Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

اسلامی تحقیق و مطالعہ کے حوالہ سے جدید تحدّیات

تحقیق و مطالعہ کے دائرے اور سطحیں تو بہت مختلف اور متنوع ہیں جو سینکڑوں شعبوں میں پھیلی ہوئی ہیں لیکن چونکہ ہم شعبہ اسلامیات میں بیٹھے ہیں اور آپ سب حضرات کے موضوعات بھی اسی شعبہ سے تعلق رکھتے ہیں اس لیے میں ’’اسلامیات‘‘ اور ’’تحدّیات‘‘ کے دو پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے کچھ گزارشات پیش کرنا چاہوں گا، اور آغاز ایک ایسے پہلو سے کروں گا جس کا اسلامیات کے ساتھ براہِ راست تعلق تو بظاہر دکھائی نہیں دیتا لیکن بالکل بے تعلق بھی نہیں ہے۔ وہ یہ کہ ہم سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں معاصر اقوام سے بہت پیچھے ہیں اور اس کا خمیازہ ابھی تک بھگت رہے ہیں۔
تاریخ کے ایک طالب علم کی حیثیت سے میرا خیال ہے کہ ہماری دو بڑی حکومتوں خلافت عثمانیہ اور مغل سلطنت نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے ارتقا کے دور میں جو بے توجہی اور غفلت برتی ہے، آج امت مسلمہ کو اس کے تلخ نتائج اور ثمرات کا سامنا ہے اور خدا جانے کب تک ہم اس صورتحال سے دو چار رہیں گے۔ اندلس میں مسلمان حکومتوں نے سائنس اور ٹیکنالوجی کی طرف توجہ دی تھی اور کام کا آغاز کر دیا تھا، آج مغرب کی سائنسی ترقی اور ٹیکنالوجی کے ارتقا کی بنیاد اسی دور کی تحقیقات پر ہے، لیکن ہم سائنس اور ٹیکنالوجی کی بنیادیں فراہم کر کے میدان سے ہٹ گئے اور اقتدار سے محروم ہو کر کارنر ہو گئے، جبکہ انہی بنیادوں پر مغرب نے سائنسی ترقی، صنعتی ایجادات اور ٹیکنالوجی کی بلند و بالا عمارت کھڑی کر دی۔ خلافت عثمانیہ اور مغل سلطنت اگر اس طرف توجہ دیتیں تو ہم اس ورثہ کو سنبھال سکتے تھے لیکن انہیں ان کاموں کی فرصت نہیں تھی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہم اس میدان سے آؤٹ ہو گئے اور مسلسل دوسروں کے دست نگر ہیں۔
میں اس بات کو اچھی طرح سمجھتا ہوں کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں امت مسلمہ کے معاصر اقوام سے پیچھے بلکہ بہت پیچھے رہ جانے میں صرف ہماری غفلت کار فرما نہیں ہے، بلکہ سائنس اور ٹیکنالوجی پر اجارہ داری حاصل کرنے والی قوموں کی اجارہ دارانہ ذہنیت کا بھی اس میں بڑا حصہ ہے۔ اسی وجہ سے آج سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ریسرچ، تحقیق اور تجربات کے مواقع مسلمانوں کو اس درجہ میں حاصل نہیں ہیں جو دوسری قوموں کو میسر ہیں۔ ایک خاص حد تک پہنچ جانے کے بعد کوئی نہ کوئی ریڈ لائن سامنے آجاتی ہے جو مسلمان محققین اور سائنس دانوں کے پاؤں کی زنجیر بن جاتی ہے اور ہم اس سے آگے نہیں بڑھ پاتے۔ اس کی ایک چھوٹی سی مثال ڈاکٹر عبد القدیر خان ہیں جن کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک ان خفیہ ریڈ لائنز کی نشاندہی کرتا ہے جو سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں مسلمانوں کو ایک حد سے آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے قائم کی گئی ہیں، یہ ریڈ لائنز بظاہر نظر نہیں آتی لیکن جونہی کوئی مسلمان انہیں کراس کرنے کی طرف بڑھتا ہے ان کی لائٹس خوبخود جلنے لگ جاتی ہیں۔
