Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

اسلامی تحقیق و مطالعہ کے حوالہ سے جدید تحدّیات

(گزشتہ سے پیوستہ)
جبکہ ایک سطح مغرب کی فکر و دانش کی یہ بھی سامنے آرہی ہے کہ انسانی سوسائٹی کے مستقبل کے تناظر میں قرآن کریم کی طرف رجوع کی ضرورت محسوس ہونے لگی ہے جس کے بارے میں چند حالیہ واقعات کو سامنے رکھنا مناسب ہو گا۔
کچھ عرصہ قبل عالمی معیشت کے بحران کے سلسلہ میں یہ خبر اخبارات کی زینت بنی کہ پاپائے روم پوپ بینی ڈکٹ نے اس بحران کا جائزہ لینے کے لیے اٹلی کے معاشی ماہرین کی کمیٹی تشکیل دی، جنہوں نے عالمی معیشت کے مروجہ نظام کے بارے میں اپنی رپورٹ میں واضح طور پر کہا کہ یہ نظام زیادہ دیر تک چلنے والا نہیں ہے اور عالمی معیشت کو صحیح ٹریک پر لانے کے لیے ان معاشی اصولوں سے راہنمائی حاصل کرنے کی ضرورت ہے جو قرآن کریم نے بیان کی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اس سے ان کی مراد غیر سودی معاشی نظام ہے کیونکہ عالمی معاشی ماہرین ایک عرصہ سے یہ کہہ رہے ہیں کہ سود نے معیشت کو فائدہ دینے کی بجائے نقصانات دیے ہیں اور موجود معاشی عدم توازن جس کا دائرہ دن بدن پھیلتا جا رہا ہے اس کی بنیادی وجہ سودی معیشت ہے۔ اس سلسلہ میں ایک دلچسپ بات اور بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ اسلامی بینکاری یعنی غیر سودی بینکاری کا رجحان خود مغربی ممالک کے بینکوں میں مسلسل بڑھ رہا ہے، غیر سودی سر مایہ کاری کو نسبتاً زیادہ محفوظ سمجھا جانے لگا ہے، اور مشارکت و مضاربت کی بنیاد پر غیر سودی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے لندن اور پیرس میں درون خانہ یہ کشمکش شروع ہو گئی ہے کہ اس کا مرکز کون ہو گا؟ اس وقت غیر سودی بینکاری کا بڑا مرکز لندن ہے جبکہ فرانس کی خواہش ہے کہ اس مرکزیت کو پیرس کی طرف لے جایا جائے۔ مجھے ورلڈ اسلامک فورم کے سیکرٹری جنرل مولانا مفتی برکت اللہ نے بتایا ہے، جو انڈیا سے تعلق رکھتے ہیں، فاضل دیوبند ہیں اور ایک عرصہ سے لندن میں مقیم ہیں، ان کا کہنا ہے کہ فرانس جو مسلمان عورت کے چہرے پر نقاب برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے اس کی کابینہ نے گزشتہ دنوں اپنے معاشی قوانین میں ایسی تبدیلیوں کی منظوری دی ہے جن کا مقصد اسلامی بینکاری کی مرکزیت کو پیرس کی طرف کھینچ لے جانے کی راہ ہموار کرنا ہے۔
مجھے اس سے اس وقت بحث نہیں ہے کہ جس اسلامی بینکاری کی مرکزیت کو اپنے پاس لے جانے کے لیے لندن اور پیرس میں کشمکش ہو رہی ہے اس کی اسلامیت کی سطح کیا ہے؟ میں صرف یہ بات محققین کی توجہ کے لیے پیش کر رہا ہوں کہ چونکہ مغرب کے نظام کی بنیاد صرف سرمایہ اور سرمایہ داری پر ہے اس لیے وہ محفوظ سرمایہ کاری اور دیگر معاشی مفادات کے لیے اسلامی بینکاری کو قبول کرنے میں بھی حجاب محسوس نہیں کرے گا۔ مغرب کو سرمائے سے غرض ہے اور سرمایہ دار کا مزاج یہ ہوتا ہے کہ سرمایہ جدھر سے آئے اور جیسے بھی محفوظ رہے وہ اس کو حاصل کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہتا ہے۔ چونکہ غیر سودی بینکاری میں معاشی مفادات نظر آنے لگے ہیں اس لیے اسلامی بینکاری کو راستہ دینے کے لیے مغرب کی بینکار سنجیدگی کے ساتھ متوجہ ہو رہے ہیں۔ اور میں اسے بھی مسلمانوں کے علمی مراکز، دینی مدارس اور یونیورسٹیوں کے شعبہ ہائے اسلامیات کے لیے تحدی اور چیلنج ہی تصور کرتا ہوں۔
اسی نوعیت کی ایک اور پیشرفت پر بھی نظر ڈال لیں کہ ماحولیات کا مسئلہ اس وقت عالمی توجہ کے اہم ترین مسائل میں سے ہے، فضا کی آلودگی، تابکاری اثرات، کیمیاوی اثرات اور پانی کی آلودگی مستقل مسئلہ بنے ہوئے ہیں۔ ہمارے سائنسدان مسلسل ڈرا رہے ہیں کہ پینے کے قابل پانی کا حصول مستقبل قریب میں انتہائی مشکل ہو جائے گا اور فضائی آلودگی اسی طرح بڑھتی رہی تو سانس لینا بھی دشوار ہو جائے گا۔ گزشتہ سال جون میں اس مسئلہ پر نیویارک میں ایک عالمی کانفرنس ہوئی جہاں بین الاقوامی سطح کے ماہرین نے اس سلسلہ میں اپنے تجزیے اور تجاویز پیش کیں، اس موقع پر برطانوی ولی عہد شہزادہ چارلس نے بھی خطاب کیا اور ان کے خطاب کے جو جملے مختلف چھلنیوں سے گزرتے ہوئے امریکی پریس میں شائع ہوئے، ان میں سے ایک جملہ یہ ہے کہ انسانی سوسائٹی کو ماحولیات کے حوالہ سے کسی بڑی تباہی سے بچانے کے لیے ان معاشرتی قوانین کی طرف رجوع کرنا ہو گا جو قرآن کریم نے بیان کیے ہیں۔ اس کی تفصیل وہی بتا سکیں گے لیکن میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ قرآن کریم کی طرف رجوع کی ضرورت اب عالمی سطح پر پھر سے محسوس ہونے لگی ہے جو اسلامی تعلیمات کے ماہرین سے توجہ کی طلب گار ہے۔
اس کے ساتھ اس بات کو بھی شامل کر لیں کہ مغربی ملکوں میں جو لوگ مسلمان ہو رہے ہیں ان کے بارے میں جہاں مغربی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے وہاں اس بات پر ریسرچ اور تحقیق کا سلسلہ بھی جاری ہے کہ مغربی ممالک اور یورپین نسلوں کے لوگوں کی اتنی بڑی تعداد کے اسلام قبول کرنے کی وجہ اور اس کے اسباب کیا ہیں؟ چنانچہ ایک معروف انگریز نو مسلم دانشور ڈاکٹر یحییٰ برٹ نے اسے باقاعدہ طور پر اپنے ڈاکٹریٹ کے مقالہ کا موضوع بنایا ہے اور تحقیق کے بعد بتایا ہے کہ یورپ میں قبول اسلام کرنے والے یورپین نسل کے لوگوں کے اسلام قبول کرنے کی سب سے بڑی وجہ قرآن کریم کا مطالعہ اور اسٹڈی ہے۔ ڈاکٹر یحییٰ برٹ کا کہنا ہے کہ پچھلے دس سال کے دوران یورپ میں یورپین نسلوں کے کم و بیش تیرہ ہزار افراد نے اسلام قبول کیا ہے اور ان میں اسی (۸۰) فیصد کے لگ بھگ لوگ وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم نے قرآن کریم کا مطالعہ کیا ہے اور اس مطالعہ اور اسٹڈی کے نتیجے میں مسلمان ہوئے ہیں۔
اس لیے میں یونیورسٹیوں اور دینی مدارس میں تحقیق اور ریسرچ کے شعبوں سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ حال کے موضوعات کے ساتھ ساتھ مستقبل کے ان امکانات پر بھی نظر رکھیں اور انسانی سوسائٹی کے مستقبل کی ضروریات اور تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے تخصصات، ایم فل، پی ایچ ڈی اور دیگر دائروں میں تحقیقات کے نئے زاویوں اور پہلوؤں کی طرف توجہ دیں، یہ ہماری ضرورت بھی ہے اور ذمہ داری بھی ہے۔ مستقبل کے امکانات کو اجاگر کرنا اور متوقع خدشات و خطرات کی نشاندہی کرتے ہوئے صحیح سمت راہنمائی کرنا آج کے دور کی سب سے بڑی تحدی اور چیلنج ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں اس پر پورا اترنے کی توفیق دیں، آمین یا رب العالمین۔

یہ بھی پڑھیں