Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

بین المسالک ہم آہنگی میں سعودی سفیر کا کردار

چند برس قبل کی بات ہے اسلام آباد کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل کی لابی میں بیٹھا تھا وہاں ایک صاحب سے ملاقات ہوئی جو عربی بول رہے تھے ،لیکن روایتی عربی لباس میں ملبوس نہیں تھے۔حال احوال اور علیک سلیک کے بعد میں نے اپنا تعارف کروایا انہوں نے اپنے بارے میں بتایا کہ وہ ایک سعودی ادارے میں ہوتے ہیں، اس وقت ہم دونوں ہی جلدی میں تھے رابطہ نمبرز کا تبادلہ ہوا۔تفصیلی ملاقات طے پائی۔چند دن بعد ان کے ہاں جانا ہوا تو معلوم ہوا کہ وہ صاحب سعودی ادارے کے کوئی عام سے ملازم نہیں بلکہ پاکستان میں سعودی عرب کے ملٹری اتاشی ہیں، جنہیں بعد ازاں پاکستان میں سعودی سفیر مقرر کر دیا گیا وہ تھے سعودی سفیر عزت مآب نواف بن سعید المالکی حفظہ اللہ۔
سعودی سفیر جس تواضع،حسن اخلاق چہرے پر پھیلی دائمی مسکراہٹ اور حسن سلوک کا مظاہرہ کرتے ہیں وہ ان کی شخصیت کا وہ پہلو اور وہ پہلا تاثر ہے جو ہمیشہ کے لیے دل و دماغ پر نقش رہتا ہے وہ انگلش مقولے first impression is the last impression کا صحیح مصداق ہیں۔
سفیر محترم کی جس دوسری خوبی نے بہت حیران کیا وہ ان کے مطالعہ کے وسعت تھی۔عام طور پر سفارت اور دیگر سرکاری مصروفیات کے ہوتے ہوئے انسان خود کو علمی طور پر اتنا مضبوط نہیں کر پاتا اور مطالعہ کرنے کا وقت ہی نہیں مل پاتا، لیکن سفیر محترم کا مطالعہ خاص طور پر ایسے عناصر جنہوں نے تاریخ میں اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچایا اور ہمیشہ امہ کے اتحاد و یکجہتی میں دراڑیں ڈالیں ان کی سازشوں، ریشہ دوانیوں اور ان کی کتب وتاریخ پر جتنی گہری نظرسفیر محترم کی ہے وہ بہت حیران کن ہے۔
سعودی عرب کے قومی دن کا موقع ہو یا پاک سعودی تعلقات کے حوالے سے کوئی سرگرمی، کسی موقع پر سعودی عرب کی طرف سے ہنگامی امداد کی ضرورت ہو یا پاکستانی معیشت اور روپے کو سہارا دینے کا مرحلہ۔ سعودی حکومت کے ذمہ داران پاکستانی آئیں یا سرمایہ کاری کرنے والے وفود اور انویسٹرز۔ سعودی سفیر جس مستعدی اور درست حکمت عملی سے محنت کرتے اور اپنا کردار ادا کرتے ہیں وہ قابل تحسین ہے۔
حالیہ دنوں میں امام مسجد نبوی فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر قاضی صلاح بن محمدالبدیر پاکستان تشریف لائے اور ان کے دورے کو جس طرح موثر،مفید اور منظم بنانے کے لیے سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی نے کردار ادا کیا وہ آب زر سے لکھنے کے قابل ہے۔
امام صاحب کا دورہ،ان کے اجتماعات، ان کی ملاقاتیں اور ان کے تقریبات کو سامنے رکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ کتنے اہتمام اور سلیقے سے سارا نظام بنایا گیا۔ایک چیز جو بطور خاص قابل ذکر ہے اور گزشتہ کئی عشروں کے دوران ہمیشہ ہی سے یہ مسئلہ رہا ہے کہ سعودی عرب کی پالیسی کہہ لیں یا مقامی ذمہ داران کا طرز عمل اس کی وجہ سے بدقسمتی سے یہ تاثر پیدا ہو گیا تھا کہ سعودی عرب پاکستان کے کسی ایک خاص مسلک کی پشت پناہی اور سرپرستی کرتا ہے۔
