Search
Close this search box.
اتوار ,05 جولائی ,2026ء

جب صدر پاکستان جنرل ضیاء الحق بینجمن سسٹرز کا گیت سن کر غصے میں آ گئے

کراچی (نیوزڈیسک) ماضی کے جھرکوں سے پردہ اٹھاتے ہوئے وقار عظیم نے اپنی یاداشتوں پر مبنی کتاب میں لکھا کہ پی ٹی وی سینٹر کراچی صدرِ پاکستان جنرل ضیاالحق موجود ہیں کہ ملی نغمہ ’خیال میں ایک روشنی ہے‘ نشر کیا جانے لگا۔ اس نغمے کی ویڈیو دیکھتے ہی صدر اچانک غصے میں آگئے اور کہنے لگے ’میں اسلامی نظام کی بات کر رہا ہوں اور آپ لوگ یہ کیا ہندوانہ قسم کا نغمہ نشر کر رہے ہیں۔‘

پاکستان ٹیلی ویژن کے سابق مینیجنگ ڈائریکٹر اختر وقار عظیم نے اپنی یادداشتوں پر مبنی کتاب ’ہم بھی وہیں موجود تھے‘ میں جہاں پی ٹی وی میں ریکارڈ کیے جانے والے مشہور ملی نغموں کا پس منظر بیان کیا ہے وہیں اس واقعے کو بھی تفصیل سے لکھا ہے۔

بی بی سی رپورٹ کے مطابق وہ اس واقعے کا پس منظر بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ قوم سے خطاب میں جنرل ضیاالحق نے ملک میں اسلامی نفاذ سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا تو سب کو یہ فکر ہوگئی کہ اس تقریر کے بعد کون سا قومی نغمہ نشر کیا جائے۔’آغا ناصر منیجنگ ڈائریکٹر تھے انھیں متعلقہ محکمے کے سربراہ نے کئی نغمے دکھائے لیکن کچھ نغمے گلوکاروں کے لباس اور کچھ ایسے اشعار کی وجہ سے جنھیں مختلف معنی پہنائے جا سکتے تھے، آغا صاحب کو پسند نہیں آئے۔

اختر وقار کے مطابق وہ پی ٹی وی کراچی سینٹر پر جنرل منیجرتھے اور خود ان کے مشورے سے یہ طے ہوا کہ تقریر کے بعد ’سوہنی دھرتی اللہ رکھے قدم قدم آباد‘ کی دھن نشر کردی جائے چنانچہ ایسا ہی ہوا اور شام بخیریت گزر گئی لیکن اگلی صبح صدر کے ملٹری سیکریٹری ان کے دفتر آن پہنچے اور بتایا کہ صدر گذشتہ روز اپنی تقریر کے بعد نشر کی جانے والی شام کی ٹرانسمیشن کی ریکارڈنگ دیکھنے کے خواہشمند ہیں اس لیے انتظامات کر لیے جائیں۔

اختر وقار مزید لکھتے ہیں کہ کچھ دیر کے بعد صدر تشریف لے آئے، حسب روایت سب سے مسکرا مسکرا کر ہاتھ ملایا، خیریت دریافت کی اور بیٹھ گئے۔ جب صدر صاحب کو تقریر کی ریکارڈنگ دکھائی جانے لگی تو انھوں نے کہا کہ اسے چھوڑیے، آگے دکھائیے۔ سوہنی دھرتی کی دھن بجنے لگی تو صدر اور دیگر افراد بھی نغمے کے بول گنگنانے شروع کر دیے۔ دھن ختم ہوئی تو اس کے بعد اشتہارات اور پھر خبرنامے کی باری آئی۔

پاکستان ٹیلی ویژن کے سابق مینیجنگ ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ آدھے گھنٹے کے خبرنامے میں 20 منٹ صدر کی تقریر اور باقی دس منٹ دوسری خبروں کو دیے گئے تھے اور جیسے ہی خبرنامے کے بعد بینجمن سسٹرز کی آواز میں نغمہ نشر ہوا تو وہ ناراض ہوئے اگلے روز اس وقت کے ایم ڈی پی ٹی وی آغا ناصر سمیت تمام افسران کو تبدیل کر دیا گیا۔

آخر اس نغمے میں ایسا کیا تھا؟
یہ 1980 کی دہائی تھی اور مسیحی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی تین بہنیں نریسا، بینا اور شبانہ بینجمن سسٹرز کے نام سے پاکستان ٹیلی ویژن پر اپنے منفرد اندازِ گائیکی کی وجہ سے کافی مقبول تھیں۔ ’خیال میں ایک روشنی ہے‘ نامی یہ گیت بھی انھی بہنوں نے گایا تھا اور اس کی ویڈیو میں انھیں ہاتھوں میں چراغ لیے سیڑھیاں چڑھتے دکھایا گیا تھا۔یہ ویڈیو دیکھ کر جنرل ضیا الحق ایک دم غصے میں آگئے اور کہنے لگے کہ ’میں اسلامی نظام کی بات کر رہا ہوں اور آپ لوگ یہ کیا ہندوانہ قسم کا نغمہ نشر کر رہے ہیں۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’ان لڑکیوں کا لباس بھی مناسب نہیں۔کوئی میری بات، میری سوچ کو سمجھنے کی کوشش نہیں کر رہا۔‘


پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈرنے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا

یہ بھی پڑھیں