ایکسپائر شدہ اسمگل شدہ سگریٹ اسکینڈل اس وقت سامنے آیا جب فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے کراچی میں ایک کمپنی پر کارروائی کی۔ یہ کارروائی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں کی گئی۔
حکام کے مطابق ایم/ایس پائنیر ٹوبیکو اینڈ ٹریڈنگ کمپنی پر چھاپہ مارا گیا۔ اس دوران تقریباً 45 لاکھ غیر ملکی سگریٹ برآمد کیے گئے۔
کارروائی میں سگریٹ فلٹر، پیکنگ کا سامان اور ایکسپائر شیشہ فلیور بھی قبضے میں لیا گیا۔ حکام کو شبہ ہے کہ یہ سامان پرانے سگریٹ کو دوبارہ پیک کرنے کیلئے استعمال ہو رہا تھا۔
ذرائع کے مطابق ایکسپائر یا ایکسپائر کے قریب سگریٹ بیرون ملک سے کم قیمت پر خریدے جاتے ہیں۔ بعد میں انہیں پاکستان لا کر دوبارہ فروخت کیلئے تیار کیا جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سگریٹ کی مدت محدود ہوتی ہے۔ مدت ختم ہونے کے بعد اس کا معیار خراب ہو جاتا ہے۔
حکام کو خدشہ ہے کہ ایکسپورٹ پروسیسنگ زون کی سہولیات کا غلط استعمال کیا گیا۔ اس معاملے میں مزید تحقیقات جاری ہیں۔
ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ غیر قانونی سگریٹ تجارت سے قومی خزانے کو بڑا نقصان ہوتا ہے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔
