پاکستان کیوں نہیں بن سکتا ابراہیمی معاہدوں کا حصہ؟
عصرِ حاضر کی ہنگامہ خیز سفارت کاری میں قوموں کو اکثر ایک نازک موڑ پر کھڑا ہونا پڑتا ہے جہاں ایک جانب وقتی مفادات کی چمک دمک ہوتی ہے اور دوسری طرف اصول و اقدار کی وہ روشن شمع جو
عصرِ حاضر کی ہنگامہ خیز سفارت کاری میں قوموں کو اکثر ایک نازک موڑ پر کھڑا ہونا پڑتا ہے جہاں ایک جانب وقتی مفادات کی چمک دمک ہوتی ہے اور دوسری طرف اصول و اقدار کی وہ روشن شمع جو
تاریخ کے اوراق جب خاموشی اور وقار کے ساتھ پلٹے جاتے ہیں تو 28 مئی 1998ء پاکستان کی قومی زندگی کا ایک ایسا تابناک اور باوقار لمحہ دکھائی دیتا ہے جو ہمیشہ عزت و افتخار کی علامت بن کر زندہ
آج بھی پوری شدت کے ساتھ وہ لمحہ یاد ہے جب میں نے پہلی بار 1970ء کی دہائی میں شہرئہ آفاق فلم ’’بن ہر‘‘ سینما اسکرین پر دیکھی تھی۔ یہ ایک عظیم الشان فلم تھی جس نے گیارہ آسکر ایوارڈز
امریکہ کے صدرڈونلڈ ٹرمپ دو روزہ سرکاری دورہ چین مکمل کرکے وائٹ ہاؤس واپس لوٹ آئے ہیں۔ یہ دورہ نہ صرف عالمی دارالحکومتوں کی توجہ کا مرکز بنا رہا بلکہ اس نے چین اور امریکہ کے مابین سفارتی تعلقات کے
قدرتِ الٰہی نے انسان کے وجود کو اس حسنِ ترتیب سے تخلیق فرمایا ہے کہ اس کے ہر عضو کی صحت اور کارکردگی دوسرے اعضا سے جڑی ہوئی ہے۔ جسم کا کوئی ایک حصہ بھی اگر کمزور پڑ جائے تو
جب شبِ سیاہ کے مخملی دامن پر چاند اپنی نقرئی کرنیں بکھیرتا ہے تو اس کی روشنی ساحلوں سے لے کر بلند پہاڑوں تک ہر منظر کو ایک ایسی ہم آہنگی عطا کرتی ہے جو پوری انسانیت کے لئے یکساں
انسانی معاشرے کی اولین صبح سے ہی تصادم اجتماعی زندگی کا ایک ناگزیر پہلو رہا ہے۔ ریاستوں، سرحدوں اور تحریری قوانین کے وجود سے بہت پہلے، انسانی گروہ زمین، پانی، خوراک اور بقاء کے لئے باہم برسرِ پیکار رہے۔ یہ
(گزشتہ سےپیوستہ) آخر کون سنے گا قاصد کی بات جب پیغام خود ناگوار ہو؟یکم مئی کا سالانہ ڈرامہ — خوبصورت سٹیج، ریہرسل شدہ نعرے، چند یلیروں کے نیچے پڑھی جانے والی انقلابی شاعری — ایک خالی تماشا بن چکا ہے۔
یکم مئی ہر سال گھڑی کی سوئی کی طرح آتا ہے — مزدور طبقے سے عالمی یکجہتی کا نشان۔ دنیا بھر کے شہروں اور قصبوں میں حکومتیں اسے سرکاری چھٹی قرار دیتی ہیں۔ سڑکیں ریلیوں سے بھر جاتی ہیں، بینر
اسلام آباد کو اپنا مسکن بنائے ہوئے اب پچیس برس ہونے کو آئے ہیں۔ یہ وہ شہر ہے جس کی متوازن خاموشی اور منظم شاہراہیں بسا اوقات اپنے باسیوں کی ان کہی جدوجہد کو پردہ اخفا میں رکھتی ہیں۔ مجھے