پاکستان کو غیر مستحکم کرنے اور چین کے گھیرا کیلئے ہمارے بہت سے ’’دوست‘‘ اور دشمن باہم مل کر غیر معمولی طور پر متحرک ہیں اور اس مشن پر پیسہ پانی کی طرح بہا رہے ہیں، لیکن ہماری حالت یہ ہے کہ ہم آپس میں ہی الجھے ہوئے ہیں اور طاقتور دشمنوں کے خفیہ گٹھ جوڑ کا مقابلہ کرنے کیلئے جس اتحاد اور یکسوئی کی ضرورت ہے اس سے تہی دامن ہیں، طرفہ تماشا ہمارے عظیم دوست ملک چین کا رویہ ہے کہ جس کے تحت وہ یہ توقع کر رہا ہے کہ بھارت، یورپی یونین، برطانیہ اور امریکہ کے انتہائی طاقتور گٹھ جوڑ کی طرف سے سی پیک کا راستہ روکنے کیلئے جاری ریشہ دوانیوں کو اکیلا پاکستان اپنے طور پر کائونٹر کرے، ایک طرف دنیا کے اقتصادی اور دفاعی حوالے سے سب سے بڑے اور طاقت ور ممالک کے اسٹریٹجک بلاک کے بے پناہ وسائل ہیں اور دوسری طرف معاشی مشکلات میں گھرا ہوا پاکستان، اس لئے یہ کہنے میں کچھ حرج نہیں کی چین کی پاکستان سے توقعات اور ناراضی انتہائی غیر منصفانہ ہے۔
حیرت اس بات پر بھی ہوتی ہے کہ بھارت ایک طرف کوہ ہمالیہ میں چین کے ساتھ دوستی اور عدم جارحیت کی پینگیں بڑھا رہا ہے اور دوسری طرف کوہ سلیمان میں چین کے مفادات پر انتہائی خوفناک انداز میں حملہ آور ہو کر اپنی پراکسی وار میں نئی شدت لے آیا ہے، گوادر میں پچھلے تین چار روز کے دوران بلوچ یکجہتی کمیٹی کے احتجاجی مظاہرے بلوچ راجی مچی کے نام پر جو کچھ ہوا اس کی تفصیلات اسلام آباد کے ساتھ ساتھ بیجنگ کی آنکھیں کھول دینے کیلئے بھی کافی ہیں، اس بڑی ایکٹیویٹی کیلئے کروڑوں روپے کے فنڈز اور میڈیا سپورٹ بظاہر کچھ انٹرنیشنل این جی اوز نے فراہم کی لیکن یہ کوئی راز نہیں کہ انسانی حقوق کی انٹرنیشنل این جی اوز کے پس پردہ امریکہ، برطانیہ، یورپ اور بھارت پر مشتمل اسٹریٹجک بلاک متحرک ہے۔
بلوچ راجی مچی کیلئے پلاننگ اور فنڈنگ ڈاکٹر مہ رنگ بلوچ کے دورہ یورپ کے دوران کی گئی، اسکینڈے نیوین ممالک امریکہ اور نیٹو کی فرنٹ لائن اسٹیٹس ہیں اور ڈاکٹر مہ رنگ بلوچ وہیں کا چکر لگا کر آئیں اور آتے ہی یہ بڑا دھماکہ کر دیا۔
ڈاکٹر مہ رنگ بلوچ کی 27اپریل 2024 کو اسلام آباد میں یورپی یونین کی سفیر ڈاکٹر رینا کیونکا سے ملاقات ہوتی ہے، بھارتی نیوز ایجنسی اے این آئی نے خصوصی اہتمام سے یہ خبر شائع کی، یورپی یونین کی سفیر سے ملاقات سے قبل مہ رنگ بلوچ نے اسلام آباد میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں شرکت کی ، کانفرنس سے ان کے خطاب پر بھارتی جریدہ ’’انڈیا نیریٹو‘‘ انتہائی تفصیلی اسپیشل رپورٹ شائع کرتا ہے۔
24 مئی 2024 ء کو اوسلو ناروے میں انسانی آزادیوں سے متعلق ایک عالمی این جی او ’’پین انٹرنیشنل‘‘ کے ناروے چیپٹر کی طرف سے ایک مباحثے کا اہتمام کیا جاتا ہے ، جس میں دنیا بھر سے ایکٹیویٹس شرکت کرتے ہیں ، اس موقع پر ڈاکٹر مہ رنگ بلوچ کا خصوصی خطاب کروایا جاتا ہے اور پھر اس کی خصوصی انٹرنیشنل کوریج کروائی جاتی ہے، آر ایس ایس کا ترجمان بھارتی جریدہ ’’آرگنائزر‘‘ اس خطاب پر اسپیشل رپورٹ چھاپتا ہے، یاد رہے کہ اے آر نائر اور ایل کے ایڈوانی اس میگزین کے ایڈیٹوریل بورڈ میں شامل رہ چکے ہیں اور پچھلے 75 برس کا اس میگزین کا ریکارڈ گواہ ہے کہ یہ انتہا پسند ہندو تنظیم آر ایس ایس کا پرچارک ہے، بابری مسجد کی شہادت اور وہاں رام مندر کی تعمیر کے دوران مسلم کش فسادات کے ذریعے خون کی ہولی کھیلنے والے ایل کے ایڈوانی اور ان کے پرچارک میگزین’’آرگنائزر‘‘ کی طرف سے ڈاکٹر مہ رنگ بلوچ کی امیج بلڈنگ کیلئے بے تابی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی اس خاتون رہنما کے اوسلو ناروے کے دورے کے دوران ڈوریاں کہاں کہاں سے ہل رہی تھیں؟ اور صرف یورپی این جی اوز ہی نہیں بلکہ امریکہ، یورپ، برطانیہ اور بھارت پر مشتمل سی پیک کا مخالف پورا اسٹریٹجک بلاک پوری طرح متحرک تھا۔
