Search
Close this search box.
جمعرات ,11 جون ,2026ء

حرف کی حرمت اور اقتدار کی دہلیز

تاریخ کے اوراق میں جب بھی اہلِ قلم کا ذکر آتا ہے تو ان کے ناموں کے ساتھ صرف ان کی تحریریں نہیں لکھی جاتیں، ان کے عہد، ان کے موقف،ان کی حریت فکراور ان کی جرت بھی لکھی جاتی ہے۔ طاقت کے ایوانوں میں بیٹھنے والے حکمران تو بدلتے رہتے ہیں، سلطنتیں بنتی اور بگڑتی رہتی ہیں، مگر قلم کی روشنائی اگر ضمیر کے خون سے روشن ہو تو صدیوں بعد بھی زندہ رہتی ہے۔ اسی طرح جب قلم کی منقار سرکار کی خوگر حمد بن جائے تو اس کی ہر صدا میں خواہش ذات چھپی ہوتی ہے، تاریخ اسے اپنے حاشیوں میں بھی جگہ دینے سے گریز کرتی ہے۔انسان کی کمزوریاں ازل سے ایک جیسی ہیں۔ ضرورتیں سب کو لاحق ہوتی ہیں۔ رزق کی فکر، خاندان کی ذمہ داریاں، معاشی دبا اور بہتر زندگی کا خواب کسی ایک طبقے یا فرد کا مسئلہ نہیں۔ سوال کبھی یہ نہیں رہا کہ کس کو ضرورت ہے اور کس کو نہیں۔ اصل سوال ہمیشہ یہ رہا ہے کہ ضرورت کے مقابلے میں انسان اپنے ضمیر کی کتنی قیمت لگاتا ہے۔صحافت، دانشوری اور تجزیہ نگاری کا شعبہ بھی اس آزمائش سے مستثنیٰ نہیں۔ اہلِ قلم کا اصل امتحان اس وقت شروع ہوتا ہے جب اقتدار ان کے دروازے پر دستک دیتا ہے۔ جب مراعات، قربتیں، سفری سہولیات، سرکاری تقریبات اور طاقتور حلقوں کی پذیرائی ان کے سامنے دست بستہ کھڑی ہوتی ہے۔ اس موقع پر کچھ لوگ حرف کی حرمت بچا لیتے ہیں اور کچھ لوگ لفظوں کو بازار کی زینت بنا دیتے ہیں۔پاکستان کی سیاسی تاریخ ایسے کرداروں سے بھری پڑی ہے جو اپنے زمانے میں غیر جانبداری، دیانت داری اور حق گوئی کے استعارے سمجھے جاتے تھے۔ ان کی تحریروں کو سند مانا جاتا تھا، ان کے تجزیوں کو عوامی رائے کی ترجمانی تصور کیا جاتا تھا، مگر وقت نے ثابت کیا کہ بعض اوقات دانشوری کا بلند ترین منار بھی اقتدار کی آندھی کے سامنے ریت کا ڈھیر ثابت ہوتا ہے۔گزشتہ چند برسوں کے سیاسی حالات نے اس حقیقت کو ایک بار پھر آشکار کیا۔
پاکستان میں سیاسی کشمکش اپنی انتہا کو پہنچی۔ عوامی رائے، ریاستی ادارے، سیاسی جماعتیں اور میڈیا سب ایک غیر معمولی بحران کے حصار میں آ گئے۔ ایسے ماحول میں عوام کی نظریں ان لوگوں پر تھیں جو خود کو حقائق کا ترجمان اور اعداد و شمار کا ماہر قرار دیتے تھے۔یہ وہ لوگ تھے جو ٹیلی ویژن اسکرینوں پر بیٹھ کر انتخابی رجحانات کی تشریح کرتے تھے، جو سیاسی جماعتوں کی مقبولیت کو گراف اور جدولوں میں بیان کرتے تھے، جو اپنے تجزیوں کو سائنسی اور غیر جانبدار ثابت کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ ان کے دعوے بڑے تھے اور اعتماد اس سے بھی بڑا۔مگر پھر ایک عجیب منظر سامنے آیا۔وہی لوگ جو کل تک زمینی حقائق کا حوالہ دیتے تھے، اچانک طاقت کے مراکز کی زبان بولنے لگے۔ وہی تجزیہ کار جو عوامی رجحانات کو سمجھنے کا دعویٰ کرتے تھے، عوامی احساسات کے برعکس نتائج کی نوید سنانے لگے۔ گویا ان کے سامنے موجود اعداد و شمار سے زیادہ اہم وہ خواہشات تھیں جو اسلام آباد کے ایوانوں میں گردش کر رہی تھیں۔گلگت بلتستان اور کشمیر کے سیاسی منظرنامے کو بھی اسی زاویے سے پیش کیا گیا۔ ایسے تاثر پیدا کیے گئے جیسے ان خطوں کے عوام پہلے ہی اپنا فیصلہ کر چکے ہوں۔ ایسے بیانیے تشکیل دیے گئے جن سے یہ محسوس ہوتا تھا کہ سیاسی مقابلہ محض رسمی کارروائی ہے اور نتیجہ پہلے سے طے شدہ حقیقت۔سیاسی تجزیے کا بنیادی اصول یہ ہے کہ وہ عوامی رجحانات کو بیان کرے، نہ کہ طاقتور حلقوں کی خواہشات کو۔ مگر جب تجزیہ نگار عوام کی نبض چھوڑ کر اقتدار کی راہداریوں میں سچ تلاش کرنے لگے تو پھر تجزیہ، تجزیہ نہیں رہتا بلکہ بیانیہ سازی بن جاتا ہے۔