انسانی زندگی کی سب سے گہری اور پائیدار کیفیات میں ایک کیفیت ایسی ہے جسے نہ مکمل طورپربیان کیاجاسکتاہے اورنہ ہی اس سے فرارممکن ہے۔انسان کی زندگی میں کچھ سوال ایسے ہوتے ہیں جوزبان سے ادانہیں ہوتے مگردل میں مسلسل دستک دیتے رہتے ہیں۔ ایک نامعلوم سی کمی،ایک بے نام سی اداسی،ایک انجاناساکھنچاؤ جودولت، رشتوں، کامیابیوں اور آسائشوں کےباوجودختم نہیں ہوتا۔ انسان کامیاب ہوتاہے،تعلقات قائم کرتاہے، ہنستاہے،آگے بڑھتاہے مگراس سب کے باوجوددل کے کسی گوشے میں یہ احساس زندہ رہتا ہے کہ کچھ ہے جو چھن گیاہے،کچھ ہےجوپیچھے رہ گیاہے، اورکچھ ہے جس کی یادروح کوبے چین رکھتی ہے۔
فطری فراق سے روحانی جستجواورطلبِ وصال کے سفرکوسمجھنے کی کوشش کرنے سے قبل روح سے وجودتک کے سفرکوسمجھنا ضروری ہے۔انسان کی ہر روح،جب اس دنیامیں قدم رکھتی ہے،ایک فطری بے چینی کے ساتھ آتی ہے۔ یہ بے چینی،جوفراقِ ازل کی یاد کاشعلہ ہے، جوخاموش رہ کرانسان کی نفسیات کے گوشوں میں حرارت پیداکرتاہے۔یہ حرارت اسے اس بات کی یاددلاتی ہے کہ اصل وطن اوراصل محبوب کہیں دورہے، اوراسی کے حصول کیلئے روح کو مسلسل طلب میں رہناہوگا۔
انسان جب اس دنیامیں آنکھ کھولتاہے تو بظاہروہ ایک مکمل نظام کے اندرپیداہوتاہے ، ماں باپ، خاندان،معاشرہ،زبان،مذہب اور تہذیب، اسے سکھایاجاتاہےکہ وہ خودکوانہی نسبتوں کے ذریعے پہچانے،انہی دائروں میں معنی تلاش کرےاورانہی حدودکے اندراپنی خوشی اورغم کوسمجھنے کی کوشش کرے مگران تمام ظاہری شناختوں کے باوجودانسان کے باطن میں ایک ایسی کیفیت ہمیشہ موجودرہتی ہےجسےنہ خاندان مٹاسکتاہے،نہ معاشرہ،نہ علم،نہ دولت،اورنہ ہی اقتدار۔انسان کے باطن میں بسی ہوئی جدائی ہی دراصل کیفیت فراق کا شعور ہے۔یہ شعورابتدامیں واضح نہیں ہوتا۔ یہ کسی ایک واقعے،کسی ایک صدمے یاکسی ایک جدائی سے پیدانہیں ہوتابلکہ انسان کی فطرت میں پہلےسےموجودہوتا ہے۔ دنیاکی جدائیاں کسی عزیزکی موت،کسی محبوب سے بچھڑنا، کسی وطن سےہجرت درحقیقت اسی اندرونی فراق کوبیدار کرتی ہیں،پیدانہیں کرتیں۔ یوں کہاجاسکتاہےکہ دنیاکی ہرجدائی، اس ایک عظیم جدائی کا عکس ہے جوانسان نے شعوری یالاشعوری طورپر پہلے ہی جھیل رکھی ہے۔
انسان جب کسی سے محبت کرتاہےاورپھراس سےمحروم ہوتاہےتواس کادردمحض اس شخص تک محدود نہیں رہتا۔وہ غم غیرمتناسب ہوتا ہے،حدسے بڑھا ہوا، اوربعض اوقات اس تعلق سے بھی بڑا محسوس ہوتا ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں انسان حیران ہوتاہے کہ آخریہ دکھ اتناگہراکیوں ہے؟ اس سوال کاجواب یہی ہےکہ یہ دکھ کسی ایک رشتےکانہیں،بلکہ اصل محبوب سے جدائی کا ہے، جوکسی ایک چہرے،کسی ایک تعلق یاکسی ایک یادکے پردے میں ظاہرہوجاتا ہے۔
یہ ایک ایسااحساس ہےجوبظاہرخاموش رہتا ہےمگرباطن میں مسلسل بولتارہتاہے؛ایک ایسی کمی جوکسی ظاہری سبب کے بغیردل میں بسی رہتی ہے؛ایک انجانی اداسی جومسرتوں کے ہجوم میں بھی اپناوجودبرقراررکھتی ہے۔یہی احساس دراصل اصل وطن کی یادہے۔وہ وطن جومٹی کانہیں تھا،وہ وطن جو زمین کا کوئی خطہ نہ تھا،وہ گھرجو اینٹ اورپتھرسے تعمیرنہیں ہواتھا ،وہ قربت جو جسمانی نہیں بلکہ روحانی تھی۔وہ جوآنکھوں کا تارا، دل کی ٹھنڈک،چہرے کانوراورزندگی کا سہارا ہو جو تپتی دھوپ میں سایہ بن جائے،ڈوبتے سمندر میں کنارہ ہو، تاریک راہوں میں چراغ اورصبحِ صادق کی پہلی روشنی ہو۔