Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

رئوف حسن کی ’’را‘‘کے لئے سہولت کاری

آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے حوالے سے متنازع گفتگو اور پاکستان کی طرف سے یوکرین کو اسلحہ کی مبینہ فراہمی کی گواہی سمیت پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات رئوف حسن نے بھارتی صحافی کرن تھاپر کو واٹس ایپ پر جو جو حساس مواد فراہم کیا اس کا انکشاف سامنے آنے پر تمام محب وطن حلقے اظہار تشویش کر رہے ہیں لیکن حیرت ہوتی ہے پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر کے رویئے پر کہ انہوں نے نہ آئو دیکھا نہ تائو اور لٹھ اٹھا کر اپنے سیکرٹری اطلاعات اور پارٹی ترجمان کی حمایت میں کھڑے ہوگئے ہیں اور فرمایا ہے کہ ’’رئوف حسن پڑھے لکھے آدمی ہیں، وہ آرٹیکل بھی لکھتے رہے ہیں، صحافیوں کا صحافیوں سے رابطہ رہتا ہے، انہوں نے جو بھی رابطے رکھے ہیں وہ قانونی طور پر درست ہیں، رئوف حسن نے کوئی غیرقانونی کام نہیں کیا۔‘‘
کاش یہ بیان جاری کرنے سے پہلے بیرسٹر گوہر نے جانے مانے ’’را‘‘ایجنٹ کرن تھاپر سے رئوف حسن کی انتہائی سنسنی خیز چیٹ پر ایک نظر ڈال لی ہوتی،یاد رہے کہ ان بھارتی صحافیوں کی بھاری اکثریت ’’را‘‘ کے پے رول پر رہتی ہے جنہیں پاکستانی سفارت کاروں، پاکستانی صحافیوں اور پاکستانی سیاستدانوں کے ساتھ دوستیاں رکھنے اور سوشل میڈیا پر انٹر ایکشن کی ذمہ داری دی جاتی ہے، کرن تھاپر بھی اسی پیرول والے صحافیوں میں سے ایک ہیں، رئوف حسن کوئی دودھ پیتے بچے تو نہیں کہ جنہیں اس اوپن سیکرٹ کا علم نہ ہو، اس کے باوجود ان کی رئوف سے اپنی واٹس ایپ چیٹ میں پاکستان کے حوالے سے انتہائی حساس اور نازک معلومات یا متنازع مواد انہیں باقاعدگی کے ساتھ فراہم کرنا سمجھ میں آنے والی بات نہیں، 70 سال سے زیادہ عمر کے ایک سینئر صحافی اور جہاندیدہ سیاستدان کو بھی اگر پاک بھارت تعلقات کی نزاکت اور حساسیت کا علم نہیں، اور اس بات کا شعور نہیں کہ پاکستان کی رئوف سے یوکرین کو اسلحہ کی فراہمی کا دعویٰ کرنا یا گواہی دینا، پاکستانی فوج کی نقل و حرکت کی تفصیلات فراہم کرکے ملک میں مارشل لا لگانے کی تیاریوں کے اشارے دینا اور آرمی چیف کے حوالے سے انتہائی قابل اعتراض جملے شیئر کرنا روٹین کی چیٹ تو ہرگز نہیں، اس حوالے سے یہ خدشات بھی پائے جا رہے ہیں کہ پاکستان مخالف بیانیہ لانچ کرنے کیلئے ’’را‘‘ کو جس مواد اور اپ ڈیٹ کی ضرورت تھی وہ کسی طے شدہ معاملے کے تحت فراہم کیا جا رہا تھا اور کرن تھاپر تو محض درمیان میں ایک آڑ تھی تاکہ ’’را‘‘ کے براہ راست ایجنٹ ہونے کے پکے ثبوت سے بچا جا سکے۔ کیا پاکستان میں مارشل لا لگنے کی افواہ پھیلانے میں بھارتی میڈیا اور ’’را‘‘کو مواد فراہم کرنا معمول کی چیٹ ہے؟ بھارتی اور عالمی میڈیا میں اس حوالے سے خبروں کی اشاعت کا ملکی معیشت کو کتنا نقصان پہنچتا ہے کیا 70 سال سے زیادہ عمر کے صحافی و سیاستدان کو اس کا علم نہیں؟ یوکرین کو اسلحہ کی فراہمی کی خود پاکستان سے گواہی مہیا کرنا کیا پاک روس تعلقات کو خراب کرنے میں بھارتی دلچسپی کی غیر معمولی سہولت کاری نہیں؟
ضرورت اس امر کی ہے کہ پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین خود بھی اس معاملے پر ایک انکوائری کمیٹی بنائیں تاکہ آئندہ کے لئے کسی پی ٹی آئی رہنما کو اتنی خوفناک ایکٹیویٹی میں ملوث ہونے کی جرات نہ ہو، اگر تحریک انصاف اس ایشو پر ایکشن نہیں لیتی تو پھر یہ تاثر تقویت پکڑے گا کہ رئوف حسن جو کچھ کر رہے تھے وہ ان کا ذاتی یا پی ٹی آئی لیڈروں کے ایک گروپ کا پرسنل کام نہیں بلکہ پارٹی پالیسی کا حصہ تھا، ملک میں پہلے ہی پی ٹی آئی کو کالعدم قرار دینے کے صلاح مشورے جاری ہیں ایسے نازک حالات میں ایسی غیر ذمے داری کا مظاہرہ اپنے پائوں پر کلہاڑی مارنے والی بات ہے، امید کی جانی چاہیئے کہ پی ٹی آئی قیادت آ بیل مجھے مار والا رویہ نہیں اپنائے گی۔پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات رئوف حسن کے امریکی صحافی رائن گرم کے بعد بھارتی صحافی کرن تھاپر کے ساتھ واٹس ایپ پر ہونے والے رابطوں کی جو چیٹ سامنے آئی ہے اس کے مطابق 19 نومبر 2022 کو رئوف حسن نے بطور پارٹی میڈیا کوآرڈینیٹر بھارتی صحافی کرن تھاپر سے باضابطہ رابطہ کیا، جس میں شروع کے واٹس ایپ پیغام میں بھارتی صحافی نے شاہ محمود قریشی کے متوقع انٹرویو کے بارے میں سوال کیا۔
24 نومبر 2022ء کو کرن تھاپر نے رئوف حسن کو موجودہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے بارے میں اپنے اور رانا بنیرجی (سابق سیکریٹری را)کے ساتھ یوٹیوب پر ہونے والے انٹرویو کی معلومات دیں، کرن تھاپر نے 25 نومبر 2022ء کو واٹس ایپ پیغام کے ذریعے رئوف حسن کے ساتھ جنرل عاصم منیر سے متعلق ایک پاکستانی صحافی کے انٹرویو کی تفصیلات شیئر کیں۔ جبکہ اس کے جواب میں رئوف حسن نے پاکستانی صحافی کو ناقابل اعتبار قرار دیتے ہوئے آرمی چیف سے متعلق حساس معلومات بھارتی صحافی کرن تھاپر کے ساتھ شیئر کیں۔معتبر ذرائع کے مطابق، رئوف حسن نے فروری 2023 ء کے واٹس ایپ پیغام میں یوکرین کے معاملے پر بھارتی موقف کی تعریف کی اور پاکستانی موقف پر سخت تنقید کی۔ رئوف حسن کے بقول، ’’بھارت کا موقف غیر جانبداری کی خواہش کے تناظر میں قابل فہم ہے۔‘‘ رئوف حسن نے کرن تھاپر کے ساتھ چیٹنگ میں یہ دعویٰ کیا کہ ’’پاکستان کا موقف حیران کن ہے، اقوام متحدہ میں ووٹنگ میں حصہ نہ لینے کے باوجود، پاکستان یوکرین کو ہتھیار فراہم کر رہا ہے۔مارچ 2023 ء میں، رئوف حسن نے کرن تھاپر کو بھیجے گئے پیغامات میں پی ٹی آئی کے بانی کے گھر سے گرفتاریوں کو ریاستی تشدد کہا۔ ‘‘ رئوف حسن نے عوامی سطح پر تشدد بھڑکانے کی مہم کے حوالے انتہائی اشتعال انگیز پیغامات بھیجے اور کہا کہ پاکستان ایک خونی انقلاب کے لیے تیار نظر آتا ہے۔
معتبر ذرائع کی تصدیق کے مطابق، 10 مئی 2023 ء کو رئوف حسن نے زوم کے ذریعے کرن تھاپر کے ساتھ انٹرویو ریکارڈ کیا۔ 11 مئی کو، رئوف حسن نے واٹس ایپ کے ذریعے کرن تھاپر سے چیٹ کرتے ہوئے پاکستانی افواج کی نقل و حرکت کی غلط تشریح کی۔ رئوف حسن نے کہا کہ پاکستان کی سڑکوں اور گلیوں میں فوجی نقل و حرکت مکمل طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ رئوف حسن نے کہا کہ ہم غیر اعلانیہ مارشل لا کے دور سے گزر رہے ہیں۔سیاسی تجزیہ کاروں اور دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ کرن تھاپر کو بھیجے گئے رئوف حسن کے غیر محتاط واٹس ایپ پیغامات انتہائی تشویشناک ہیں، یہ پیغامات دراصل را کے اہلکاروں کے لیے معلومات کا خزانہ تھے، اور پی ٹی آئی کے ترجمان نے ان کے ذریعے پاکستان مخالف پروپیگنڈا کیا۔ ان پیغامات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ رئوف حسن نے کرن تھاپر کو پاکستانی افواج کے خلاف منفی تاثرات پر مبنی بیانیے کی تشہیر کرنے کے لیے آمادہ کیا۔دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ حساس معلومات کی فراہمی کا مقصد ریاست مخالف بیانیہ کو بھارتی میڈیا میں پروپیگنڈہ کے طور پر استعمال کرنا تھا۔ یہ پیغامات نہ صرف ریاست کی بدنامی کی سازش تھے بلکہ ممکنہ خونی انقلاب کے نام پر بھارتی میڈیا میں پاکستان کے بارے میں غیر یقینی پھیلانے کا پروپیگنڈا کرنے کا بھی ایک ذریعہ تھے۔ ان شواہد کی بنیاد پر رئوف حسن اور ان کے معاونین کے خلاف انتہائی جامع تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت، ریاست اور حکومتی و ریاستی ادارے اس حوالے سے کب اور کس انداز میں حرکت میں آتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں