Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

اصلی ہیرو اور شاطر کپتان

وہ کچی اینٹوں اور گارے سے بنے ہوئے گھر سے اٹھا، درختوں کی ٹہنیاں کاٹ کر ان سے اپنے لئے دیسی قسم کے جیولن بنائے اور گندم کی کٹائی کے بعد خالی ہونے والے کھیتوں میں پریکٹس کی ، اور اپنے ملک کے لئے اولمپکس گولڈ میڈل جیت لیا، جی ہاں !یہ کہانی ہے پنجاب کے چھوٹے سے شہر میاں چنوں کے ارشد ندیم کی ۔ ان سے پہلے، پورے 40برس پہلے پاکستان نے اپنا آخری اولمپکس گولڈ میڈل 1984ء کے لاس اینجلس اولمپکس میں ہاکی میں جیتا تھا، پاکستان کے مایہ ناز کھلاڑی منظورِ جونیئر اس فاتح ٹیم کے کپتان تھے، 2 سال پہلے 29 اگست 2022 ء کو لاہور میں اس عظیم کھلاڑی کو 63 برس کی عمر میں دل کا دورہ پڑا، انہیں علاج کیلئے مقامی پرائیویٹ ہسپتال لے جایا گیا۔ ڈاکٹرز کے مطابق منظور جونیئر کو تین اسٹنٹ ڈالے گئے لیکن کچھ گھنٹے بعد وہ انتقال کرگئے۔ایک موقر روزنامے نے منظورجونیئر کے بیٹے کے حوالے سے خبر دی کہ ہسپتال انتظامیہ نے چند گھنٹوں کے علاج کا 4 لاکھ روپے کا بل بنا دیا، اس سے بھی افسوسناک صورتحال یہ ہوئی کہ پرائیویٹ ہسپتال کی انتظامیہ نے بل کی ادائیگی تک پاکستان کے اس عظیم ہیرو کی میت گھر والوں کو دینے سے انکار کردیا، بعدِ ازاں اولمپئین منظورجونیئر کی میت رقم کی ادائیگی کے بعد ہسپتال انتظامیہ نے ورثا کے حوالے کردی۔
ایک اور خبر کے مطابق ورثا نے بتایا کہ نجی ہسپتال نے 5 لاکھ روپے کا بل بنایا اور وصولی تک جسد خاکی دینے سے انکار کر دیا اور جب تک ورثا نے پیمنٹ نہیں کر دی میت حوالے نہیں کی گئی، منظور جونیئر کو دنیا آج بھی 1982 ء کے ہاکی ورلڈ کپ فائنل کے ہیرو کے طور پر بھی جانتی ہے کیوں کہ اس میچ کے دوران انہوں نے یکے بعد دیگرے6 جرمن دفاعی کھلاڑیوں کو ڈاج کرکے تاریخی گول کیاتھااورپاکستان کو شاندار فتح سے ہمکنار کرکے عالمی چیمپیئن بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا، ایسے عظیم کھلاڑی کو قوم نے کیا صلہ دیا؟ یہ بڑا سوالیہ نشان ہے کہ زندگی میں تو افسوسناک سلوک کرتے ہوئے نظر انداز کیا ہی گیا، مرنے کے بعد بھی میت ورثا کے حوالے کرنے سے انکار کرکے بیحرمتی کی گئی۔ ہاکی پاکستان کا قومی کھیل ہے، اور منظور جونیئر جیسے ورلڈ کلاس کھلاڑیوں کی بدولت پاکستان نے ایک طویل عرصے تک دنیائے ہاکی پر راج کیا لیکن ہماری حکومتوں کی افسوسناک پالیسیوں کی وجہ سے دیگر کھیلوں کی طرح پاکستان سے ہاکی بھی رفتہ رفتہ ختم ہو گئی، ہماری حکومتوں اور میڈیا کی مخصوص ترجیحات کی وجہ سے صرف کرکٹ کو گلیمرائز کیا گیا، یہی وجہ ہے کہ جب پاکستان نے 1992ء کا کرکٹ ورلڈ کپ جیتا تو قوم نے کپتان عمران خان سمیت پوری ٹیم کو سرآنکھوں پر بٹھایا، عمران خان نے کمال چابکدستی سے پوری ٹیم کی اس کامیابی کو اپنی ذاتی شہرت میں بدلنے کیلئے کینسر ہسپتال بنانے کیلئے ملک گیر چندہ مہم شروع کر دی، اور پھر میدان سیاست میں قدم رکھ دیا، ان کی پالیسی یوں کامیاب رہی کہ 1992ء کے ورلڈ کپ کا سارا سحر اور مالی و سیاسی مفاد ان کی ذات کے گرد جمع ہو گیا اور آج لوگوں کو اس ٹیم کے اکثر کھلاڑیوں کے نام بھی یاد نہیں، 1992 کے ورلڈ کپ کا نام لیا جائے تو بس ایک ہی نام نگاہوں کے سامنے آتا ہے اور نام ہے