پردیس میں روشنی بکھیرتا،عظیم پاکستانی ستارہ
سیر و سیاحت میرا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ اس کے ذریعے مجھے دنیا کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ ہر سفر معلومات اور اعتماد میں بے پناہ اضافہ کرتا ہے۔ کہیں قدرتی مناظر دل کو مسحور کرتے
سیر و سیاحت میرا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ اس کے ذریعے مجھے دنیا کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ ہر سفر معلومات اور اعتماد میں بے پناہ اضافہ کرتا ہے۔ کہیں قدرتی مناظر دل کو مسحور کرتے
کل سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو نے دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ منظر بیرونِ ملک کے کسی شہر کی سڑک کا تھا، جہاں سمندر پار پاکستانیوں کا ایک چھوٹا سا گروہ چودہ اگست کے موقع پر یومِ آزادی کی
آپریشن سندور بھارت کی ایک عبرتناک غلطی ثابت ہوا۔ پاکستان پر جارحیت دراصل بھڑ کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے کے مترادف تھی۔ اس کے نتائج کی ’’مکھیاں‘‘ کسی پل اسے چین نہیں لینے دے رہیں۔ زخم خوردہ چہرہ اور انا
آخر ہم چاہتے کیا ہیں؟ ہمارا مقصدِ حیات کیا ہے؟ ہم خود کو، اپنے معاشرے کو اور اپنے وطن کو کس منزل کی طرف لےجاناچاہتے ہیں؟ ہمارااجتماعی خواب کیا ہے؟ اس خواب کی تعبیر کیاہوسکتی ہے؟ اوراس خواب کوحقیقت میں
معاشرتی نظم و ضبط، احساسِ ذمہ داری اور اخلاقی جرات کسی بھی مہذب اور ترقی یافتہ قوم کی بنیاد ہوتے ہیں۔ یہی اوصاف وہ پہلی اینٹ ہیں جن پر ایک پائیدار، خوشحال اور منظم معاشرہ تعمیر کیا جاتا ہے۔ اگر
تعلیم و تربیت کسی بھی معاشرے کی روح اور اساس ہوتی ہے۔ یہی عمل فرد کی سوچ، کردار، طرزِ عمل اور مجموعی قومی مزاج کو تشکیل دیتا ہے۔ اگر علم درست ہو تو تربیت مثبت ہو گی اور اگر علم
سانحہ سوات کے مناظر سوشل میڈیا پر دیکھے۔ وہ مناظر جو روح کو چیر گئے، دل کو زخمی کر گئے۔ ایسا لگا جیسے کوئی تیز دھار نشتر روح میں اتر گیا ہو۔ کلیجہ منہ کو آنے لگا۔ سانسیں ہوکوں میں
جنگ تباہی لاتی ہے۔ انسانی جانوں کا ضیاع، معیشت کی بربادی، ریاستوں کی کمزوری۔ مگر بعض اوقات یہی جنگیں نئے حقائق کو بے نقاب کر دیتی ہیں، اور بعض پوشیدہ امکانات کو اجاگر بھی کرتی ہیں۔ فوجی دنیا میں ’’ڈیٹرنس‘‘
دنیا کے بدلتے سیاسی منظرنامے پر نگاہ رکھنے والا ایک عام شخص بھی یہ بات جانتا تھا کہ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے نشانے پر ہے۔ مگر اِس حقیقت سے زیادہ اہم وہ چالاکی ہے، جس سے دشمنوں نے ایران
کامیابی کسی ایک فردیاادارےکا تنہاکارنامہ نہیں ہوتی۔ یہ درحقیقت اجتماعی کاوش، فکری ہم آہنگی، قربانی، مہارت اورعزم کا نچوڑ ہوتی ہے۔ جب کسی مہم میں کامیابی حاصل ہوتی ہے تو اس کا اخلاقی، پیشہ ورانہ اور تہذیبی تقاضا یہی ہوتا