Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

نواز شریف اور کمپلیٹ جسٹس

سابق وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے حالیہ دونوں میں واپس لندن جانے کا فیصلہ کر لیا تھا، پھر اپنوں کے اصرار پر رک گئے، درانی صاحب پاکستان مسلم لیگ فنکشنل کے مرکزی جنرل سیکریٹری اور پیر صاحب پگاڑا کے قریبی ساتھی ہیں جن کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ سدا بہار خوشگوار تعلقات رہتے ہیں، وہ خود بھی سابق صدر پرویز مشرف کے زمانے میں وزیر اطلاعات رہے اور ذاتی طور پر اسٹیبلشمنٹ کے قریب ہیں، اس لئے ان کا دعویٰ معلومات کی بنیاد پر بھی ہو سکتا ہے-
ملک کی اعلیٰ عدالتوں نے جب سے پی ٹی آئی اور بانی پی ٹی آئی کو تیز رفتاری کے ساتھ کمپلیٹ جسٹس فراہم کرنا شروع کیا ہے ملک کے سب سے تجربہ کار اور جہاندیدہ سیاست دان کی حیثیت سے میاں محمد نواز شریف نے اس بدلے ہوئے رویئے کے اندر جھانک کر دیکھ لیا ہوگا، وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے ساتھ جو وعدے کیے گئے تھے معاملات ان کے مطابق آگے نہیں بڑھ رہے، اس حوالے سے پہلے بھی خبریں سامنے آتی رہی ہیں کہ بڑے میاں صاحب اپنے ساتھ طے پانے والے فارمولے اور روڈ میپ پر عملدرآمد کے حوالے سے شاکی ہیں، میاں محمد نواز شریف کا یہ شکوہ تو بجا ہے کہ مخصوص نشستوں والے کیس میں سپریم کورٹ کے 13 رکنی فل بنچ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو جس طرح کمپلیٹ جسٹس فراہم کیا ہے ویسا کمپلیٹ جسٹس انہیں کبھی فراہم نہیں کیا گیا۔
90 کے عشرے میں جب صدر غلام اسحاق خان نے ان کی حکومت برطرف کی تو سپریم کورٹ نے ایک تاریخی فیصلے کے ذریعے اسے بحال تو کیا لیکن پھر کاکڑ فارمولے کے تحت انہیں ملنے والا انصاف عملاً واپس لے لیا گیا، جنرل پرویز مشرف نے جب ان کی حکومت کا تختہ الٹا اور انہیں طیارہ سازش کیس میں ملوث کیا تو بھی نہ جسٹس ملا نہ کمپلیٹ جسٹس، اعلیٰ عدالتوں سے مایوس ہو کر انہوں نے اپنے بیرونی دوستوں کی طرف دیکھا جنہوں نے پھر ایک ڈیل مینج کی اور بڑے میاں صاحب فیملی سمیت سعودی عرب چلے گئے، میاں محمد نواز شریف جب تیسری بار وزیراعظم بنے تو پہلے عمران خان اور طاہر القادری کا دھرنا برپا کر دیا گیا اور پھر پانامہ کا ہنگامہ شروع ہو گیا۔
گیند ایک بار پھر اعلیٰ عدالتوں کے کورٹ میں چلی گئی اور اصل کیس میں کچھ ثابت نہ کیے جاسکنے پر ایک سٹپنی سے کام چلایا گیا اور انہیں اقامہ میں سزا دے کر نااہل کر دیا گیا، اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں اور ان پر عملدرآمد کی تاریخ کے حوالے سے میاں محمد نواز شریف کے تحفظات کو ان کے مخالفین بھی تسلیم کرتے ہیں، ہم سب نے اکثر دیکھا ہے کہ اعلیٰ عدالتیں جب کسی کو انصاف دینے کا تہیہ کر لیں تو مقدمہ میں درپیش ناقابلِ عبور قانونی و آئینی رکاوٹیں بھی ان کے ارادے کو بدل نہیں سکتیں اور پھر کمپلیٹ جسٹس کے اصول کے تحت فیصلے آ جاتے ہیں،مخصوص نشستوں کے کیس میں کمپلیٹ جسٹس کے اصول کے تحت سپریم کورٹ نے جسٹس کر تو دیا ہے لیکن اب اس پر عمل درآمد مسئلہ بنا ہوا ہے ، ایسی گنجلک صورتحال اور قانونی پیچیدگیاں سامنے آ رہی ہیں کہ الیکشن کمیشن کو کئی روز تک غور و فکر کے باوجود کوئی راستہ سجھائی نہیں دیا ، تھک ہار کر اس نے رہنمائی کیلئے خط لکھ کر سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا یے، سپریم کورٹ کے 13 رکنی فل بنچ کی طرف سے مخصوص نشستوں کے کیس میں 5 کے مقابلے میں 8 ججوں کا اکثریتی فیصلہ عملدرآمد کے آغاز میں سنگین آئینی و قانونی مسائل کا شکار ہے۔
الیکشن کمیشن نے رہنمائی کیلئے سپریم کورٹ کو جو خط لکھا ہے اس میں 2 اہم قانونی نکات پر گائیڈ لائن مانگی گئی ہے، الیکشن کمیشن پریشان ہے کہ وہ تانگے کو گھوڑے کے آگے کیسے باندھے؟ پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن ابھی تک سوالیہ نشان ہیں اس لیئے یہ رہنمائی مانگی گئی ہے کہ پی ٹی آئی میں شمولیت کے بیانات درج کروانے والے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کی سیاسی وابستگی کی تصدیق کون کرے گا؟ سپریم کورٹ کے فیصلے میں ارکان اسمبلی کو اس جماعت کے ممبر قرار دینے کا الیکشن کمیشن سے کہا گیا ہے کہ جس کا قانونی طور پر تسلیم شدہ ڈھانچہ ہی موجود نہیں۔
دوسرا سوال یہ پوچھا گیا ہے کہ کسی غیر مجاز شخص کی طرف سے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کے بیانات کی تصدیق کے قانونی مضمرات کیا ہو سکتے ہیں اس ایشو پر بھی گائیڈ فرمائیں، کمپلیٹ جسٹس والے اس فیصلے کیخلاف مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی نے نظرثانی اپیلیں بھی دائر کر رکھی ہیں، اب دیکھنا یہ ہے کہ سپریم کورٹ الیکشن کمیشن کی طرف سے پوچھے گئے سوالات پر گائیڈ لائن پہلے دیتی ہے یا اپیلوں کی سماعت اور اس سلسلے میں بنچ کی تشکیل کے فیصلے پہلے کرتی یے۔ پاکستان کی 75 سالہ تاریخ میں ایسا بہت کم ہوا ہے کہ اعلی عدالتیں اور اسٹیبلشمنٹ دو مخالف کیمپوں میں کھڑی ہوں، عارضی طور پر اگر کبھی ایسی صورتحال پیدا بھی ہوئی تو اسے مینج کر لیا گیا، اور اگر کبھی مینج نہ ہو سکی تو پھر بعد میں یہ راز کھلا کہ عدلیہ کی آزادی کی تحریک کے پیچھے بھی خود اسٹیبلشمنٹ ہی تھی، اس حوالے سے سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے زمانے میں چلنے والی عدلیہ کی آزادی کی تحریک کی کامیابی کے پیچھے اس وقت کے آئی ایس آئی چیف اشفاق پرویز کیانی کا نام لیا جاتا ہے جو بعد میں آرمی چیف بھی رہے، اس لئے یہ تاثر عام ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کیلئے اپنی آزادانہ پرواز کو تادیر برقرار رکھنا پاکستان جیسے ممالک میں ممکن نہیں، مخصوص نشستوں کے کیس میں سپریم کورٹ سے اور عمران خان کا 12 مقدمات میں جسمانی ریمانڈ کالعدم کرنے کے کیس میں لاہور ہائیکورٹ سے جو فیصلے آئے ہیں، ان سے شروع ہونے والا آزادانہ پرواز والا یہ موجودہ دور کتنا لمبا چل سکے گا اس پر مختلف آرا کا اظہار کیا جا رہا ہے، کہتے ہیں کہ تاریخ سیاست کی جڑ ہے اور سیاست تاریخ کا پھل، پاکستان کی 75 سالہ تاریخ کے تناظر میں دیکھیں تو آزاد عدلیہ کا یہ دور بھی چار دن کی چاندنی لگتا یے، سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو بیرون ملک واپس چلے جانے کا انتہائی فیصلہ واپس لینے پر قائل کرنے والوں نے بھی یقینی طور پر کچھ ایسی ہی دلیل دی ہو گی، اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ کمپلیٹ جسٹس والا فیز کب تک چلتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں