(گزشتہ سے پیوستہ)
دنیا کے جن 10 اکنامک کوریڈورز کا ہم نے اس کالم کی پہلی قسط میں ذکر کیا تھا ان میں سے 3 پاکستان سے ہو کر گذرتے ہیں ، ان میں سب سے پہلا اور مرکزی اکنامک کوریڈور گوادر اور کراچی سے شروع ہو کر براستہ اسلام آباد و گلگت بلتستان چین کے صوبے سنکیانگ کے دارالحکومت کاشغر ، وسط ایشیا اور روس تک جاتا ہے ، دوسرا پاکستانی کوریڈور بھی کراچی اور گوادر سے شروع ہوتا ہے اور 3 حصوں میں بٹ کر ایک شاخ براستہ پشاور , جلال آباد ، کابل ، مزار شریف سے ہو کر ازبکستان ، کرغزستان ، تاجکستان ، قازقستان اور روس تک جاتی ہے , دوسری شاخ کوئٹہ ، قندھار اور ہرات کے راستے ایک طرف ایران ، ترکمانستان ، ازبکستان ، قازقستان سے روس تک جاتی ہے تو دوسری طرف براستہ ترکی و یونان یورپ تک پہنچتی ہے ، تیسری شاخ براستہ زاہدان اس کوریڈور کو جنوبی ایران کے راستے عراق ، کویت ، سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، شام اور اردن سے بھی ملاتی ہے ۔ تیسرے پاکستانی اکنامک کوریڈور کی 2 شاخیں ہیں بڑی اور مرکزی شاخ لاہور سے جبکہ چھوٹی شاخ عمر کوٹ (سندھ) سے شروع ہوتی ہے ، یہ کوریڈور برما ، بنگلہ دیش ، بھوٹان ، نیپال اور ہندوستان کو چین ، روس , افغانستان , ایران ، وسط ایشیائی ریاستوں ، مشرق وسطی اور یورپ سے بھی ملاتا ہے اور گوادر و کراچی کے راستے خلیجی ممالک سے بھی جوڑتا ہے۔ ہمارے خطے کا ایک اور اہم ترین اکنامک کوریڈور ایران کی بندر گاہ چاہ بہار سے شروع ہوتا ہے اس کی 4 شاخیں ہیں ، ایک شاخ افغانستان کے راستے وسط ایشیا کو جاتی ہے ، دوسری مشہد ایران کے راستے ترکمانستان کو جاتی ہے ، تیسری تہران اور قزوین کے راستے آذر بائیجان اور روس جاتی ہے جبکہ چوتھی شاخ تہران اور تبریز کے راستے آذر بائیجان ، آرمینیا ، ترکی ، جارجیا اور روس جاتی ہے ۔ چین سے وسطی ایشیا اور یورپ جانے والے 3 بڑے اکنامک کوریڈور ہیں ، پہلا بیجنگ سے براستہ منگولیا روس کے دارالحکومت ماسکو اور اس سے آگے یورپ تک جاتا ہے ، دوسرا ارمچی سے براستہ قازقستان روس ، پولینڈ وغیرہ سے جرمنی تک جاتا ہے اور تیسرا کاشغر سے کرغزستان ، تاجکستان ، افغانستان ، ازبکستان ، ترکمانستان ، آذر بائیجان ، جارجیا ، آرمینیا اور ترکی کے راستے یونان اور اٹلی تک جاتا ہے ۔جنوب مشرق میں چین کے 2 اہم اکنامک کوریڈورز ہیں ، پہلا اور بڑا کوریڈور ہانگ کانگ سے شروع ہو کر ویت نام ، لاس ، کمبوڈیا ، تھائی لینڈ ملائیشیا اور سنگاپور تک جاتا ہے ، جبکہ جنوبی چین سے نسبتاً چھوٹا کوریڈور ’’لی جنگ‘‘ سے ہوتا ہوا برما (میانمار) کے راستے بھارت ، بنگلہ دیش ، بھوٹان ، نیپال اور سری لنکا تک جاتا ہے ۔ ہمارے خطے میں بھارت کا واحد فنکشنل اکنامک کوریڈور آسام ، ناگا لینڈ اور منی پور کے راستے برما (میانمار) سے ہوتا ہوا جنوبی چین اور تھائی لینڈ ، ملائیشیا ، کمبوڈیا ، لاس اور ویت نام تک جاتا ہے ۔