مخدوم شاہ محمود کی استقامت اور مہر بانو بیٹی
صبح سورج کے آنکھ کھولنے سے پہلے ملتان سے ایک سو چالیس کلو میڑ دور میاں چنوں کے مضافات میں اپنے گائوں کو روانہ ہوا تو میرے شہر پر آج بھی پچھلے تین روز کی طرح نیم سیاہ بادل منڈلا
صبح سورج کے آنکھ کھولنے سے پہلے ملتان سے ایک سو چالیس کلو میڑ دور میاں چنوں کے مضافات میں اپنے گائوں کو روانہ ہوا تو میرے شہر پر آج بھی پچھلے تین روز کی طرح نیم سیاہ بادل منڈلا
فکر و فلسفہ کی دنیا میں کچھ نام ایسے ہیں جنہوں نے اپنے زمانے کی فکری روش میں ارتعاش پیدا کر دیا اورمستقبل کے لئے نئی فکری ی و تہذیبی راہیں متعین کرنے کی سوچ پر عمل پیرا ہوئے۔ جرمن
فلسفہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر مغرب و مشرق بے بہا لکھا گیا مگر مفکرین اور مورخین آج بھی اس موضوع پرایک تسلسل کے ساتھ لکھ رہے ہیں ۔وطن پاک کے فلاسفہ نے اس پر مختلف حوالوں سے بہت
اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لئے ہمیں فلسفہ کے مفہوم اور ’’نبوت‘‘کے مقاصد پر غور کرنا ہوگا اور یہ کہ ان دونوں کی ماہیت، دائرہ کار اور اظہار کے طریقے کا ادراک حاصل کرنا ہوگا کیونکہ اس کے
فلسفہ انسانی شعور کی گہرائیوں میں اترنے کائنات، انسان اور زندگی کے بنیادی سوالات کے جوابات تلاش کرنے کا علم ہے۔ یہ ایک ایسا علم ہے جو نہ صرف عقل و منطق کو بروئے کار لاتا ہے بلکہ اخلاق، وجود،
کسی بھی قوم کی معیشت کی بنیاد استحکام، خود انحصاری اور مالی نظم و ضبط پر رکھی جاتی ہے ،لیکن جب کو ئی ریاست اپنے اصل فرائض کو بھول کر اللوں تللوں میں لگ جاتی ہے تو ریاست کاخزانہ قرضوں
تحریک انصاف پاکستان کی سیاست میں ایک ایسا نام ہے جو دو دہائیوں کی سیاسی جدو جہد ، ایک کرکٹ کے ہیرو کی طلسماتی قیادت ، تبدیلی اور سستے انصاف کے نعرے پر وجود میں آئی ۔تاہم 9 مئی 2023
کہنے کو یہ ایک مالی سال کے بجٹ کا آغاز ہے، مگر سننے والے کانوں میں یہ بجٹ نہیں، کفن کی سلائی کی آواز ہے۔ سرکاری کاغذوں میں اسے ’’ترقی کا منشور‘‘ کہا گیا ہے، مگر گلیوں میں یہ فاقہ
سر تا پا ندامت کے احساس میں ڈوبا انسان کیا ہی لکھ سکتا ہے ،دو دن قبل برادر محترم سمیع اللہ ملک نے لنک بھیج دیا تھا، اور دعوت نامہ بھی سوالوں کے سیشن میں شرکت کرنی ہے ۔میں آٹھ
اکیسویں صدی کے عالمی منظر نامے پر نگاہ ڈالیں تو ایک بار دل لرز جاتا ہے ،مخمصے اور واہمے گھیر لیتے ہیں ،رگ جاں میں آندھیاں سی چل پڑتی ہیں ۔آج کی عالمی سیاست میں عسکری طاقت اور بحری تسلط