Search
Close this search box.
جمعرات ,09 جولائی ,2026ء

9 مئی مقدمات ، عمران خان کی عبوری ضمانتیں خارج، تحریری حکم جاری کردیا گیا

لاہور کی انسداد دہشت گری کی خصوصی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کی 9 مئی کے مقدمات میں ضمانتیں خارج کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کردیا۔انسداد دہشت گری کی خصوصی عدالت کے جج خالد ارشد نے 4 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری یے، جس میں لکھا گیا کہ 2 سرکاری گواہوں نے بیان دیا کہ 7 مئی کو شام 5 بجے زمان پارک میٹنگ میں پی ٹی آئی لیڈر شپ کے 15 لوگ موجود تھے۔فیصلے میں لکھا گیا کہ میٹنگ میں بانی پی ٹی آئی عمران خان نے 9 مئی کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں گرفتاری کا خدشہ ظاہر کیا اور ہدایات دی گئیں کہ اگر گرفتاری ہوئی تو ڈاکٹر یاسمین راشد کی قیادت میں ورکرز کو اکٹھا کیا جائے، میٹنگ میں فیصلہ ہوا کہ گرفتاری پر فوجی تنصیبات، سرکاری عمارتوں پر حملہ کرکے حکومت کو پریشرائز کیا جائے گا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ 9 مئی کو اسلام آباد روانگی کے وقت بانی پی ٹی آئی نے ویڈیو بیان دیا کہ اگر انہیں گرفتار کیا تو ملکی حالات سری لنکا کے جیسے ہوں گے، پراسکیوشن نے بانی پی ٹی آئی کے ویڈیو پیغامات کا ٹرانسکرپٹ عدالت میں جمع کرایا، پراسیکیوشن کا بانی پی ٹی آئی کے خلاف کیس یہ ہے کہ انہوں نے نو مئی کی منصوبہ بندی کی، پراسیکیوشن کا کیس یہ بھی کہ پی ٹی آئی ٹاپ لیڈرشپ نے منصوبہ بندی سے اتفاق کیا اور ماڈرن ڈیوائسز کے ذریعے پیغام آگے پہنچایا، بانی پی ٹی آئی سے اشتعال انگیزی کے لیے بنائی گئی ویڈیو میں استعمال ہونے والے آلات برآمد ہونے ہیں۔

عدالت نے فیصلے مزید میں کہا کہ عبوری ضمانت اس درخواست گزار کا حق نہیں جس نے پی ٹی آئی کی دیگر قیادت سے ملکر سازش کرکے ریاست کے خلاف جنگ کی، عبوری ضمانت اس کا حق نہیں جس نے حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے سازش کی، درخواست گزار کو مبینہ جرم سے تعلق ثابت کرنے کےلیے مناسب گراؤنڈ موجود ہے لہذا بانی پی ٹی آئی کی عبوری ضمانتیں خارج کی جاتیں ہیں۔عدالتی فیصلے میں مزید کہا گیاکہ درخواست گزار کے وکیل کا کہنا ہے کہ درخواست گزار کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے، اس دلائل میں وزن نہیں، مجرمانہ سازش سے پر امن اجتماع بھی دہشت گرد بن جاتا ہے۔فیصلے میں لکھا گیا کہ اشتعال انگیز پیغام دینا اور اسے آگے پھیلا کر آرمی تنصیبات ، جناح ہاؤس اور سرکاری عمارتوں پر حملہ دہشتگردی کے زمرے میں آتا ہے، درخواست گزار اس فعل سے اپنے قانون پر عملدرآمد کے بنیادی حقوق کھو بیٹھا ہے، عبوری ضمانت معصوم فرد کا حق ہے۔

صنم جاوید اور عالیہ حمزہ کو 11 روز کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کر دیا گیا

یہ بھی پڑھیں