عمران خان، اس ٹیم کے باقی فاتحین آج کس حال میں ہوں گے ہم میں سے کسی کو خبر نہیں، خدانخواستہ ان میں سے کسی کو منظور جونیئر کی فیملی جیسی صورتحال بھی درپیش ہو سکتی ہے، اس سے بھی افسوسناک پہلو یہ ہے کہ عمران خان نے وزیراعظم پاکستان کی حیثیت سے اپنے دور حکومت میں نہ 1992 کا ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کے اپنے ساتھی کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی اور مالی مدد کے لئے کچھ کیا نہ دنیائے ہاکی میں کئی بار ورلڈ کپ اور اولمپکس گولڈ میڈل جیتنے والے قومی ہیروز کی مدد کے لئے کوئی پالیسی بنائی، اگر ایک کھلاڑی وزیراعظم کے دور حکومت میں قومی ہیروز کی مدد کیلئے ہی کچھ کیا گیا ہوتا تو منظور جونیئر اپنی زندگی کے آخری ایام میں اتنی کسمپرسی کا شکار نہ ہوتے کہ انتقال کے بعد ان کی میت کو ’’یرغمال‘‘بنا کر بل وصول کیا جاتا،پیرس اولمپکس میں ارشد ندیم نے 8اگست کو 92.97 میٹر دور جیولن پھینک کر نہ صرف پاکستان کے لئے 40 سال بعد اولمپک طلائی تمغہ جیتا بلکہ یہ طویل تھرو اولمپکس مقابلوں کا ریکارڈ بھی بن گئی۔
ارشد ندیم نے دو سال قبل دولت مشترکہ کھیلوں میں بھی پاکستان کیلئے طلائی تمغہ جیتا تھا اور حسن اتفاق یہ ہے کہ اس دن بھی 8 اگست ہی تھا ۔ حقیقت میں ارشد ندیم جیسے لوگ ہی اس ملک کے نوجوان طبقے کے رول ماڈل اور اصلی ہیرو ہیں ۔ ان جیسے کئی کھلاڑی آج بھی مختلف کھیلوں میں موجود ہیں مگر ان کو ڈھونڈنے والی آنکھ چاہئے۔ ارشد ندیم جیسا ٹینلنٹ دیگر انفرادی کھیلوں میں بھی موجود ہے جس کو تلاش کیا جانا چاہئے۔ارشد ندیم کے پاس کسی قسم کے وسائل نہیں تھے ، کوئی غیر ملکی کوچ نہیں تھا، وہ کسی معروف بین الاقوامی کمپنی کا برانڈ ایمبیسڈر بھی نہیں تھا، کسی بڑی مشروب ساز کمپنی کے ساتھ اس کا کوئی معاہدہ بھی نہیں تھا، بس ایک خالص اور سچا جذبہ تھا، سچے اور اصل ہیروز والا۔ ایسے ہی نوجوان دراصل پاکستان کا اصل چہرہ ہیں۔جبکہ دوسری جانب کھیلوں سے سیاست تک ایسے کردار بھی موجود ہیں کہ جن کے ہیرو ازم کا سفر اپنی ذات سے شروع ہو کر اپنی ذات پر ہی ختم ہو جاتا ہے، ارشد ندیم نے تن تنہا پاکستان کیلئے گولڈ میڈل جیتا لیکن یہاں تو پوری ٹیم کی اجتماعی جدوجہد کو اپنی شاطرانہ چالوں سے ہائی جیک کر کے اکیلا کپتان ہیرو بن جاتا رہا ہے، کھیلوں کے ساتھ ساتھ ہمارے ہاں ہر شعبہ زندگی میں یہ افسوسناک کلچر موجود ہے، یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک میں جمہوریت صحیح طریقے سے پنپ نہیں سکی، پوری سیاسی جماعت کی جدوجہد اور قربانیوں کی قیمت صرف ایک کپتان وصول کر لیتا ہے، اور پوری جماعت کو کریڈٹ دینے کی بجائے اپنی ذاتی سوچ اور ذاتی خیالات کا اسیر ہو کر رہ جاتا ہے، ملک کے 25 کروڑ عوام کے ساتھ ساتھ ہمارے میڈیا ، سیاسی کارکنوں سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی کے صاحب فکر لوگوں کو اس افسوسناک کلچر سے نجات کیلئے اپنی اجتماعی دانش کو بروئے کار لانا ہو گا تاکہ ملک کے ہر سچے ہیرو کو اس کے تاریخی کارناموں کا بھرپور صلہ ملے، اور آنیوالے کل میں نہ کسی اولمپیئن کی میت یرغمال بنے اور نہ ہی ایسا ہو کہ کوئی کپتان پوری ٹیم کی اجتماعی فتوحات کو اکیلا ہی ہضم کرجائے۔

یہ بھی پڑھیں