یہ پہلا موقع نہیں ۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ ہر دور میں کچھ اہلِ قلم نے طاقت کے گھوڑے پر شرط لگائی۔ ایوب خان کے دور میں بھی ایسے دانشور موجود تھے جو صدارتی نظام کو پاکستان کا مقدر قرار دیتے تھے۔ جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں بھی ایسے تجزیہ کار تھے جو فوجی آمریت کو قومی ضرورت ثابت کرتے تھے۔ جنرل مشرف کے دور میں بھی روشن خیالی کے نام پر اقتدار کے جواز تلاش کئے جاتے رہے۔ہر دور میں ایک دلیل مشترک رہی: طاقت ہی حقیقت ہے۔مگر تاریخ کا سبق یہ ہے کہ طاقت کبھی مستقل حقیقت نہیں ہوتی۔ مستقل حقیقت صرف عوام ہوتے ہیں۔ مسئلہ صرف غلط تجزیے کا نہیں۔ سیاست میں غلطی ہر شخص سے ہو سکتی ہے۔ اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب غلطی مسلسل ایک ہی سمت میں ہو۔ جب ہر پیش گوئی طاقتور کے حق میں اور ہر تجزیہ مقتدر حلقوں کی خواہشات کے مطابق نکلے تو پھر سوال اٹھنا شروع ہو جاتے ہیں۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا واقعی یہ تجزیہ تھا یا کسی بڑے منصوبے کا فکری جواز؟کیا واقعی یہ اعداد و شمار بول رہے تھے یا پھر طاقت کے ایوانوں کی بازگشت سنائی دے رہی تھی؟یہ سوال اس لیے اہم ہیں کیونکہ صحافت اور دانشوری کا سرمایہ اعتماد ہوتا ہے۔ ایک بار اعتماد ٹوٹ جائے تو لاکھ الفاظ بھی اس کی تلافی نہیں کر سکتے۔
انتخابات کے بعد جب زمینی حقائق اور عوامی ردعمل سامنے آیا تو بہت سے دعوے اپنی موت آپ مر گئے۔ وہ یقین جو ٹیلی ویژن اسکرینوں پر نظر آتا تھا، وہ اعتماد جو کالموں میں جھلکتا تھا، وہ پیش گوئیاں جو حتمی فیصلوں کے انداز میں بیان کی جاتی تھیں، سب وقت کی عدالت کے کٹہرے میں کھڑی دکھائی دیں۔یہاں مسئلہ کسی ایک جماعت، کسی ایک سیاست دان یا کسی ایک انتخاب کا نہیں۔ مسئلہ ایک بڑے فکری بحران کا ہے۔ وہ بحران جس میں اہلِ قلم اپنی اصل ذمہ داری بھول جاتے ہیں۔قلم کا کام اقتدار کی ترجمانی نہیں، معاشرے کی ترجمانی ہے۔قلم کا فرض حکومتوں کو خوش کرنا نہیں، عوام کو آگاہ کرنا ہے۔قلم کی عظمت اس میں نہیں کہ وہ طاقتور کے ااتھ کندھا ملا کر کھڑا ہو، بلکہ اس کی دیانت یہ ہے کہ وہ سچ کے قریب کھڑا ہو۔بدقسمتی سے ہمارے ہاں بہت سے لوگ یہ سمجھ بیٹھے کہ اقتدار کے قریب ہونا ہی کامیابی ہے۔ انہیں لگا کہ عوام کی یادداشت کمزور ہے، تاریخ جلد بھول جاتی ہے اور سچ کو ہمیشہ دبایا جا سکتا ہے۔ مگر تاریخ کا مزاج مختلف ہے۔ وہ خاموش رہتی ہے مگر بھولتی نہیں۔وقت گزرنے کے بعد لوگ یہ نہیں پوچھتے کہ فلاں صحافی کو کون سا اعزاز ملا تھا، فلاں تجزیہ کار کس سرکاری وفد کے ساتھ بیرون ملک گیا تھا یا فلاں دانشور کس طاقتور شخصیت کے قریب تھا۔ لوگ صرف یہ پوچھتے ہیں کہ جب سچ بولنا مشکل تھا تو اس نے کیا کہا تھا؟ یہی سوال اصل میراث طے کرتا ہے۔ضرورتیں آج بھی سب کو ہیں۔ مہنگائی آج بھی ہر گھر کا مسئلہ ہے۔ معاشی دبا آج بھی ہر شخص محسوس کرتا ہے۔ مگر انہی حالات میں کچھ لوگ اپنے ضمیر کی حفاظت بھی کرتے ہیں۔ یہی لوگ تاریخ کے اصل کردار بنتے ہیں۔باقی سب وقتی شور کی مثل ہوتے ہیں۔شاید اسی لیئے اہلِ دانش کہتے ہیں کہ حرف محض آواز نہیں ہوتا، ایک امانت ہوتا ہے۔ جب یہ امانت اقتدار کی دہلیز پر رکھ دی جائے تو لفظ زندہ نہیں رہتے، صرف جملے باقی رہ جاتے ہیں۔اور جملوں کی عمر ہمیشہ اقتدار کی عمر سے زیادہ نہیں ہوتی۔مگر سچ کا ایک جملہ، اگر دیانت داری سے لکھا گیا ہو، کبھی کبھی پوری صدی پر بھاری پڑ جاتا ہے۔اور اگر اس سے نیت کا فتور جھلکے تو یہ ایک بھیانک خواب بن جاتا ہے مستقبل کا تاریک استعارہ بن جاتا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں