صبح سورج کے آنکھ کھولنے سے پہلے ملتان سے ایک سو چالیس کلو میڑ دور میاں چنوں کے مضافات میں اپنے گائوں کو روانہ ہوا تو میرے شہر پر آج بھی پچھلے تین روز کی طرح نیم سیاہ بادل منڈلا رہے تھے ،سوچا آج بھی یونہی آنکھ مچولی کھیلتے کھلتے کہیں اور برس لیں گے ۔مجھے کیا معلوم تھا ابھی آدھا سفر بھی طے نہیں ہوگا کہ جل تھل مچ جائے گا ۔گائوں پہنچا تو دور دور تک سوائے پانی اور تیز ہوا کے شورسے بائولے پن کی حد تک ایک دوسرے کی سر پھٹول میں مصروف تھے۔
آج جاتے ہوئے میں نے اپنے کیکروں کے جنگل کی رکھوالی کرنے والوں کو بھی نہیں بتایا تھا کہ اب مہمان نوازی کرنے والا مخلص طبقہ دیہاتوں میں باقی رہ گیا ہے جو خالص دیسی گھی میں پکے کھانوں سے تواضع کرتا ہے۔سورج تو یہاں بھی شام سے پہلے تک دکھائی نہیں دیا ۔گائوں میں موبائل نحوست سے بھی دن بھر کو چھٹکارا ملتا ہے‘ پر اس بار شام چڑھے جب گھرپہنچا فیس بک کے کھلتے ہی منظر نے دکھ سے چور چور کیا وہ یہ تھا کہ پی پی پی کے ایک بہت ہی سنجیدہ اور مہذب عہدے دار دوست نے ایک پوسٹ چڑھائی ہوئی تھی جسے دیکھ کر پہلی نظر لگا کو ئی ماڈل ہے، مگر غور سے دیکھا تو مخدومہ بی بی مہربانو قریشی تھیں ایک نہایت مہذب باپ کی شائستہ اور پر وقار بیٹی ،جو صدیوں بعد قبیلہ سے سیاسی جدو جہد کی علامت بن کر آسمان سیاست پر چمکیں اور فارم سینتالیس کے گھاٹ اتار دی گئیں اور باقی کی کسر ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ خانوادے کے شائستہ و پروقارجیالے نے پوری کردی۔
یہ سوال فقط ایک فرد کا نہیں، بلکہ پورے معاشرتی و سیاسی نظام کا آئینہ ہے ۔ہماری سیاست اور ہمارے سماج میں عورت کے کردار کو ہمیشہ محدود رکھا گیا ہے ،کبھی غیرتکے نام پر ،کبھی رسم و رواج کے بندھنوں کی وجہ سے اور کبھی عقیدے اور مسلک کی بنیاد پر ۔مگر جب کوئی بیٹی، وہ بھی سیاسی گدی نشین خانوادیسے،کھل کر سیاسی جدوجہد کے کارزار میں اترے ،تو وہ فقط صنفی بغاوت نہیں کرتی بلکہ اسٹیٹس کو کو چیلنج کرتی ہے۔بیٹی کا سیاست میں قدم رکھنا ایک اعلان ہے کہ اب کسی بھی قبیلے کی نسل نو صرف علامتی سیاسی نمائندگی پر محدود نہیں رہے گی بلکہ فیصلہ سازی میں برابر کے کردار مانگے گی۔
قریشی خانوادے کی اس ہونہاربیٹی نے آسان راستہ اپنانے کی بجائے وہ کٹھن راہ چنی ہے جس کا موروثی سیاست کے اندر بھی خواتین کو اختیار ودیعت نہیں کیا جاتا۔ہمارے سیاسی کلچر میں خواتین سیاسی جلسوں کی رونق یا انتخابی جمالیات کی خاطر شرکت کے لئے ہوتی ہیں اور اگر وہ سیاسی میدان میں کود پڑیں تو سیاسی حریف اس عورت کی اہلیت سے زیادہ اس کے لباس ،رشتے یا کردار کو نشانہ بنانے کی سعی بد میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں ۔ قریشی خاندان کی یہ بہادر اور نڈر بیٹی مہر بانو ان تمام روایات سے ٹکرا گئی ہیں ۔وہ فقط اپنے باکردار نیک سیرت و پاک طینت والد کی سیاسی وارث نہیں بلکہ نئی نسل کی ترجمان ہیں،وہ نسل جو ریاستی ظلم و جبر اور صعبوتوں کا سامنا کرنے پر آمادہ و تیار ہے ۔ہماری معاشرتی ساخت کے اعتبار سے اب بیٹیوں کی اعلیٰ تعلیمی صلاحیتوں کو تو تسلیم کر لیا گیا ہے مگر اقتدار میں حصہ طلب کرنے والی کو آج بھی پسندیدہ نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔ہمارے خاندانی نظام میں بیٹی کو چاردیواری میں رہ کر اطاعت گزاری کی تربیت دی جاتی ہے ،قیادت کے قابل اب بھی نہیں گردانا جاتا ،اسے خاموشی سکھائی جاتی ہے ،احتجاج نہیں، اسے سہارا بننے کی اجازت مرحمت کی جاتی ہے ،رہنما بننے کی نہیں۔
بیٹی جب ان اصولوں کے خلاف بغاوت کرتی ہے تو وہ فقط سیاست نہیں پورے سماج کے سماجی سانچوں سے لڑتی ہے ۔پاکستان کا آئین عورت کو مرد کے برابر حقوق تفویض کرتا ہے آرٹیکل 25 میں واشگاف الفاظ میں تحریر ہے کہ ’’تمام شہری قانون کے سامنے برابر ہیں ،مساوی تحفظ کے حق دار ہیں ،کوئی امتیاز جنس کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا‘‘اسی طرح سیاسی جماعتوں کے منشور خواتین کی سیاسی حیثیت کو یقینی بنانے پر زور دیتے ہیں مگر عملی طور پر نہیں حراسانی کے خلاف قوانین کی موجودگی میں ہر سطح پر حراسانی کا رویہ روا رکھا جاتا ہے۔
مہربانو مضبوط ،نڈر،اور مزاحمت کی علامت بن کر ابھری ہیں ،قریشی خاندان کی ، پاکستان کی یہ بیٹی Victim نہیں Victor بن کر سیاست کے افق پر تابندہ ستارے کی مانند طلوع ہوئی ہے ،یہ سرائیکی وسیب کی عورتوں کے لئے ، شعور، خودی اور پہچان کاسبق ہے ۔یہ وہ انوکھی لاڈلی نہیں جو کھیلنے کو چاند مانگتی ہے ۔یہ اب بھی وہی بیٹی ہے جو صدیوں سے خواب دیکھ رہی تھی مگر اب آنکھیں کھول کر ان خوابوں کی تعبیر خود مانگنے پر قادر ہوئی ہے۔ایک انتخابی جلسے میں انہوں نے کیا خوب کہا کہ ’’میں باپ کی وراثت کا زیور نہیں ،چراغ ہوں مجھے جلنا آتا ہے ‘‘۔یقینا اس روشنی نے کچھ چہرے چمکائے ،کچھ سائے چھپا دے،وہ اپنا حق مانگنے ،مصحف سیاست پر اپنا نام لکھوانے نکلی ہے ،وہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی لاڈلی بیٹی ہے ،اپنی جماعت کی سرکردہ لیڈر ہے ۔خدارا ! سرائیکی وسیب کی اس بیٹی کے ساتھ وہ سلوک نہ کریں جو مسلم لیگ نے محترمہ نصرت بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے ساتھ کیا تھا۔یہ فقط شاہ محمود کی نہیں پورے سرائیکی وسیب کی بیٹی ہے ،یہ بھی دختر پاکستان ہے۔