کراچی (نیوزڈیسک) وفاقی حکومت نے اپنا پہلا بجٹ پیش کیا جس میں جارحانہ ٹیکسوں کے ذریعے آئی ایم ایف سے خاطر خواہ بیل آؤٹ حاصل کرنے پر توجہ دی گئی۔وفاقی بجٹ میں انکم ٹیکس ریونیو میں تقریباً 50 فیصد اضافے اور جنرل سیلز ٹیکس کی وصولی میں 36 فیصد اضافے کا ہدف رکھا گیا ۔
مزید مہنگائی کے خدشات کے درمیان سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے تنخواہ دار افراد کے لیے ٹیکس کی شرح میں کمی کی تجویز پیش کی۔ کمیٹی نے نان فائلرز کے فون اور انٹرنیٹ سروسز پر ٹیکس کی منظوری بھی دی تاہم جائیداد کے لین دین پر 15 فیصد کیپٹل گین ٹیکس اور ٹیکس وصولی کیلئے پارلیمنٹرینز کے ریکارڈ نادرا کے ساتھ شیئر کرنے کی تجویز مسترد کر دی۔
سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے دیر سے فائلرز اور نان فائلرز پر یکساں ٹیکس لگانے کا مطالبہ کیا جبکہ دیگر ارکان نے فائلرز کے لیے ای اے ای اور نان فائلرز پر سخت ٹیکس لگانے کی وکالت کی۔کمیٹی نے پراپرٹی ٹیکس میں اضافے کی تجویز موخر کر دی اور فاٹا اور پاٹا کے لیے ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کو مسترد کر دیا۔
ایف بی آر کے چیئرمین نے نان فائلرز پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی بلند شرح کو اجاگر کرتے ہوئے ان کی موبائل سمز کے ممکنہ منقطع ہونے اور کاروباری آپریشنز کا ذکر کیا۔ آئندہ مالی سال سے پراسیسڈ فوڈ آئٹمز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کر دیا جائے گا اور زیرو ریٹنگ ختم کر دی جائے گی۔
کمیٹی نے نان فائلرز کے غیر ملکی سفر پر پابندی کی بھی منظوری دی، بعض کیٹیگریز کے لیے استثنیٰ ہے۔ نان فائلرز کو اپنی موبائل سم، بجلی اور گیس کے کنکشن منقطع کرنے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایف بی آر کے چیئرمین نے اس بات کا اعادہ کیا کہ نان فائلرز کو ود ہولڈنگ ٹیکس کی بلند شرحوں اور ان کی موبائل سمز اور کاروباری آپریشنز کے ممکنہ منقطع ہونے کا سامنا کرنا پڑے گا، بشمول وہ لوگ جو عارضی طور پر فائلرز بن رہے ہیں۔
او لیول کے طلباء کو غیرملکی مصنف کی کتاب پڑھانے پرپابندی عائد


