقات کے گرد گھومتا رہا ہے۔ مگر گزشتہ ڈیڑھ دہائی کی سیاست کا ریکارڈ دیکھا جائے تو پارٹی اکثر ایسے مواقع پر حکومت کا حصہ یا سہارا بنی رہی ہے جہاں عوامی پالیسیوں پر سنجیدہ مزاحمت کی ضرورت تھی۔ وہ مزاحمت جو نظام بدلتی ہے، نہ کہ وہ احتجاج جو صرف پریس کانفرنس تک محدود رہتا ہے۔سولر پالیسی کے معاملے میں بھی یہی منظرنامہ بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ توانائی بحران، مہنگی بجلی، آئی پی پیز کے معاہدے، اور گردشی قرضے یہ سب وہ مسائل ہیں جنہوں نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ ایسے میں سولر توانائی کی پالیسی یقینا ایک بڑا قومی مسئلہ ہے۔ اگر اس میں خامیاں ہیں، اگر اس کے ذریعے مخصوص گروہوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، یا اگر یہ عام صارف کے لئے بوجھ بن رہی ہے تو اپوزیشن جماعتوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ ڈٹ کر کھڑی ہوں۔ لیکن یہاں سوال نیت اور تسلسل کا ہے۔پیپلز پارٹی کا سیاسی رویہ اکثر بیان بازی کی مزاحمت تک محدود رہتا ہے۔ وہ پارلیمنٹ کے اندر سخت تقاریر کرتی ہے، میڈیا پر تحفظات کا اظہار کرتی ہے، مگر جب فیصلہ کن مرحلہ آتا ہے ، بجٹ ووٹنگ ہو، قانون سازی ہو یا اعتماد کا ووٹ ، تو پارٹی کا کردار اچانک سیاسی استحکام کے نام پر نرم پڑ جاتا ہے۔ یہی وہ تضاد ہے جو عوامی شعور میں سوالات کو جنم دیتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں۔ ماضی میں بھی کئی اقتصادی فیصلوں، ٹیکس پالیسیوں، آئی ایم ایف پروگرامز اور توانائی کے معاہدوں پر پیپلز پارٹی نے زبان سے اختلاف کیا مگر عملی سیاست میں حکومت کے لیے سہولت کار بنی رہی۔ اس طرزِ عمل نے اسے ایک ایسی جماعت کے طور پر پیش کیا ہے جو بیک وقت اپوزیشن کا تاثر بھی قائم رکھنا چاہتی ہے اور اقتدار کے ڈھانچے سے الگ بھی نہیں ہو چاہتی۔ سولر پالیسی پر تحفظات کی حالیہ لہر بھی اسی سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ محسوس ہوتی ہے۔ پارٹی جانتی ہے کہ بجلی اور توانائی کے مسائل عوامی غصے کا سب سے بڑا ذریعہ بن چکے ہیں۔ ایسے میں اگر وہ مکمل خاموشی اختیار کرے تو اس کی عوامی ساکھ مزید متاثر ہو گی۔ اس لئے سخت بیانات دینا سیاسی ضرورت ہے۔ مگر کیا وہ واقعی حکومت سے علیحدگی اختیار کرے گی؟ کیا وہ پارلیمانی تعاون روک کر حکومتی مشکلات بڑھائے گی؟ یا پھر یہ محض دبا بڑھانے کی حکمت عملی ہے تاکہ پسِ پردہ سیاسی یا انتظامی فوائد حاصل کیے جا سکیں؟پاکستانی سیاست میں تحفظات اکثر اصولی اختلاف نہیں بلکہ مذاکراتی ہتھیار ہوتے ہیں۔ ایک جماعت حکومت میں رہتے ہوئے بھی اپوزیشن کا تاثر دیتی ہے تاکہ عوامی ناراضی سے بچ سکے۔ یہی دوغلا پن جمہوری عمل کو کمزور کرتا ہے۔ کیونکہ اس سے حقیقی اپوزیشن کی جگہ خالی ہو جاتی ہے اور حکومت کو عملی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔پیپلز پارٹی کی قیادت کو شاید یہ اندازہ نہیں کہ عوام اب محض نعروں اور بیانات سے مطمئن نہیں ہوتے۔
