اسلامی تحقیق و مطالعہ کے حوالہ سے جدید تحدّیات
(گزشتہ سے پیوستہ) جبکہ ایک سطح مغرب کی فکر و دانش کی یہ بھی سامنے آرہی ہے کہ انسانی سوسائٹی کے مستقبل کے تناظر میں قرآن کریم کی طرف رجوع کی ضرورت محسوس ہونے لگی ہے جس کے بارے میں
(گزشتہ سے پیوستہ) جبکہ ایک سطح مغرب کی فکر و دانش کی یہ بھی سامنے آرہی ہے کہ انسانی سوسائٹی کے مستقبل کے تناظر میں قرآن کریم کی طرف رجوع کی ضرورت محسوس ہونے لگی ہے جس کے بارے میں
تحقیق و مطالعہ کے دائرے اور سطحیں تو بہت مختلف اور متنوع ہیں جو سینکڑوں شعبوں میں پھیلی ہوئی ہیں لیکن چونکہ ہم شعبہ اسلامیات میں بیٹھے ہیں اور آپ سب حضرات کے موضوعات بھی اسی شعبہ سے تعلق رکھتے
پاکستان شریعت کونسل پنجاب بالخصوص ہمارے نائب امیر حضرت مولانا قاری عبید اللہ عامر اور ان کی ٹیم کا شکرگزار ہوں کہ (جامع مسجد صدیقیہ، سیٹلائیٹ ٹاؤن، گوجرانوالہ میں) اس محفل کا اہتمام کیا اور آپ حضرات سے ملاقات اور
ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کیا جا رہا ہے کہ ’’نظریۂ پاکستان‘‘ کیا ہے؟ اور اس کی تعبیر و تشریح کیا ہے؟ یہ بات ایسے لہجے میں کہی جا رہی ہے جیسے ان دوستوں کو سرے سے نظریۂ پاکستان
’’عید‘‘ کا لفظ قرآن کریم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حوالہ سے آیا ہے۔ سورۃ المائدہ آیت ۱۱۱ تا ۱۱۵ میں یہ واقعہ مذکور ہے کہ حضرت عیسیٰؑ سے ان کے حواریوں نے تقاضا کیا کہ کیا اللہ تعالیٰ
’’عید‘‘ کا لفظ قرآن کریم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حوالہ سے آیا ہے۔ سورۃ المائدہ آیت ۱۱۱ تا ۱۱۵ میں یہ واقعہ مذکور ہے کہ حضرت عیسیٰؑ سے ان کے حواریوں نے تقاضا کیا کہ کیا اللہ تعالیٰ
حج اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے جن پر اسلام کی عمارت قائم ہے، اور اللہ تعالیٰ کے گھر کی یہ حاضری اگرچہ حضرت آدم علیہ السلام کے وقت سے جاری ہے جنہوں نے سب سے پہلے
اس دوران کا ایک اور واقعہ بھی سامنے رکھ لیجیے کہ اس دور میں مدینہ منورہ میں ایک ’’این جی او‘‘ قائم ہوئی اور مسجد کے مقدس نام پر قائم ہوئی۔ جس کے بنانے والوں نے قسم کھا کر کہا
سیرت النبیؐ ایک مقدس عنوان ہے اور ہمارا عقیدہ ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جہاں تذکرہ ہوتا ہے وہاں برکات اور رحمتوں کا نزول ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ کی رضا نصیب ہوتی ہے، اور اجر
(گزشتہ سےپیوستہ) ہمارے ہاں اس وقت ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ’’غزہ پیس بورڈ‘‘ کیا ہے؟ سادہ سی بات یہ ہے کہ غزہ کو اسرائیلیوں نے فتح کرنے کی کوشش کی ہے، دو سال لڑائی لڑی ہے، غزہ والوں