گزشتہ کچھ عرصے کے دوران اس تاثر کو سعودی عرب نے ریاستی اور حکومتی سطح پر بھی کافی حد تک دور کیا۔ اس سلسلے میں سعودی ولی عہد محمد بن سلیمان کی پالیسیاں توازن،اعتدال اور زمینی حقائق سے ہم آہنگ ہیں، لیکن پاکستان میں سعودی سفیر محمد نواف بن سعید المالکی نے اس حوالے سے بہت کلیدی کردار ادا کیا ہے۔سعودی سفیر کی طرف سے امام حرم نبوی کے اعزاز میں جو عشائیہ تقریب منعقد ہوئی، صرف اسی ایک تقریب کا احوال اور اس میں تشریف لانے والے مہمانوں کی فہرست اور انتخاب سامنے رکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ کس اعتدال، انصاف، توازن اور سلیقہ مندی سے تمام مسالک،تمام مکاتب فکر کو بھرپور نمائندگی دی گئی اور کس طرح ملک بھر کی اہم شخصیات اور اہم اداروں کی نمائندگان کی کہکشاں سعودی سفارت خانے میں جگمگا رہی تھی۔
حسن اتفاق سے ہم اس تقریب کے بالکل آغاز ہی میں پہنچ گئے تھے جس وقت ہم سفارت خانے میں مہمانوں کے لیے نصب خیمے میں داخل ہوئے تو سعودی سفیر نے اپنے روایتی انداز اور دلنواز مسکراہٹ سے استقبال کیا۔آپ اس وقت حسب معمول انتظامات میں مصروف عمل تھے اور بعد ازاں تمام مہمانوں کا فرداً فرداً استقبال کیا۔ تقریب کے دوران بھی تمام امور پر نظر رکھی۔ کھانے کے دوران اپنے ہاتھوں سے مہمانوں کا اکرام کرتے رہے اور سفارت خانے سے رخصت کرتے وقت بھی شدید بارش کے دوران ایک ایک مہمان کو پوری توجہ دی اور الوداع کہا۔
اس تقریب کے مہمانوں کی ان کی جماعتوں اور ان کے اداروں کی پوری فہرست لکھنے کی اس کالم میں گنجائش نہیں اگر ممکن ہوتا تو اندازہ ہوتا کہ کیسا بھرپور اور تاریخی اجتماع تھا اور کراچی لاہور ملتان فیصل آباد اور جانے کہاں کہاں سے لوگ کس خلوص، اہتمام اور محبت سے شریک ہوئے۔انتہائی مختصر وقت میں جن چند افراد کو اظہار خیال کا موقع دیا گیا وہ بھی ایک سے ایک عمدہ انتخاب تھا اور تمام مسالک کی بھرپور نمائندگی بھی۔لوگوں نے امام حرم نبوی اور سعودی عرب کے ساتھ محبت و عقیدت کا اظہار تو کیا ہی کیا، لیکن سعودی سفیر کے لیے جن احترامات، جذبات اور احساسات کا اظہار کیا گیا بلاشبہ وہ سفیر محترم کی بر؛سوں پر محیط خدمات اور ہر کسی کے ساتھ ذاتی و شخصی تعلقات اور مراسم کا ثمرہ تھا۔
اکثر مقررین اور مہمانوں نے نواف بن سعید المالکی کو صرف سعودی عرب کا نہیں بلکہ سعودی عرب میں پاکستان کا سفیر قرار دیا اور ان کی خدمات پر انہیں خراج تحسین پیش کیا۔تقریب کے اختتام پر سفیر محترم نے اپنی گفتگو کے آغاز میں ہی واضح کر دیا کہ وہ سفارتی اور رسمی گفتگو نہیں کریں گے بلکہ اپنے قلبی جذبات اور احساسات کا اظہار کریں گے چنانچہ جب انہوں نے رب ذوالجلال کی قسم کھا کر پاکستان اور پاکستانی قوم سے اپنی محبت کا اظہار ان الفاظ میں کیا کہ ’’اگر مجھے پاکستان کے لیے جان کی قربانی دینی پڑے،اپنا لہو پیش کرنا پڑے تو میں اس سے بھی دریغ نہیں کروں گا۔‘‘
تو سب حاضرین کے جذبات اور خوشی کا عالم دیدنی تھا،دو صوبوں کے گورنر اور اہم سیاسی شخصیات بھی اس تقریب میں موجود تھیں جو بلاشبہ کسی بھی تقریب کے لیے خصوصی امتیاز کی بات ہے، بہرحال تقریب تو معمول کی بات ہے لیکن یہ تقریب محض کوئی تقریب یا عشایہ نہیں تھا بلکہ بین المسالک ہم آہنگی کا اظہار اور پاکستان کے تمام مکاتب فکر،اہم دینی و سیاسی جماعتوں، بڑے داروں اور ممتاز رہنماؤں کی طرف سے امام و حرم نبوی کے استقبال،سعودی عرب سے دوستی کے اعتراف اور سفیر محترم کے حسن اخلاق کی قدر دانی کا موقع تھا۔
اللہ رب العزت پاک سعودی دوستی کو مزید استحکام نصیب فرمائیں اور اس حوالے سے کسی بھی طرح کردار ادا کرنے والوں کو جزائے خیر عطا فرمائیں(آمین یارب العالمین)۔

یہ بھی پڑھیں