راولپنڈی (نیوزڈیسک) محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے سکیورٹی خدشات کے پیش نظراڈیالہ جیل میں قیدیوں سے ملاقاتوں پر عائد دس روزہ پابندی آج اٹھا لی گئی جس کے بعد 8000 سے زائد قیدی اپنے لواحقین سے ملاقات کرسکیں گے ۔
محکمہ داخلہ پنجاب نے حفاظتی خطرات کے پیش نظر یہ پابندی عائد کی تھی ۔یاد رہے کہ اسلام آباد میں ہونیوالے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس کے باعث راولپنڈی اور اسلام آباد میں مکمل لاک ڈاون رہا ، تمام راستے بند کردیئے گئے تھے، اعلیٰ حکام نے اڈیالہ جیل سمیت جڑواں شہروں میں غیرمعمولی سیکیورٹی بڑھا دی تھی ۔
پابندی کے دوران اڈیالہ جیل حکام نے حفاظتی اقدامات کو بڑھا دیئے تھے،جیل ذرائع کے مطابق محکمہ داخلہ پنجاب نے 8 اکتوبر سے پابندی کا نفاذ کیا جس سے ہر قسم کی ملاقاتیں متاثر ہوئیں جن میں بانی پی ٹی آئی عمران خان، ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور جیل میں موجود 8 ہزار سے زائد قیدی شامل ہیں۔
پابندی کی وجہ سے ان زائرین کو کافی پریشانی ہوئی جو اپنے رشتہ داروں سے ملنے سے قاصر تھے۔۔جیل کے اندر اور بیرونی دیواروں کے ساتھ کئی حفاظتی مشقیں جن میں جیل پولیس، پنجاب رینجرز، سول ڈیفنس، پنجاب پولیس، بم ڈسپوزل سکواڈ، ریسکیو 1122، اور فائر فائٹرز تعینات کئے گئے تھے۔ حفاظتی مشقوں کا مقصد کسی بھی ہنگامی صورتحال کی صورت میں قیدیوں کی حفاظت کو یقینی بنانا تھا
اب پاکستانی واہگہ بارڈر کے راستے دہلی روانہ ہوسکیں گے


