Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

شیخ مجیب کا بت کیوں ٹوٹا؟

بنگلہ دیش میں وزیراعظم حسینہ واجد کے استعفے اور ملک سے فرار کے بعد مشتعل عوام نے مختلف اہم مقامات پر لگے ہوئے شیخ مجیب الرحمن کے دیوہیکل مجسمے توڑ ڈالے، اس دوران ہزاروں بنگالی کھڑے پرجوش نعرے لگاتے رہے اور اس منظر کو اپنے موبائل فونز میں محفوظ بھی کرتے رہے، شیخ مجیب کے ان مجسموں کو توڑے جانے کے حوالے سے سوشل میڈیا اور مین اسٹریم میڈیا پر بڑی گرما گرم بحث جاری ہے لیکن اصل بحث یہ ہونی چاہیئے کہ کروڑوں بنگالی عوام کے دلوں اور ذہنوں میں شیخ مجیب الرحمن کا جو بت تھا وہ کیوں اور کیسے ٹوٹا؟ اور بنگلہ دیش کی جیو پولیٹیکل صورتحال میں آنے والی یہ اصل تبدیلی مستقبل کا کیا منظر پیش کر رہی ہے اور نصف صدی سے کچھ زیادہ عرصے کے اس سیاسی تجربے سے ہمیں کیا سبق حاصل کرنا چاہئیں۔
سیاست کی دنیا میں عوام اکثر اپنے مقبول رہنمائوں کا بت تراش کر اپنے دلوں اور ذہنوں میں سجا لیتے ہیں، لیکن پھر یوں بھی ہوتا ہے کہ وہ بت خود کو ’’بھگوان‘‘ سمجھنے لگتا ہے اور خود کو بت بنانے والے عوام سے اس بات کی توقع کرتا ہے کہ وہ خود تو جو چاہے کرے، لیکن لوگوں کو ہر صورت میں اس کی پوجا کرنی چاہیئے۔ عوام کے لئے یہ صورتحال بڑی پیچیدہ ہو جاتی ہے کہ جب وہ یہ دیکھتے ہیں کہ:
میرے ہاتھوں سے تراشے ہوئے پتھر کے صنم
بت خانے میں بھگوان بنے بیٹھے ہیں
تاریخ نے پھر یہ مناظر بھی دیکھے ہیں کہ ایک وقت کے مقبول عوامی لیڈر اقتدار اور مقبولیت کے نشے میں فاشسٹ لیڈر بن جاتے ہیں اور منظر یہ بن جاتا ہے کہ
جسے ہم نے تراشا بت بنایا
وہی برباد کرنے پر تلا ہے
شیخ مجیب الرحمن کے معاملے میں بھی یہی ہوا، عوامی مقبولیت کے بخار نے اسے فاشزم کے راستے پر ڈال دیا جس کا شدید ردعمل ایک فوجی بغاوت کی صورت میں نکلا اور انہیں خاندان سمیت قتل کر دیا گیا، شیخ مجیب الرحمن کی صاحبزادی حسینہ واجد کو بھی ان کی عوامی مقبولیت فاشزم کی طرف لے گئی اور پھر انہیں بھی عوامی پلس فوجی بغاوت کا سامنا کرنا پڑا، انہیں اپنے والد جیسی صورتحال سے البتہ بچا لیا گیا اور فرار کا محفوظ راستہ دے کر بھارت پہنچا دیا گیا۔
گویاپہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا
ڈھاکہ سے ان کا ہیلی کاپٹر اڑا اور اگرتلہ جا کر پہلی لینڈنگ کی، یہ وہی مقام تھا کہ جہاں سے ان کے والد شیخ مجیب الرحمن کی ٹیم نے بھارتی فوج کے افسروں کے ساتھ ملاقاتیں کر کے سابق صدر ایوب خان کے زمانے میں پاکستان کو توڑنے کی سازش کی ابتدا کی تھی اور اس حوالے سے بعد میں مشہور زمانہ اگرتلہ سازش کیس بھی چلا تھا۔
حدیث مبارکہ ہے کہ مخلوق کے دل اللہ رب العزت کی دو انگلیوں کے درمیان ہیں اور وہ جس وقت چاہتا ہے انہیں پھیر دیتا ہے، عوامی مقبولیت کے گھوڑے پر سوار ہونے والے سیاستدان لاکھوں کروڑوں لوگوں کی خود سے دیوانہ وار محبت کے اس پہلو کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ ان کی یہ جو عوامی پرستش شروع ہو گئی ہے اس میں مالک کائنات کی طرف سے خاص رحمت یا کسی بڑی آزمائش کا کتنا حصہ ہے، پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو ، میاں نواز شریف اور بینظیر بھٹو بھی عوامی مقبولیت کے اس گھوڑے کی سواری کر چکے ہیں، اور آج کل عمران خان اس منہ زور گھوڑے پر سوار ہیں۔
