Search
Close this search box.
پیر ,29 جون ,2026ء

تین گھنٹوں پر مشتمل افواج پاکستان کے نمائندے کی پریس کانفرنس کا خلاصہ میری باتوں کا جواب تھا،فضل الرحمان

اسلام آباد(نیوزڈیسک)جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ تین گھنٹوں پر مشتمل افواج پاکستان کے نمائندے کی پریس کانفرنس کا خلاصہ میری باتوں کا جواب تھا،آج میں دس لاکھ بندوں کے ساتھ میدان میں کھڑا ہوں تو کسی دلیل کے ساتھ کھڑا ہوں ۔

جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ الیکشن کے حوالے سے فوج کا کوئی کردار نہیں ہے، یہی بات ہم بھی کہتے ہیں کہ پاکستان کے آئین اور قانون کے میں فوج کے سیاست میں مداخلت پر کوئی رولز نہیں ہیں ، لیکن سارا رولا ہی سیاست میں مداخلت کا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ فوج پر تنقید بغاوت ہے ، لیکن آپ جب سیاست میں مداخلت کر کے آرٹیکل کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو پھر آپ بھی فوجی نہیں رہتے ، اس لئے ہم بھی آپ پر تنقید کرتے ہیں ، ہم نے اندھی سیاست نہیں کی ہے، میں افواج پاکستان کے آرمی چیف اور دیگر سربراہان کو جانتا ہوں ، میرا دعویٰ یہی ہے کہ فوج سیاست میں مداخلت کرتی ہے، جب آپ سیاسی بنیں گے تو پھر مجھ پر آپ کا احترام لازم نہیں ہے، اپنے معاملات درست کریں، ہم آپ کا احترام کریں گے۔

مزیدپڑھیں:مزیدپڑھیں:دنیا بھر میں سال 2023 میں روزانہ کی بنیاد پر کم از کم دو سائبر حملے ہوئے: کیسپرسکی ماہرین

انہوں نے کہاکہ پاکستان کے قیام میں فوج کا کوئی رول نہیں ہے ،پاکستان کا جھنڈا ہم نے لہرایا ہے ، لیکن فوج کا کردار پاکستان کو توڑنے میں ہے ، سن 1971 میں 90 ہزار فوج ایک ہندو کے سامنے سرنگوںہوئی ، جس سے پوری قوم کا سر جھک گیا ، تم اگر وردی پہن کر رعب جمانا چاہتے ہیں تو پھر آپ سب مل کر میرے جسم کو چھو نہیں سکتے۔

انہوں نے کہاکہ میں قو م کی تائید سے یہ بات واضح کرتا ہوں کہ اب قبائل سے فوج کو واپس جانا چاہئے ، آپریشن کے نام پر قبائل پر ظلم ڈالے گئے، قبائل کے اونچے شملے نیچے کردئے گئے، اور 2010 سےیہ آپریشن چل رہا ہے ، ہم نے اس وقت بھی قبائل کا جرگہ بنا کر مؤقف دیا تھاکہ یہ آپریشن درست نہیں ہے، آج ہمارا مؤقف درست نکلا ، اگر ہمارا مؤقف درست نہیں تھا تو پھر آج دہشت گردی ختم کیوں نہیں ہوئی؟

یہ بھی پڑھیں