اسلام آباد :پاکستان تحریک انصاف کے بانی، عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت کی نیت واضح ہو چکی ہے اور وہ 24 نومبر کو ہونے والے احتجاج کو ہر حال میں مکمل طور پر کامیاب بنائیں گے۔ ایک پریس کانفرنس کے دوران بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ حکومت کے ساتھ بات چیت اور مذاکرات جاری ہیں، مگر ان میں سنجیدگی کا فقدان ہے۔
عمران خان نے مزید کہا کہ انہیں واضح طور پر معلوم ہو چکا ہے کہ 24 نومبر سے پہلے ان کی رہائی ممکن نہیں، اور اگر حکومت بات چیت میں سنجیدہ ہے تو پہلے اپنے گرفتار کارکنوں کو رہا کرے۔ انہوں نے بتایا کہ جیل میں رہتے ہوئے ان پر 60 سے زیادہ مقدمات درج ہو چکے ہیں، لیکن حکومت نے ان کے خلاف مزید سختی اختیار کی ہے۔
بانی پی ٹی آئی نے سابق وزیراعظم نواز شریف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب نواز شریف نے ضمانت کے لیے شورٹی بانڈ جمع کرائے تھے تو ان کی بائیومیٹرک بھی ایئرپورٹ پر کی گئی تھی، مگر ان کے ساتھ ایسا سلوک کیوں نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مذاکرات کے دوران جو بات چیت ہو رہی ہے، اس میں حکومت کی جانب سے سنجیدگی کا فقدان ہے، اور اس کا ایک واضح ثبوت انڈر ٹرائل قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ ہے۔
عمران خان نے کہا کہ ان کے چارٹر آف ڈیمانڈ میں سب سے اہم مطالبہ یہ ہے کہ تمام گرفتار افراد کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہائیکورٹ نے ان کی ضمانت منظور کی تھی اور حکومت کے پاس یہ سنہری موقع تھا کہ وہ انہیں رہائی دے دیتی، مگر حکومت نے اس موقع کو ضائع کر دیا۔
انہوں نے بتایا کہ علی امین گنڈاپور اور بیرسٹر گوہر کے ذریعے انہیں احتجاج ملتوی کرنے کی آفر کی گئی تھی، مگر ان کی یہ آفر صرف اس لیے تھی تاکہ معاملات کو طول دیا جا سکے اور احتجاج کو روکا جا سکے۔
عمران خان نے واضح طور پر کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ وہ انہیں اور ان کے کارکنوں کو سیاسی معاملات میں پھنسائے رکھے۔ انہوں نے کہا کہ 26 ویں آئینی ترمیم کے نافذ ہونے کے بعد حکومت کے پاس مزید ریلیف کے امکانات نہیں ہوں گے، اور اس کے بعد احتجاج کے سوا کوئی اور راستہ نہیں بچے گا۔
بانی پی ٹی آئی نے سیاسی جماعتوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کے دروازے کبھی بند نہیں کیے جاتے، مگر اس وقت حکومت کے ساتھ ان کے مذاکرات بے نتیجہ ہیں کیونکہ حکومت صرف وقت گزارنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے مطالبات پر فوری عمل درآمد کیا جا سکتا تھا، مگر حکومت نے ان پر کوئی توجہ نہیں دی۔
انہوں نے کہا کہ 24 نومبر کا احتجاج ہر صورت ہوگا، اور عوام کو ان کے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکلنا ہوگا کیونکہ حکومت کی طرف سے کوئی سنجیدہ پیش رفت نہیں ہوئی۔