عوامی مقبولیت کی یہ دنیا ایک کرائے کا مکان ہے جس کے مکین بدلتے رہتے ہیں، ہوتا یوں ہے کہ کچھ کرائے دار غیر قانونی ہتھکنڈوں سے کرائے کے اس مکان کو اپنی ملکیت بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر کرائے دار کی حیثیت سے مکین رہنے کے قابل بھی نہیں رہتے، شیخ حسینہ واجد سے بھی یہی ہوا، جو ان سے پہلے شیخ مجیب الرحمن اور ذوالفقار علی بھٹو سے ہو چکا ہے۔
شیخ مجیب الرحمن کا ایک اور مسئلہ یہ تھا کہ ان کے عروج میں عالمی سازش بھی شامل تھی، بھارت اور امریکہ ان کے پشت پناہ تھے، بیرونی آقائوں کے اشارے پر حاصل ہونے والی عوامی مقبولیت بھی ناپائیدار ہوتی ہے، کیونکہ جو لوگ آپ کو برسر اقتدار لائے ہوتے ہیں آپ کو پھر ان کے ایجنڈے کو آگے بڑھانا پڑتا ہے اور اپنے ملک اور عوام کے مفادات کا سودا کرنا پڑتا ہے، شیخ مجیب الرحمن اور حسینہ واجد کی سیاست کے اس پہلو یعنی بھارتی سرپرستی کے اس سائیڈ ایفیکٹ نے بھی بنگلہ دیش کے عوام کے دلوں اور ذہنوں میں بسے ہوئے بنگلہ بندھو کے بت کے ٹوٹنے میں اہم کردار ادا کیا۔
تیسری اہم وجہ یہ ہوتی ہے کہ عوامی مقبولیت کے گھوڑے پر سوار ہونے والے لیڈر کو یہ غلط فہمی ہو جاتی ہے کہ اس کی مقبولیت اللہ رب العزت کی کرم نوازی نہیں بلکہ مخالف سیاسی لیڈروں ، مخالفت سیاسی جماعت، مخالفت لسانی گروپ ، مخالفت نسلی گروپ ، مخالفت جغرافیائی اکائی ، مخالفت ریاست یا مخالفت اسٹریٹجک بلاک کی دشمنی کا ثمر ہے اور جب تک وہ اس دشمنی کی آگ پر تیل ڈالتا رہے گا اس کی مقبولیت پر کوئی حرف آنے والا نہیں، یعنی عوامی مقبولیت کو منفی ایکٹیویٹی سے جوڑ دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے اس کی سیاست کے مثبت پہلوئوں پر منفی پہلو غالب آنا شروع ہو جاتے ہیں اور اس کی سیاست و حکومت میں خیر کم ہوتی جاتی ہے اور شر بڑھتا جاتا ہے، اور آخر کار شر اتنا بڑھ جاتا ہے کہ عوام بھی تنگ آ جاتے ہیں اور جو سہولت کار اور اتحادی ہوتے ہیں وہ بھی بوجھ سمجھنے لگ جاتے ہیں اور آخر کار پھر بت ٹوٹ جاتا ہے۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان آج کل پاکستان میں عوامی مقبولیت کے منہ زور گھوڑے پر سوار ہیں، کچھ عرصہ قبل انہوں نے شیخ مجیب الرحمن کی عوامی مقبولیت کے حوالے سے ایک سطحی قسم کے تجزیئے کے ذریعے اسٹیبلیشمنٹ مخالفت منفی بیانیہ آگے بڑھانے کی بھی کوشش کی تھی، شیخ مجیب الرحمن کا بت ٹوٹنے کے ان تینوں پہلوئوں پر انہیں خصوصی غور کرنا چاہیئے اور اپنی سیاست میں خیر کے پہلو پر شر کو غالب آنے دینے کی اجازت نہیں دینی چاہیئے، کیونکہ اللہ رب العزت کی طرف سے ملنے والی عوامی مقبولیت کی نعمت ایک سخت آزمائش ہوتی ہے، اس راہ پرخار میں صرف بدر و حنین نہیں ، حلف الفضول ، میثاق مدینہ ، صلح حدیبیہ اور فتح مکہ کے عظیم سبق بھی آتے ہیں، کہ جن کی روح پر عمل کر کے مقبول عوامی لیڈر اپنی سیاست و حکومت میں خیر کے پہلو کو بڑھا سکتا ہے، اور قانون فطرت یہی ہے کہ جب تک خیر کا شر پر غلبہ رہے گا، عوامی مقبولیت کا گھوڑا بھی آپ کا مطیع و فرمانبردار رہے گا، انشااللہ

یہ بھی پڑھیں