لاقانونیت کا دور دورہ
لوگ ہم سے پوچھتے ہیں کہ ملک کی مجموعی صورتحال خراب سے خراب تر ہو رہی ہے۔ کوئی ایک شعبہ بھی ایسا نہیں کہ جس کی مثال دی جاسکے کہ وہ ترقی کر رہا ہے عالمی سطح پر ہمارے پاسپورٹ
لوگ ہم سے پوچھتے ہیں کہ ملک کی مجموعی صورتحال خراب سے خراب تر ہو رہی ہے۔ کوئی ایک شعبہ بھی ایسا نہیں کہ جس کی مثال دی جاسکے کہ وہ ترقی کر رہا ہے عالمی سطح پر ہمارے پاسپورٹ
حقیقی لیڈر کبھی بانجھ نہیں ہوتے۔ وہ اپنے حصے کا کام کرتے ہیں اور اپنے جیسے کئی لیڈر پیدا کرکے اس دنیا سے رخصت ہوتے ہیں۔ عالم کفر کی یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے کہ وہ جن اسلامی لیڈران
اگر آپ کی جیب میں 20 ہزار روپے ہوں اور آپ کو یہ بھی معلوم ہو کہ اس رقم سے میں نے ایک مہینے کے لئے پورے گھر کے اخراجات پورے کرنا ہیں تو آپ کیا کریں گے؟ یقیناً آپ

خاندانی نظام درہم برہم ہوچکا ہے، ایک وقت تھا جب معاشرے میں طلاق معیوب سمجھی جاتی تھی، خاندانی نظام اتنا مربوط تھا کہ ایک وقت بیاہی گئی عورت ہمیشہ کے لئے اسی مرد یعنی اپنے خاوند کے ساتھ رہنی چاہے
آپ نے اپنے اردگرد کئی ایسے لوگوں کو دیکھا ہوگا جو اپنے مہینے کے اخراجات قرض کی رقم سے پورا کرتے ہیں۔ کبھی کسی سے قرض لیا کبھی کسی اور سے اس طرح وہ اپنے گھر کے اخراجات پورا کرتے
وطن عزیز میں ہر حادثے کے بعد ایک انکوائری کمیٹی بٹھا دی جاتی ہے۔ رپورٹ پیش کرنے کے لئے اس کمیٹی کو ایک مخصوص مدت مثلاً ایک ماہ‘ تین یا چھ ماہ وغیرہ دے دی جاتی ہے۔ جس میں اس
حکومت کی ناقص پالیسیوں کے سبب زراعت کا شعبہ ہمیشہ متاثر رہا۔ زرعی ملک ہونے کے باوجود ہمارے ہاں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ہم محض چند سالوں کے لئے ہی سہی خوراک میں خودکفیل ہوئے ہوں۔ ایک سال گندم
ہمیں یاد ہے بچپن میں اکثر بڑے ہم سے یہ سوال کرتے تھے کہ بڑے ہوکر کیا بنو گے؟ جواب تقریباً ہر بچے کا ایک ہی ہوتا تھا کہ ڈاکٹر، انجینئر، پائلٹ یا وکیل،باقی شعبوں میں تو نوجوانوں کی خواہشیں