سوشل میڈیا نے عوامی شعور کو ایسی مہمیز لگائی ہے کہ وہ مہنگائی، بے روزگاری اور بجلی کے بلوں کے حوالے سے بیدار ہے اور یہ ادراک رکھتا ہے کہ کون سی جماعت کس موقع پر کس کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔ اگر ایک جماعت مسلسل حکومتوں کو سہارا دیتی رہے اور ساتھ ساتھ خود کو عوامی مزاحمت کی علامت بھی پیش کرے، تو یہ تضاد زیادہ دیر چھپا نہیں رہتا۔سولر پالیسی کا مسئلہ محض توانائی کا نہیں بلکہ معاشی انصاف کا مسئلہ بھی ہے۔ اگر پالیسی ایسی ہے جس میں امیر طبقہ سبسڈی لے کر سستی بجلی پیدا کرے اور متوسط و غریب صارف مہنگی گرڈ بجلی خریدنے پر مجبور ہو جائے، تو یہ معاشی عدم مساوات کو بڑھائے گی۔ اس پر آواز اٹھانا ضروری ہے۔ مگر آواز اٹھانے کا مطلب یہ نہیں کہ پسِ پردہ وہی نظام مضبوط کیا جائے جس پر تنقید کی جا رہی ہے۔پیپلز پارٹی کی سیاسی تاریخ قربانیوں، جمہوری جدوجہد اور آمریت کے خلاف مزاحمت سے بھری ہوئی ہے۔ مگر حالیہ برسوں میں اس کی سیاست زیادہ تر اقتدار کے توازن میں اپنا حصہ محفوظ رکھنے تک محدود نظر آتی ہے۔ سندھ میں حکومت، مرکز میں شراکت داری، اور ہر حکومت کے ساتھ مفاہمت کی گنجائش ، یہ سب اس تاثر کو مضبوط کرتے ہیں کہ پارٹی اصولی اپوزیشن کے بجائے مفاداتی سیاست کر رہی ہے۔جمہوریت میں اختلافِ رائے ضروری ہے، مگر اس کی ساکھ اس وقت بنتی ہے جب الفاظ اور عمل میں ہم آہنگی ہو۔ اگر ایک جماعت عوام کے سامنے حکومت پر سخت تنقید کرے اور ایوان کے اندر حکومت کے لئے سہارا بن جائے، تو وہ صرف جمہوریت ہی کو نہیں بلکہ جمہوری احتساب کے عمل کو بھی کمزور کرتی ہے۔ کیونکہ پھر عوام کے پاس حقیقی متبادل نہیں بچتا۔سولر پالیسی پر پیپلز پارٹی کی حالیہ دھمکی اگر واقعی سنجیدہ ہے تو اسے عملی اقدامات سے ثابت کرنا ہو گا۔ پارلیمنٹ میں واضح موقف، قانون سازی میں مزاحمت، اور حکومتی فیصلوں کی کھلی مخالفت ، یہی وہ راستے ہیں جو سیاسی ساکھ کو مضبوط کرتے ہیں۔ ورنہ یہ معاملہ بھی ماضی کی طرح ایک اور سیاسی ڈرامہ سمجھا جائے گا جو کچھ دنوں بعد خاموشی سے ختم ہو جاتا ہے۔ عوام اب یہ سوال پوچھنے لگے ہیں کہ کیا ہماری سیاست میں کوئی جماعت ایسی ہے جو اقتدار سے باہر رہ کر بھی اصولی موقف اختیار کر سکے؟ یا سب کی سیاست اقتدار کے قریب رہنے کی حد تک لچکدار ہو چکی ہے؟ پیپلز پارٹی کے لیے یہ لمحہ آزمائش ہے۔ وہ چاہے تو واقعی عوامی مفاد کی سیاست کا راستہ اختیار کر سکتی ہے، یا پھر وہی پرانا راستہ ، سخت بیانات، نرم رد عمل کی روش!تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جماعتیں اپنے نعروں سے نہیں بلکہ اپنے فیصلوں سے پہچانی جاتی ہیں۔ اگر پیپلز پارٹی واقعی سمجھتی ہے کہ سولر پالیسی عوام کے خلاف ہے، تو اسے صرف تحفظات نہیں بلکہ واضح مزاحمت دکھانی ہو گی۔ ورنہ اس کی سیاست ایک بار پھر اسی دائرے میں گھومتی نظر آئے گی جہاں اپوزیشن کا کردار بھی اقتدار کی سیاست کا حصہ ہوتا ہے۔بالآخر عوام کو بجلی کا بل ادا کرنا ہے، سیاسی بیانات نہیں۔ انہیں سستی توانائی، شفاف پالیسی اور منصفانہ نظام چاہیے۔ جو جماعت بھی اس مطالبے کے ساتھ سچائی اور مستقل مزاجی سے کھڑی ہو گی، وہی سیاسی طور پر زندہ رہے گی۔ باقی سب بیانات تاریخ کے شور میں گم ہو جائیں گے۔