یہ تمام تفصیلات بیان کرنے کا مقصد اہل وطن کی اس غلط فہمی یا خوش فہمی کا ازالہ کرنا ہے کہ پاکستان اگر سی پیک سے چین اور بھارت کو استفادہ کرنے میں تعاون نہیں کرتا تو یہ دونوں ممالک ناقابل برداشت معاشی و تجارتی دبا کا شکار رہیں گے ، حالیہ پندرہ بیس برسوں کے دوران سی پیک کے بغیر بھی ان دونوں ممالک کی تجارت و معیشت کی ترقی کی رفتار پاکستان سے کہیں زیادہ تیز رفتار ہے ، سی پیک کا چین روس ، بھارت اور خطے کے دوسرے ممالک کو یقینی طور پر بہت فائدہ ہو گا لیکن سب سے زیادہ فائدہ خود پاکستان کو ہو گا ، اس لئے ہمیں سی پیک کے حوالے سے بڑے اسٹریٹجک فیصلے کرتے ہوئے اس بنیادی نقطے کو ذہن نشین رکھنا چاہیئے ، گویا یہ ، تو اگر چین ، روس ، افغانستان ، ایران اور بھارت کا نہیں بنتا ، نہ بن ، اپنا تو بن ۔ والا معاملہ ہے اور ہمیں اس حوالے سے فیصلہ کرتے ہوئے اس بنیادی نکتے کو ذہن میں رکھنا چاہیئے ۔ حالیہ چند برسوں کے دوران دنیا کے تین ممالک نے اپنے اکنامک کوریڈورز کو اپنے جغرافیائی حالات سے ہم آہنگ کرتے ہوئے بڑی نفاست سے سمارٹ ڈپلومیسی کے تحت اسٹریٹجک کروٹ لی ہے ، برما (میانمار) نے چین سے دوری اختیار کرتے ہوئے بھارت سے قربت بڑھا لی ہے ، کیونکہ براستہ میانمار بھارتی تجارت چین کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے ، اسی طرح آذر بائیجان نے اپنے جغرافیائی حالات سے ہم آہنگ ہونے ہونے کیلئے امریکہ اور اسرائیل سے دوری اختیار کرتے ہوئے ، روس اور ایران سے قربت بڑھا لی ہے ، کیونکہ خطے میں ایران اور روس کی براستہ آذربائیجان تجارت امریکہ و اسرائیل کی براستہ آذربائیجان تجارت سے بہت زیادہ ہے ، آذر بائیجان کی چونکہ آرمینیا سے سخت دشمنی ہے اس لئے جونہی روس نے آذر بائیجان سے اسٹریٹجک تعلقات بڑھائے آرمینیا نے روس کی دوستی کم کر کے امریکہ ، بھارت ، اسرائیل ، ترکی سے قربت بڑھا لی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ آگر برما ، آذر بائیجان اور آرمینیا جیسے چھوٹے ممالک اپنی خارجہ و اسٹریٹجک پالیسی میں اپنے جغرافیائی حالات سے ہم آہنگ ہونے کیلئے بڑی تبدیلی لا سکتے ہیں تو پاکستان سمارٹ سفارت کاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی جغرافیائی پوزیشن کے ثمرات سمیٹنے کا حوصلہ کیوں نہیں کر رہا ؟ جس طرح کسی ملک کے ذہین ، پڑھے لکھے ہنرمند لوگ ، زرخیز زرعی زمین ، میٹھے پانی کے عظیم دریا ، بڑا ساحل سمندر ، قیمتی معدنیات اور تیل و گیس عظیم اثاثے ہیں اور دولت پیدا کرتے ہیں ، اسی طرح مختلف اکنامک کوریڈورز بھی عظیم اثاثے ہیں اور دولت پیدا کرتے ہیں ان ٹھوس زمینی حقائق کی روشنی میں یہ کہنا بے جا نہیں کہ پاکستان کی اہم جغرافیائی پوزیشن اللہ کی دی ہوئی عظیم نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت ہے اور اس سے استفادہ نہ کرنا بلاشبہ کفران نعمت ہے۔ اللہ رب العزت نے ریاست پاکستان کو جس فیاضی کے ساتھ 3 بڑے اکنامک کوریڈورز کی نعمت سے نوازا ہے اس سے استفادہ کرنے کی کنجی اس وقت آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے ہاتھ میں ہے کیونکہ دنیا ہماری سیاسی حکومتوں پر اعتبار نہیں کر رہی ، قوم کا مقدر بدلنے کیلئے جنرل عاصم منیر کو اب آہنی عزم کے ساتھ سمارٹ ڈپلومیسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسے فوری فیصلے کرنے ہوں گے کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے ، ہماری اجتماعی کوتاہیوں کی وجہ سے پہلے ہی بہت دیر ہو چکی ہے اور مزید تاخیر ہمیں کہیں کا بھی نہیں رہنے دے گی ۔