اب ہم عزت کے قابل ٹھہرے
پاکستان آج اپنی تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں دنیا کی نظریں اس پر اب ایک کمزور یا جدوجہد کرتی ریاست کے طور پر نہیں بلکہ اعتماد اور قوت سے دوبارہ جنم لینے والی ایک قوم کے
پاکستان آج اپنی تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں دنیا کی نظریں اس پر اب ایک کمزور یا جدوجہد کرتی ریاست کے طور پر نہیں بلکہ اعتماد اور قوت سے دوبارہ جنم لینے والی ایک قوم کے
گڈریے یا چرواہے کی زندگی محنت، جدوجہد اور صبر و استقامت کا نہ ختم ہونے والا قصہ ہے۔ صبح کی پہلی کرن سے لے کر رات کے سناٹے تک وہ کھیتوں، کھلیانوں اور خطرناک پہاڑوں میں اپنے ریوڑ کے ساتھ
مجھے اب یاد نہیں کہ میری عمر کتنی ہے۔ دنوں کے نام مٹ چکے ہیں۔ بس اتنا جانتا ہوں کہ میں کبھی غزہ کا بچہ تھا، اُن دیواروں کے بیچ کھیلتا تھا جو اب مٹی کے ڈھیر میں بدل چکی
پاکستان اور چین کے تعلقات کی کہانی جدید عالمی سفارتکاری کی ایک ایسی لازوال داستان ہے جو یکم اکتوبر 1949ء کو عوامی جمہوریہ چین کے قیام سے شروع ہو کر آج تک جاری ہے۔ اُس وقت جب دنیا سرد جنگ
ظلم انسانیت کے ضمیر پر سب سے سیاہ داغ ہے۔ ہر دور، ہر قوم، ہر مذہب اور ہر تہذیب نے اسے مسترد کیا ہے۔ مگر افسوس یہ ہے کہ مذمت تو عام ہے لیکن خاموشی اکثر غالب آجاتی ہے، اور
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس امتیاز کے حامل ہیں کہ وہ دوسری مرتبہ ملک کے اعلیٰ ترین عہدے پر منتخب ہوئے۔ اپنے دورِ صدارت میں انہوں نے دنیا کے مختلف خطوں کے دورے کیے جن میں سے ہر ایک
جب 1947ء میں پاکستان کا ہلال و ستارہ والا پرچم پہلی بار بلند ہوا تو سب سے پہلے جس ملک نے اس نوزائیدہ ریاست کو گلے لگایا، وہ مملکتِ سعودی عرب تھی۔ عقیدے، جغرافیے اور تقدیر کے رشتوں میں بندھے
جب اسرائیل نےقطر پر آگ برسانا شروع کی تو دنیا نے صرف آسمان کی طرف نہیں دیکھا بلکہ زمین کی طرف بھی نظریں دوڑائیں؛ اُس امریکی اڈے کی طرف جو العدید میں واقع ہے—یہ مشرقِ وسطیٰ میں سب سے بڑا
اللہ رب العزت، جو تمام جہانوں کا خالق ہے، اس نے ہر جاندار کو ایک فطرت کے ساتھ پیدا کیا جو اس کی اصل پہچان ہے۔ شیر شکار کرتا ہے، فاختہ سکون بخشتی ہے، مکھی محنت کرتی ہے اور اژدھا
جدید دنیا میں، جہاں بداعتمادی اور دشمنی اکثر مفاہمت کے امکانات کو دبا دیتی ہیں، قطر نے مستقل مزاجی کے ساتھ اپنے لیے امن کی فاختہ کی حیثیت قائم کر لی ہے۔ جغرافیائی طور پر ایک چھوٹی ریاست ہونے کے