فکر و فلسفہ کی دنیا میں کچھ نام ایسے ہیں جنہوں نے اپنے زمانے کی فکری روش میں ارتعاش پیدا کر دیا اورمستقبل کے لئے نئی فکری ی و تہذیبی راہیں متعین کرنے کی سوچ پر عمل پیرا ہوئے۔
جرمن فلاسفر فریڈرک نطشے اور برصغیر کے شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال دو ایسے فکری امام ہیں ، جنہوں نے انسان کی انفرادی حیثیت، اس کی معنویت، اس کی اخلاقی و روحانی جہت، اور اس کے مقام و مقصدِ حیات پر گہرے غور و فکر سے نئے فکری زاویے تراشے، اگرچہ ان دونوں کا تہذیبی و مذہبی پس منظر یکسر مختلف ہے ایک مغربی معاشرے کا مذہب بیزار ملحد اور باغی فلسفی، دوسرا اسلامی روایت کے احیا کا گرویدہ مفکر۔تاہم ان دونوں کے فکری منبعے جدا جدا تھے، اور ان کی فکری جستجو میں کئی مقامات پر مماثلت بھی ہے ۔
نطشے نے جہاں مغربی تہذیب کی زوال پذیری، مذہب کی رسمی گرفت، اور انسان کی روحانی و اخلاقی پستی پر شدید تنقید کی، وہیں اس نے ’’فوق البشر‘‘ (bermensch) کا تصور پیش کر کے انسان کو خود اپنی تقدیر بنانے کا اختیار بھی ودیعت کیا۔ دوسری طرف اقبال نے ’’مردِ مومن‘‘ اور ’’خودی‘‘ کا تصور پیش کر کے انسان کو خدا کے نور سے جڑی ایک بلند ہستی کے طور پر پیش کیا، جو روحانیت، عمل، اور اخلاق کا پیکر ہے۔
اقبال نے نطشے کی فکر کو روح کی گہرائی سے سمجھ کر اس پر تنقیدی نگاہ ڈالتے ہوئے اس کے الحادی و مادی پہلو کو رد کیا اور اسے ایک روحانی و اخلاقی بنیاد فراہم کرنے کی کوشش کی۔ ہم اقبال اور نطشے کے درمیان فکری مماثلتوں اور اختلافات کا مطالعہ کریں تو واضح طور پر یہ ادراک حاصل ہوتا ہے کہ اقبال نے نطشے کے افکار سے استفادہ کیا، ان میں بعض مقامات وہ بھی ہیں جہاں اقبال نے نطشے کے فلسفے کو روحانی زاویہ دے کر اس کی اصلاح کی کوشش کی۔ اس تقابل سے نہ صرف دو بڑے فکری نظاموں کا مکالمہ سامنے آتا ہے بلکہ مغرب و مشرق کی فکری کشمکش کی جھلک بھی دکھائی دیتی ہے ۔
علامہ اقبال اور فریڈرک نطشے کے درمیان فکری اعتبار سے بعض پیچیدہ مماثلتیں بھی پائی جاتی ہیں۔ایک مغربی ملحد ہے ،دوسرا اسلامی تہذیب اور اقدار و روایات کا نمائندہ۔لیکن انسان،خودی ، سماج ،مذہبی اخلاقیات کے حوالے سے دونوں کے نظریات میں یکسانیت کی جھلک نمایاںہے ۔نطشے فرد کو سماجی روایات اور جھوٹے اخلاقی اصولوں کی غلامی کے حصار سے نکالنا ضروری سمجھتا ہے ۔تاکہ وہ ’’فوق البشر‘‘ بن سکے۔جبکہ علامہ اقبال نے فرد کو خودی کے شعورکے ذریعے بیدار کیا تاکہ وہ اپنی ذات کی تکمیل کر ے اور کرہ ارض کی خلافت کے منصب پر فائز ہو۔دونوں نے تقلیدی جمود اور روایتی غلامی کے خلاف آواز بلند کی اور ماضی کی اقداروروایات کے چنگل سے فرد کو آزاد کرکے نئی اخلاقی روایات مرتب کی راہ پر ڈالا۔
اقبال نے ’’ جمود زدہ تقلید ، ترک دنیا پر مبنی تصوف اور اور غیر تخلیقی ماضی پرستی کو رد کیا‘‘ اقبال انسان کو ایک تخلیقی ہستی تصور کرتے ہیں۔اقبال اور نطشے دونوں نے تخلیق، تجدید اورحرکت پر زوردیا۔نطشے نے کہا ’’زندگی کی اصل قوت “will to power” یعنی ارادہ برائے طاقت ہے جو فرد کو عظمت کی راہ پر لے جاتا ہے ‘‘۔
اقبال نے خودی کو انسانی روح کی اصل پہچان قرار دیا ،جو ،اللہ سے جڑنے ، عمل صالح کرنے اورکائنات پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔’’دونوں کی مشترک رائے یہ ہے کہ:خودی اور ارادہ ایک داخلی قوت ہے جو انسان کو بلندی ،اختیار اور عزت کی طرف لے جاتی ہے‘‘ بس ان دونوں فلاسفہ میں بنیادیفرق یہ ہے کہ نطشے کی will to power خالص دنیاوی اور مادیت پر مشتمل ہے جبکہ اقبال کی خودی روحانی و اخلاقی بنیادوں پر استوار ہے ۔یہاں اختصار کے ساتھ نطشے کے افکار پر اقبال کا تنقیدی جائزہ بھی ضروری ہے ۔ اقبال نطشے کی خودی کے مادی اور غیر اخلاقی پہلو کو مسترد کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ’’ نطشے کا فوق البشر روحانیت سے خالی ہے ،خدا سے کٹا ہوا ہے‘‘۔
اقبال کا مرد مومن عاجزی اور محبت میں گندھا ہوا ہے ،جب کہ نطشے کا فوق البشر خود غرض اوربے رحم ہے۔نطشے مذہب خاص طور پر عیسائیت کو ’’غلاموں کی اخلاقیات‘‘ قرار دیتا ہے جو کمزوروں کو تسلی دیتی ہے اور طاقتوروں کمزور بناتی ہے ۔
اقبال فرماتے ہیں کہ نطشے خدا کے تصور کو انسان کی ذہنی کمزوری کا نتیجہ سمجھتا ہے۔اقبال کہتے ہیں مذہب خاص طور پر اسلام زندگی کی تخلیقی اور متحرک قوت ہے اورمذہب انسان کی فکری اخلاقی اور اجتماعی آزادی کاذریعہ ہے ۔ اقبال نطشے کے مذہب دشمن رویئے کو یورپ کے مذہبی جمود کا رد عمل قرار دیتے ہیں۔تاہم اقبال نے نطشے کے نظریات کو سراہا بھی ہے خاص طور پراس کی بغاوت حریت فکر اور قدامت پرستی سے نفرت کو قابل تحسین قرار دیا ہے ۔