Search
Close this search box.
اتوار ,07 جون ,2026ء

قرضوں کے شکنجے میں جکڑی قوم

کسی بھی قوم کی معیشت کی بنیاد استحکام، خود انحصاری اور مالی نظم و ضبط پر رکھی جاتی ہے ،لیکن جب کو ئی ریاست اپنے اصل فرائض کو بھول کر اللوں تللوں میں لگ جاتی ہے تو ریاست کاخزانہ قرضوں میں جکڑ جاتا ہے ۔بجٹ قرضوں کے سود کی ادائیگیوں کے بوجھ تلے دبتا چلا جاتا ہے ،یوں ہر آنے والی حکومت قرضوں کا ملبہ سابقہ حکومت پر ڈال دیتی ہے اور اس کاحل مزید قرضے لینے کی صورت میں نکالا جاتا ہے اسی حشر سامانی کے پیش نظر ہماری معیشت فقط عددی کھیل کا روپ دھار چکی ہے ،اشرافیہ کو اپنے سوا کسی کی فکر نہیں ،قومی معیشت کی کشتی بھنور میں ہے ،ملک نازک ترین موڑ پر کھڑا ہے ۔ایک نظریاتی مملکت کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرے والے اسلامی ملک کا رواں رواں 77 برس میں سود کے بد مست ہاتھی کے پائوں تلے روندا جا رہا ہے ۔ہر اٹھایا جانے والا قرضہ ترقی کا زینہ بننے کی بجائے قوم کے بچے بچے کے گلے کا طوق بنتا جارہا ہے ۔کسی کو کچھ خبر نہیں کہ حاصل کئے جانے والے قرضے کن مدوں پر خرچ کئے جاتے ہیں ،ان کے مصارف کیا ہیں ۔
اسٹیٹ بنک آف پاکستان کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق 2025ء سال رواں کے مئی تک کے جاری کردہ اعداد و شمار نہ صرف تشویش ناک ہیں بلکہ آئندہ نسلوں کے لئے مالی غلامی کی طرف دھکیلنے کا شاخسانہ بن رہے ہیں ۔وفاقی حکومت کے مجموعی قرضے 76،045 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں ۔جبکہ مقامی قرضوں کا بوجھ 53 اعشاریہ 460 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے ۔جو حکومت نے اندرون ملک بنکوں اور تجارتی مالیاتی اداروں اور اسٹیٹ بنک سے حاصل کئے ۔ عالمی مالیاتی اداروں ،بانڈز اور دو طرفہ قرضوں کا بوجھ 22 اعشاریہ 585 ارب روپے ہے۔اس میں سالانہ اضافہ 8 اعشاریہ 312 ارب روپے ہوتا ہے ۔ مالی سال 2024 اور 2025کے ابتدائی گیارہ ماہ میں 7131 ارب روپے قرضہ لیاگیا ،انتہا کا غضب یہ ہے کہ صرف مئی 2025 ء کے ایک مہینے میں 1109 روپے قرضہ لیا گیا یعنی تقریبا ً36 ارب روپے روزانہ کی اوسط سے ۔ان قرضوں کے لئے جانے کے پیچھے جو عوامل کارفرما ہیں وہ یہ ہیں کہ بجٹ خسارے کی بابت ہر سال آمدن اور خرچ میں ہوش ربا تفاوت ہے جو ان قرضوں ہی سے پورا کیا جاتا ہے۔اس پر ظلم یہ کہ وفاقی بجٹ کا تقریبا ً50 فیصد قرضوں کے سود کی ادائیگی کی مد میں ادا کیا جاتا ہے ۔
اس پر مستزاد یہ کہ کرنٹ اکائونٹ خسارہ بیرونی قرضوں کو نا گزیر بناتا ہے ۔اس پر دردناک المیہ یہ کہ ٹیکس جی ڈی پی کی شرح 10 سے 11 فیصد کے درمیان چکراتا رہتا ہے جو دنیا کی کم ترین سطح پر شمار ہوتاہے۔غرض ان ناں سٹاپ قرضوں کے نتائج یہ رونما ہوتے ہیں کہ سودکا بوجھ فزوں تر ہوجاتا ہے ۔جس کی وجہ سے پبلک سیکٹرڈیویلپمنٹ پروگرام مسلسل تہہ و بالا ہوتا رہتا ہے اس سے سب سے زیادہ اثر صحت ،تعلیم اور انفراسٹرکچر پر پڑتا ہے اور معاشی خود مختاری کے سارے خواب بکھر جاتے ہیں ۔کرنسی کی ویلیو گر جاتی ہے جس کی وجہ سے مہنگائی آسمان کو چھونے لگتی ہے عام آدمی کا جینا حرام ہونے کے ساتھ متوسط طبقہ غربت و افلاس کی زد میں آتا چلا جاتا ہے ۔مختصر یہ کہ جب تک اخراجات میں کفایت شعاری نہیں برتی جاتی،وزیروں ،مشیروں اور اسٹیبلشمنٹ کی عیاشیوں اور فضول خرچیوں پر پابندی عائد نہیں کی جاتی ۔ملکی ترقی اور معیشت کے سنبھلنے کا سوچنا بھی کار ادق ہے اور قوم کے قرضوں کے شکنجے میں جکڑیوجود کو کسی طور نجات نہیں مل سکتی۔

یہ بھی پڑھیں