(گزشتہ سے پیوستہ)
براعظم افریقہ کے شمال مغربی ساحل پر یہ کارگو شپ دوران سفر 13 مئی کو گرانڈے ، کیپ وردے کی بندرگاہ پر رکا ، کارگو جہاز نے جبرالٹر کے قریب اسپین کی بندرگاہ پر بھی قیام کرنا تھا ، تاہم ’’مارخور لیکس‘‘ کی وجہ سے اسپین کی حکومت نے یہ کہتے ہوئے قیام کی اجازت دینے سے انکار کر دیا کہ وہ معصوم فلسطینی شہریوں کے قتل عام میں شریک نہیں ہوں گے ۔ اس پر شرمندہ ہو کر ہندوستانی جہاز آگے بڑھ گیا ۔
اصل پلان کے مطابق جہاز نے شمال مغربی اسرائیل کی بندرگاہ حیفہ جانا تھا لیکن پھر اچانک اس کو جنوبی اسرائیل کی بندرگاہ اشدود کی طرف موڑ دیا گیا جو کہ رفاہ کے بالکل قریب ہے ، یہ جہاز 29 مئی کو اشدود پورٹ پر لنگر انداز ہوا، جہاز کی منزل ہنگامی طور پر تبدیل کرنے کی دو وجوہات بیان کی جارہی ہیں ، ایک وجہ یہ ہے کہ رفاہ کے مہاجر کیمپوں پر وحشیانہ اسرائیلی بمباری شروع ہو چکی ہے اور نہتے فلسطینیوں کے اجتماعی قتل عام کیلئے اسرائیلی فوج کو اس گولہ بارود کی فوری ضرورت تھی ۔ دوسری بڑی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ مارخور لیکس کی وجہ سے چونکہ یہ سیکرٹ ’’اوپن‘‘ ہو گیا تھا کہ یہ ہندوستانی کارگو شپ گولہ بارود سے لدا ہوا ہے اس لئے جنوبی لبنان میں موجود فلسطینی اور حماس کے عسکریت پسند اسے نشانہ بنا سکتے تھے ، اس لئے اسے شمالی اسرائیل کی بندرگاہ حیفہ کی بجائے جنوبی اسرائیل میں اشدود کی بندر گاہ پر لنگر انداز ہونے کیلئے کہا گیا جسے اسرائیل ، امریکہ اور برطانیہ کے بحری بیڑوں نے اپنی حفاظت میں لیا ہوا ہے ۔
نئی دہلی اور تل ابیب کے درمیان خفیہ اسٹریٹجک گٹھ جوڑ کی تاریخ خاصی پرانی ہے ، بھارت نے چین اور پاکستان کے خلاف جنگ کیلئے اسرائیل سے 3 بلین ڈالر کا جدید ترین اسلحہ حال ہی میں خریدا ہے ، دوسری طرف حماس اسرائیل جنگ کی وجہ سے اسرائیل کو درپیش گولہ بارود کی شدید کمی سے نمٹنے کیلئے بھارت نے اپنے اسلحہ کے محفوظ ذخائر اور آرڈیننس فیکٹریوں کے منہ اسرائیل کیلئے کھول دیئے ہیں ، اشدود کی بندرگاہ پر پہنچنے والی اس تازہ ترین کھیپ میں موجود اسلحہ کی جو فہرست مارخور نے جہاز ران کمپنیوں کے ریکارڈ کے حوالے سے جاری کی ہے اس کے مطابق 29 مئی کو اشدود پورٹ پہنچنے والے اس جہاز پر راکٹ ، راکٹ انجن ، دھماکہ خیز مواد اور ٹینکوں و توپخانے کے گولے لدے ہوے تھے ، چنائی بندرگاہ سے سدھارتا لاجسٹکس کمپنی( ایس ایل سی ) نے یہ گولہ بارود بھجوایا اور اسرائیل میں اسرائیل کارگو لاجسٹکس (آئی سی ایل) نے اسے وصول کیا ۔ اب کہاں ہیں وہ نام نہاد دانشور ؟ جو یہود و ہنود گٹھ جوڑ کو محض ایک تخیلاتی خطرہ اور دائیں بازو کے دانشوروں کی ذہنی اختراع قرار دیا کرتے تھے ، مارخور نے اتنے پکے ثبوتوں کے ساتھ ایک بار پھر اس بھیانک گٹھ جوڑ کو بے نقاب کیا ہے کہ مودی سرکار کو اس خبر کی تردید کرنے کی ہمت بھی نہیں ہو رہی ۔
اسرائیل کو بھارتی میزائلوں و گولہ بارود کے خفیہ سپلائی نیٹ ورک کے پکڑے جانے پر ماسکو اور تہران سے لے کر ریاض اور دوبئی تک شدید غم و غصے کی فضا ہے ، روس اور صدر پیوٹن یہ سمجھتے ہیں کہ اگر بھارت اسرائیل کو درپیش گولہ بارود و میزائلوں کی شدید کمی کو پورا نہ کرتا تو امریکہ اور نیٹو ممالک کی پہلی ترجیح چونکہ اسرائیل ہے اس لئے یوکرین بھجوائے گئے گولہ بارود ، میزائلوں اور ڈرون طیاروں کی بڑی مقدار مغربی طاقتوں کو اسرائیل بھجوانا پڑتی ، یوں روس یوکرین جنگ میں کیف حکومت کو گولہ بارود و میزائلوں کی جس شدید کمی کا سامنا ہے اس کی وجہ سے روسی فوج کو اپنی جارحانہ پیش قدمی کی رفتار مزید بڑھانے کا موقع مل جاتا ۔ سنسنی خیز مارخور لیکس کی وجہ سے مودی سرکار کو روس ، ایران ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت اپنے مختلف ’’دوست ممالک‘‘ کے سامنے طرح طرح کی وضاحتیں پیش کرنا پڑ رہی ہیں اور اس خفیہ سپلائی کی مزید کھیپ بھجوانے کا بھی حوصلہ نہیں ہو رہا ، یوں یہ مارخور لیکس ایک طرح سے غزہ ، اور خاص طور پر رفاہ کے مظلوم فلسطینیوں کی بالواسطہ مدد بھی ہے کہ ان پر برسائے جانے والے آتش و آہن کی اسرائیل کو سپلائی میں بھی اب خاصی کمی آ جائے گی ۔