جس سے تعلق ایساہوجیسے پھول کاخوشبو سے،سازکانغمے سے، شعرکا شاعر سے، صانع کا صنعت سے،پرندے کاآسمان سے۔ جس کے خیال سے دل کی دھڑکنیں سنبھل جائیں،جس کی موجودگی میں اضطراب سکون میں بدل جائے،جس کاساتھ پہاڑکی مانندمضبوط ہو،جس کاہاتھ تھام کرقدم بےخوف دوڑنےلگیں،ایساتعلق جوسکون بھی ہواورزندگی بھی۔سایہ بھی ہو اور سمت بھی، چراغ بھی ہواورروشنی بھی اورپھراچانک وہ ہاتھ چھوٹ جائے،اورجب ایساتعلق اچانک چھن جائے،دل کاشیشہ کرچی کرچی ہوجائے،قدم لرزنےلگیں، راستے اندھیروں میں ڈوب جائیں، پھول مرجھا جائیں اوردل غم کےگہرے سمندرمیں اترجائے تو انسان پہلی بار یہ جانتاہےکہ جدائی محض فاصلہ نہیں بلکہ ایک داخلی زلزلہ ہے۔محبت کاسب سے بڑا امتحان موت نہیں بلکہ جدائی ہے۔یہی جدائی ہے اور جدائی محبت کاسب سے سخت امتحان۔ موت ہو یا زندگی کی کوئی اورآزمائش،محبت کے سب سے کڑےلمحےوہی ہوتے ہیں جب اپنے ان لوگوں سے بچھڑنا پڑے جن کے بغیرزندگی کاتصوربھی محال تھا۔
کبھی کوئی خاک میں اترکرجداہوجاتا ہے، اورکبھی کوئی زندہ رہ کربھی دوری کے اندھیروں میں کھوجاتاہےلیکن محبت کااصل رشتہ تو جسم سے نہیں،دل سے ہوتاہے جیسے ایک نادیدہ ڈورایک دل کودوسرے دل سے باندھے رکھتی ہے،اوریہی ڈورمحبت کووقت،فاصلے اورموت کے بعدبھی زندہ رکھتی ہے۔یہی لمحہ فراق کالمحہ ہے اور فراق ہی انسان کی روح کاسب سے گہرازخم ہے۔محبت کاسب سے سخت امتحان موت نہیں بلکہ جدائی ہے۔موت میں تویقین ہوتاہے،موت میں ایک قطعیت ہوتی ہےمگرجدائی میں انتظار، تجسس،اور امیدکا عذاب شامل ہوتاہے۔ امید اوراضطراب کانہ ختم ہونے والاسلسلہ شامل ہوتا ہے۔کبھی کوئی خاک میں اترکر جدا ہوتاہے اورکوئی زندہ رہ کرفاصلے کی دھندمیں گم ہوجاتاہے لیکن محبت جسم کی محتاج نہیں،یہ دل سے دل تک بندھا اک محبت بھرارشتہ جووقت،فاصلہ اورموت کے بعدبھی قائم رہتی ہے۔
قرآن ہمیں بتاتاہےکہ جدائی کوئی نئی بات نہیں،یہ انبیاکابھی امتحان رہی ہے۔حضرت یعقوب اپنے لختِ جگرحضرت یوسف کی جدائی میں چالیس برس تک اشک باررہے،یہاں تک کہ غم کی شدت سے آنکھوں کی بینائی بھی جاتی رہی:اوریعقوب نےان سے منہ پھیر لیا اور کہاہائےافسوس یوسف پراورغم کے سبب ان کی آنکھیں سفید ہوگئیں،مگروہ ضبط کیے ہوئے تھے۔ (یوسف:84)
حضورنبی کریم ﷺنےمکہ سےجدائی کا کرب سہا،وہ شہرجہاں بچپن کی یادیں تھیں، حضرت خدیجہ کی رفاقت تھی اورابوطالب کی شفقت مگررسولِ اکرم ﷺنےمکہ مکرمہ سےہجرت کےوقت جس دردکااظہارفرمایا،وہ محض ایک شہرسےجدائی نہ تھی بلکہ یادوں، نسبتوں اورروحانی تعلق سےبچھڑنےکاکرب تھا:اے مکہ!تومجھے کتنا محبوب ہے،اگرمیری قوم مجھےتجھ سےنہ نکالتی، تو میں تیرے سواکہیں اورسکونت اختیارنہ کرتا۔یہ الفاظ محض شہر سے محبت نہیں بلکہ یادوں، نسبتوں اورروحانی وابستگی کا اظہارتھے۔(صحیح ابن حبان)
یہ الفاظ انسانی زندگی کےہرلمحےکیلئے سبق ہیں، جدائی اورمحرومی کے باوجود،وصال کی امیداور طلب ہمیشہ موجود رہتی ہے۔اسی طرح حضرت موسی کی والدہ کااپنے جگرکے ٹکڑے شیرخوار بچے کوٹوکری میں رکھ کردریاکے سپردکرنا صبر اورتوکل کی وہ مثال ہے جس پر قرآن خودشاہدہے:ہم نے موسیٰ کی ماں کووحی کی کہ اسے دودھ پلا،پھرجب خوف ہوتواسے دریا میں ڈال دینا،نہ ڈرنانہ غم کرنا۔ ہم اس کو تمہارے پاس واپس پہنچادیں گےاور (پھر) اسے پیغمبربنادیں گے۔ (القصص:7) (جاری ہے)