Search
Close this search box.
پیر ,29 جون ,2026ء

بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سینئر صحافی اور اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ مقبول حکمرانوں کے لئے خطرہ ہمیشہ باہر سے نہیں، بلکہ اندر سے آتا ہے، کیونکہ اکثر اپنے ہی لوگ ان کے خلاف سازش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیشہ کسی غدار کی وجہ سے قلعے کا دروازہ کھلتا ہے اور پھر اس کا دفاع ممکن نہیں رہتا۔

مبشر لقمان اپنے یوٹیوب چینل پر ایک وی لاگ میں اس بات کا اظہار کر رہے تھے کہ بشریٰ بی بی نے عمران خان کے ساتھ جو کچھ کیا، وہ ایک خود کش حملے سے کم نہیں تھا۔ ان کے مطابق، “پنکی پیرنی” نے عمران خان اور ان کی جماعت کو جس انداز میں نقصان پہنچایا، اس کے بعد دفاع کرنا کسی کے لیے ممکن نہیں رہا۔ وہ کہتے ہیں کہ زبان سے نکلنے والے الفاظ گولیوں سے زیادہ طاقتور ہوتے ہیں اور بشریٰ بی بی نے بے بنیاد الزامات کی بنیاد پر ایک ویڈیو جاری کی، جس سے عمران خان کو ایسے زخم ملے جو کبھی نہیں بھر سکتے۔

مبشر لقمان نے مزید کہا کہ اس ویڈیو سے یہ ثابت ہو گیا کہ عمران خان نے اپنے دور حکومت میں تمام دوستوں کو ناراض کیا، پاکستان کو عالمی سطح پر سفارتی تنہائی کا شکار بنایا، اور سرمایہ کاروں کو ملک سے بھگا دیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب عمران خان اور بشریٰ بی بی سعودی عرب گئے تھے تو وہاں انہیں پروٹوکول کیوں دیا گیا؟ کیا سعودی ولی عہد نے عمران خان کی حمایت نہیں کی تھی؟ اس کے باوجود، اگر سعودی عرب نے عمران خان کی حکومت ختم کرنے کا کہا تھا، تو پھر سائفر کا معاملہ کیوں اُٹھایا گیا؟

مبشر لقمان نے کہا کہ یہ تمام واقعات عمران خان کے لیے پیچیدہ مسائل بن چکے ہیں اور بشریٰ بی بی کی حالیہ حرکتیں مزید مشکلات کا سبب بن سکتی ہیں۔ ان کے مطابق، پنکی پیرنی کی یہ “ڈیجیٹل دہشت گردی” کسی خاص مقصد کے تحت کی گئی ہے اور اس کے اثرات پاکستان کے لیے سنگین ہو سکتے ہیں۔

مبشر لقمان نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت ابھی تک باہر نکلنے کو تیار نہیں ہے اور نہ ہی کارکنان کو باہر نکالا جا رہا ہے۔ وہ سعودی سرمایہ کاری کے متاثر ہونے اور پاکستان کے معاشی بحران سے نکلنے کے خدشات کے بارے میں بھی بات کر رہے تھے۔ ان کے مطابق، بشریٰ بی بی کی موجودہ کارروائیاں اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ وہ چاہتی ہیں کہ سعودی سرمایہ کاری رک جائے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پنکی پیرنی کے بیان کی تردید کر دی ہے اور پی ٹی آئی والے بھی وضاحتیں دے رہے ہیں، مگر بشریٰ بی بی کو روکنے کے لیے کسی میں ہمت نہیں ہے۔ مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے دونوں فریقین کو بات چیت کے لئے کہی ہے، لیکن نہ عمران خان اور نہ ہی بشریٰ بی بی اس بات پر راضی ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہو سکتا ہے کہ بشریٰ بی بی گنڈا پور کو قربانی کا بکرا بنا دیں، جیسا کہ وہ مولانا فضل الرحمان کو تین پیغامات بھیج چکی ہیں۔


مزیدپڑھیں:امارات میں ہزاروں نئی ملازمتیں نکل آئیں لیکن کس شعبے میں !!!

یہ بھی پڑھیں