اس صورتحال کے نقصانات کا اندازہ کرنا ہو تو ایک مثال سامنے رکھ لیں کہ اب سے ایک صدی قبل عرب ممالک میں تیل کے زیر زمین چشمے دریافت ہوئے تو ہم مسلمان زمین کے اندر سے تیل نکالنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے، تیل نکال کر اسے ریفائن کرنے کی صلاحیت سے محروم تھے، اور ریفائن کر کے اسے مارکیٹ کرنے کی صلاحیت بھی ہمارے پاس نہیں تھی۔ اس لیے ہم نے مغربی ممالک کی کمپنیوں کو بلایا اور یہ سارا کام ان کے حوالہ کر دیا۔ ان کمپنیوں کے سرمائے کو سنبھالنے کے لیے بینک آئے، پھر ان ملکوں کی فوجیں آئیں، اور آج جو کچھ ہو رہا یہ وہ سب کے سامنے ہے۔ اس لیے میرے خیال میں اس جال سے نکلنے کے راستے تلاش کرنا اور سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں معاصر اقوام کے ساتھ برابری کی سطح پر آنے کی محنت کرنا بھی ملی اور دینی ضروریات میں سے ہے اور آج کی تحدّیات اور چیلنجز میں سر فہرست ہے۔
اس کے بعد میں اسلامی تعلیمات کے حوالہ سے تحدّیات کی طرف آؤں گا اور انہیں دو حصوں میں تقسیم کرنا چاہوں گا۔ ایک حصہ یہ کہ اس وقت عالمی سطح پر جو ثقافتی کشمکش جاری ہے اور مغربی فلسفہ و ثقافت کی یلغار سے اسلامی شریعت کے احکام اور مسلمانوں کی ثقافتی روایات و اقدار کو جو خطرات لاحق ہیں ان کی نشاندہی اور ان کے سدباب کے لیے مطالعہ اور ریسرچ ہماری ملی ضروریات میں سے ہے، اور خاص طور پر انسانی حقوق کے عالمی منشور اور نظام و قانون کا تجزیہ اور اسلامی تعلیمات کے ساتھ ان کی موافقت اور اختلاف کی حدود کا تعین اہم ترین علمی و فکری ضرورت کی حیثیت رکھتا ہے، جس طرف ہمارے دینی علمی مراکز کے ساتھ جامعات اور یونیورسٹیوں میں اسلامک اسٹڈیز کے شعبوں کو بھی توجہ دینی چاہیے۔
مغرب کے خاندانی نظام اور مسلمانوں کے خاندانی نظام میں کیا فرق ہے؟
عورت اور مرد میں مساوات کے عملی مسائل کیا ہیں؟
آزادی رائے اور آزادیٔ مذہب کے دائرے کیا ہیں؟
ریاست و حکومت کا مذہب کے ساتھ کیا تعلق ہے؟
مذہبی اکثریت و اقلیت کے باہمی معاملات کے اصول کیا ہیں؟
رفاہی ریاست کے بارے میں اسلامی تعلیمات اور روایات کیا ہیں؟
پارلیمنٹ کی خود مختاری اور قرآن و سنت کی بالا دستی کا باہمی جوڑ کیا ہے؟
انسانی حقوق کے کون سے پہلوؤں کے بارے میں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ہمارے تحفظات ہیں؟
اور مغربی جمہوریت اور اسلامی شورائیت میں حد فاصل کیا ہے؟
یہ اور اس نوعیت کے دیگر مسائل اس شعبہ میں ہمارے لیے ’’تحدیات‘‘ کا درجہ رکھتے ہیں اور تحقیق و مطالعہ کے ذوق سے بہرہ ور حضرات کی توجہ کے طالب ہیں۔ یہ مسائل اور چیلنجز تو وہ ہیں جن سے ہم اس وقت نبرد آزما ہیں اور جن کے حوالہ سے عالم اسلام میں فکری و تہذیبی کشمکش جاری ہے۔ ان مسائل کا قرآن و سنت اور اسلامی روایات کی روشنی میں حل تلاش کرنا اور اس سلسلہ میں امت مسلمہ کی راہنمائی کرنا ہمارے علمی و فکری مراکز کی ذمہ داری ہے، لیکن میں اس سے آگے کے ایک اور مرحلہ کی طرف بھی توجہ دلانا ضروری سمجھتا ہوں کہ مغربی دانش کی ایک سطح وہ ہے جو اسلامی تہذیب و تمدن کے خلاف صف آرا ہے اور اسلامی تعلیمات و روایات سے مسلمانوں کو برگشتہ کرنے کے لیے سرگرم عمل ہے۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں