لاہور (نیوز ڈیسک) پنجاب حکومت نے 18 سال سے کم عمر لڑکے یا لڑکی کی شادی کو باقاعدہ جرم قرار دینے کا آرڈیننس تیار کر لیا ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق چائلڈ میرج کی مکمل روک تھام کے لیے پنجاب میں مزید سخت قوانین نافذ ہونے جا رہے ہیں۔ اس حوالے سے صوبائی حکومت نے کم عمر کی شادی کے خاتمے کے لیے نیا چائلڈ میرج ریسٹرینٹ آرڈیننس تیار کر لیا ہے۔
مجوزہ قانون کے تحت 18 سال سے کم عمر لڑکے یا لڑکی کی شادی کو باقاعدہ جرم قرار دے دیا گیا ہے۔
اس قانون کے تحت کم عمر نکاح رجسٹر کرنے والے نکاح خواں کو ایک سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس کے علاوہ بالغ شخص کی جانب سے کم عمر لڑکی سے شادی پر کم از کم دو سال قید اور بھاری جرمانہ تجویز کیا گیا ہے۔ کم عمر بچوں کو شادی کی غرض سے صوبے سے باہر لے جانا چائلڈ ٹریفکنگ کے زمرے میں آئے گا۔
چائلڈ میرج ایکٹ کے تمام مقدمات سیشن کورٹ میں چلیں گے، یہ جرائم ناقابلِ ضمانت اور ناقابلِ راضی نامہ ہوں گے، جبکہ عدالت کو 90 دن میں فیصلہ کرنے کا پابند کیا جائے گا۔
یہ آرڈیننس آئندہ اجلاس میں پنجاب اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ نئے قانون کے نفاذ کے بعد 1929 کا پرانا قانون منسوخ کر دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بلوچستان اسمبلی اس حوالے سے قانون سازی کر چکی ہے جب کہ وفاقی حکومت نے بھی گزشتہ سال 18 سال سے کم عمر شادی کو جرم قرار دینے کا بل منظور کیا تھا، جس کو جے یو آئی نے خلاف شریعت قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف بھرپور احتجاج کا اعلان کیا تھا۔
مزیدپڑھیں:بجلی اور گیس کے بھاری بل: کم آمدنی والے افراد کے لیے بڑی خوشخبری!




