پھر نہ کہنا، ہمیں خبر نہ ہوئی
آخر ہم چاہتے کیا ہیں؟ ہمارا مقصدِ حیات کیا ہے؟ ہم خود کو، اپنے معاشرے کو اور اپنے وطن کو کس منزل کی طرف لےجاناچاہتے ہیں؟ ہمارااجتماعی خواب کیا ہے؟ اس خواب کی تعبیر کیاہوسکتی ہے؟ اوراس خواب کوحقیقت میں
آخر ہم چاہتے کیا ہیں؟ ہمارا مقصدِ حیات کیا ہے؟ ہم خود کو، اپنے معاشرے کو اور اپنے وطن کو کس منزل کی طرف لےجاناچاہتے ہیں؟ ہمارااجتماعی خواب کیا ہے؟ اس خواب کی تعبیر کیاہوسکتی ہے؟ اوراس خواب کوحقیقت میں
معاشرتی نظم و ضبط، احساسِ ذمہ داری اور اخلاقی جرات کسی بھی مہذب اور ترقی یافتہ قوم کی بنیاد ہوتے ہیں۔ یہی اوصاف وہ پہلی اینٹ ہیں جن پر ایک پائیدار، خوشحال اور منظم معاشرہ تعمیر کیا جاتا ہے۔ اگر
تعلیم و تربیت کسی بھی معاشرے کی روح اور اساس ہوتی ہے۔ یہی عمل فرد کی سوچ، کردار، طرزِ عمل اور مجموعی قومی مزاج کو تشکیل دیتا ہے۔ اگر علم درست ہو تو تربیت مثبت ہو گی اور اگر علم
سانحہ سوات کے مناظر سوشل میڈیا پر دیکھے۔ وہ مناظر جو روح کو چیر گئے، دل کو زخمی کر گئے۔ ایسا لگا جیسے کوئی تیز دھار نشتر روح میں اتر گیا ہو۔ کلیجہ منہ کو آنے لگا۔ سانسیں ہوکوں میں
جنگ تباہی لاتی ہے۔ انسانی جانوں کا ضیاع، معیشت کی بربادی، ریاستوں کی کمزوری۔ مگر بعض اوقات یہی جنگیں نئے حقائق کو بے نقاب کر دیتی ہیں، اور بعض پوشیدہ امکانات کو اجاگر بھی کرتی ہیں۔ فوجی دنیا میں ’’ڈیٹرنس‘‘
دنیا کے بدلتے سیاسی منظرنامے پر نگاہ رکھنے والا ایک عام شخص بھی یہ بات جانتا تھا کہ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے نشانے پر ہے۔ مگر اِس حقیقت سے زیادہ اہم وہ چالاکی ہے، جس سے دشمنوں نے ایران
کامیابی کسی ایک فردیاادارےکا تنہاکارنامہ نہیں ہوتی۔ یہ درحقیقت اجتماعی کاوش، فکری ہم آہنگی، قربانی، مہارت اورعزم کا نچوڑ ہوتی ہے۔ جب کسی مہم میں کامیابی حاصل ہوتی ہے تو اس کا اخلاقی، پیشہ ورانہ اور تہذیبی تقاضا یہی ہوتا
21 مئی 2025ء کو بلوچستان کے مرکزی شہر خضدار میں ہونے والا دہشت گرد حملہ نہ صرف ایک دلخراش انسانی سانحہ تھا بلکہ یہ پاکستان کی ریاستی رٹ، قومی غیرت، اور علاقائی استحکام کے خلاف ایک چیلنج بھی بن کر
بعض لوگ پیدائشی خوش نصیب ہوتے ہیں، اور بعض اپنی صلاحیت، محنت اور استقامت سے قسمت کو اپنے حق میں کر لیتے ہیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا شمار ان شخصیات میں ہوتا ہے جن کے بارے میں کہا جا
گزشتہ صدی نے انسانیت کو ایک تلخ اور خونی سبق دیا۔ دو عالمی جنگوں، لاتعداد علاقائی تنازعات، اور نظریاتی تصادمات نے پوری دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ یورپ، جو تہذیب و تمدن کا گہوارہ سمجھا جاتا تھا، میدانِ جنگ