کراچی(نیوز ڈیسک)کراچی کے علاقے گلشن حدید لنک روڈ پر نہروں کے خلاف احتجاج کرنے والے وکلا اور پولیس اہلکار آمنے سامنے آگئے، پولیس اہلکاروں نے لاٹھی چارج کرکے مظاہرین کو منتشر کر دیا۔
نجی چینل کے مطابق گلشن حدید لنک روڈ پر وکلا نے نہروں کی تعمیر کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا تھا، پولیس کے لاٹھی چارج سے ایک وکیل زخمی بھی ہوا، جس کے بعد وکلا کی بڑی تعداد اسٹیل ٹاؤن تھانے پہنچ گئی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مظاہرے میں شامل وکیل نے پولیس اہلکار کو ڈنڈا مارا تھا، جس کے بعد لاٹھی چارج کیا گیا۔
قبل ازیں وزیر داخلہ سندھ ضیاالحسن لنجار نے ببرلو بائے پاس پر وکلا سے دھرنا ختم کرنے کی درخواست کی تھی۔
وزیر داخلہ سندھ نے کہا تھا کہ دھرنے کے باعث سندھ سمیت پورے ملک کے لوگوں کو پریشانی کا سامنا ہے، وکلا اور عوام سے درخواست ہے کہ ازخود سڑکیں کھول دیں، انہوں نے مظاہرین کو یقین دلایا تھا کہ دریائے سندھ پر نئی نہریں نہیں بنیں گی۔
بلوچستان کے وکلا کی کل ہڑتال
بلوچستان بار کونسل نے کل صوبے بھر میں عدالتی بائیکاٹ کااعلان کر دیا۔
وائس چیئرمین بلوچستان بار کونسل رحب بلیدی نے کہا کہ کینالز کے ایشو پر سندھ کے وکلا سے اظہار یکجہتی اور 26 ویں ترمیم کےخلاف احتجاج کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان بھر میں وکلا احتجاجی ریلیاں نکالیں گے، کوئٹہ میں ضلع کچہری سے احتجاجی ریلی نکالی جائے گی۔
پہلگام واقعہ: سلامتی کونسل میں پاکستان کی بڑی کامیابی، بھارت من پسند قرارداد منظور کروانے میں ناکام