29 جولائی 2024ء کے بلوچ راجی مچی احتجاجی مظاہرے کو بھارتی اور مغربی ذرائع ابلاغ نے ایک انٹرنیشنل ایونٹ بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، ریڈیو فری یورپ کی اس حوالے سے خصوصی کوریج قابل غور ہے ، اس موقع پر بھارت کے بڑے نیوز چینل ’’زی نیوز‘‘ نے ڈاکٹر مہ رنگ بلوچ پر ایک خصوصی مضمون شائع کیا، بھارتی نیوز ایجنسی اے این آئی نے اس ایونٹ کو ڈے ٹو ڈے کی بنیاد پر اس طرح مسلسل کوریج دی کہ جیسے یہ جلسہ پاکستان کے دور دراز علاقے میں نہیں بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں منعقد ہو رہا ہو، ایک اور بڑا بھارتی جریدہ ’’انڈیا ٹوڈے‘‘ اپنی اشاعتوں میں ڈاکٹر مہ رنگ بلوچ کو بلوچستان کی شیرنی کا لقب دے کر سرخیاں جماتا ہے۔
جس طرح سائنس و ٹیکنالوجی کی دنیا میں سب کچھ بدل گیا ہے اور پرانی مشینری متروک ہوتی جا رہی ہے، اسی طرح پراکسی وارز کی سائنس بھی بالکل بدل گئی ہے، اب صرف دہشت گردی سے کسی ریاست کو کمزور کرنا یا توڑنا ممکن نہیں رہا، اس مقصد کیلئے عسکری نیٹ ورکس کے ساتھ ساتھ پولیٹیکل نیٹ ورکس بھی تشکیل دیئے جاتے ہیں، بظاہر چہرہ انسانی حقوق کی این جی اوز کا ہوتا ہے لیکن پس منظر میں ’’را‘‘ ، ’’سی آئی اے ‘‘اور ’’موساد‘‘ جیسی تنظیمیں متحرک ہوتی ہیں، بلوچ علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیموں بی ایل ایف، بی ایل اے اور بی آر اے ایس کے سیاسی ونگ کے طور پر بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی یو) کو لانچ کیا گیا، اس کی کرتا دھرتا ڈاکٹر مہ رنگ بلوچ کے والد عبدالغفار لانگو کالعدم دہشت گرد تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کے ایک سرگرم کمانڈر تھے اور بلوچستان میں دہشت گردی کی لاتعداد کارروائیوں میں ملوث تھے، اپنی اسی ٹیررسٹ لائف کے دوران ہی وہ بلوچ عسکریت پسندوں کی آپس کی لڑائی میں مارے گئے۔
اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں کہ ایک لوئر مڈل کلاس گھرانے سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر مہ رنگ بلوچ جنہوں نے سکالر شپ پر بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کوئٹہ سے اپنی تعلیم مکمل کی، کروڑوں اربوں روپے کے بجٹ سے چلنے والی بلوچ یکجہتی کمیٹی کی تحریک اور اتنے بڑے بڑے ایونٹس کیسے منعقد کروا سکتی ہیں؟ صاف ظاہر ہے کہ پس پردہ ڈالروں ، یوروز اور بھارتی روپے کے کئی سرچشمے ہیں۔ چونکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کہیں بھی رجسٹرڈ نہیں اس لئے اس کی آمدنی کے ذرائع اور بے پناہ اخراجات کا بھی کوئی ریکارڈ نہیں۔ پاکستان اور چین کی حکومتوں کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے میڈیا اور غیر سرکاری تنظیموں کی حالیہ کئی عشروں کی سادگی یا کاہلی نے یہ صورتحال پیدا کی ہے کہ پاکستان اور خصوصاً بلوچستان کے عوام دونوں دوست ممالک کیخلاف جاری اس پراکسی وار کے تمام پس پردہ کھلاڑیوں سے پوری طرح آگاہ نہیں، دور جدید کی پراکسی وارز میں سب سے بڑا میدان سیاسی شعور اور عوامی آگاہی کا ہوتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اور چین بھی اسی طرح مل کر بلوچستان میں عوامی بیداری کی مہم چلائیں جس طرح امریکہ ، بھارت اور یورپ مل کر یہاں برسر پیکار ہیں۔