ہیٹ ویوز میں احتیاط
گرم ہواؤں سے کیسے بچا جائے؟
گرمی کا موسم عروج پر ہے۔ محکمہ موسمیات پاکستان (پی ایم ڈی) نے ملک بھر میں 20 مئی 2024 سے ہیٹ ویو کی پیش گوئی کی ہے، جو 31 مئی 2024 تک جاری رہے گی ۔ انتہائی گرم درجہ حرارت کے انسانی صحت پر مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ خاص طور پر آؤٹ ڈور ورکرز جیسے کہ ڈیلیوری رائیڈرز ، کسان، یوٹیلیٹی عملہ، ٹریفک پولیس و دیگر کو گرم ہواؤں کا زیادہ سامنا کرنا پڑتا ہے۔ہیٹ ویو کے دوران اپنی حفاظت کا خیال رکھیں۔ موسم گرما کیلئے پیشگی تیاری کرنا اور موسم میں اپنے پیاروںکی مدداور دیکھ بھال کریں۔
گرمی کی شدت زیادہ محسوس کرنا
گرمی اس وقت زیادہ محسوس ہوتی ہے جب انسانی جسم گرم شدت کو برداشت نہیں کر پاتا۔ جس کی وجہ سے جسم کے اندرونی درجہ حرارت اور دل کی دھڑکن میں اضافہہو جاتا ہے۔ جیسے جیسے گرمی بڑھتی ہے ویسے ویسے انسان میں گرمی برداشت کرنے کی صلاحیت کم ہوتی جاتی ہے اور وہ چڑ چڑا ہوجاتا ہے اور بیمار بھی ہوسکتا ہے۔ اکثرپانی پینے کی خواہش ختم ہو جاتی ہے۔ ایسی صورت میں جسم کو ٹھنڈک نہ پہنچائی گئی تو انسان بے ہوش ہوسکتا ہے اور بعض اوقات یہ جان لیوا بھی ہوسکتا ہے۔
اپنی صحت کا خیال رکھیں
پانی زیادہ پئیں، چاہے پیاس لگے یا نہ لگے۔ کیفین اور میٹھے مشروبات سے پر ہیز کریں کیونکہ وہ پانی کی کمی کا باعث بن سکتے ہیں۔ کھانا تھوڑا تھوڑا کر کے بار بارکھائیں ۔ زیادہ پروٹین والی غذاؤں سے پر ہیز کریں، جو گرمی کے احساس کو بڑھاتی ہیں۔ جسم کو نارمل درجہ حرارت میں رکھنے کے لیے ہلکے رنگ کے اور ڈھیلے ڈھالےکپڑے پہنیں۔
موسم گرما کی بیماریاں جیسے تھکاوٹ اور ہیٹ اسٹروک کی علامات سے آگاہ رہیں۔ اگر آپکو چکر آئے ، کمزوری محسوس ہو، اضطراب، شدید پیاس یا سر درد جیسی علاماتہوں تو فوری طور پرگرمی کی بیماریوں کی علامات جیسے کہ تھکاوٹ اور ہیٹ اسٹروک سے آگاہ رہیں۔ اگر آپ کو چکر آئے، کمزوری محسوس ہو، اضطراب، شدید پیاس یا سر درد جیسی علامات ہوں تو فوراً ٹھنڈے ماحول میں منتقل ہوں اور اگر پھر بھی علامات برقرار ہیں تو طبی امداد حاصل کریں۔
موسم کی پیش گوئیوں اور خبروں کی تازہ ترین معلومات سے باخبر رہیں۔
یہ ذرائع درجہ حرارت کے بارے میں قیمتی معلومات فراہم کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر پی ایم ڈی نے ملک کے بیشتر علاقوں میں گرم موسم کی پیش گوئی کی ہے اور پنجاب وسندھ کے وسطی علاقوں میں درجہ حرارت معمول سے 5 سے 6 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہنے کا امکان ہے۔ دیگر علاقوں میں انتہائی درجہ حرارت بھی گرمی میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔ محتاط رہیں اور مقامی حکام اور خبروں سے موصول ہونے والی کسی بھی انتباہ یا ہدایات پر عمل کریں۔ موسم گرما میں ریلیف فراہم کرنے میں ضلعی سطح میں ہیٹ ویو کیمپ ایک اہم سہولت ہیں۔ کراچی میں سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ نے کے۔ الیکٹرک کے ساتھ شراکت داری میں کھارادر، کورنگی، پاور ہاؤس چورنگی سمیت شہر کے دیگر علاقوں ہیٹ ویو کیمپ لگائے ہیں۔ یہ کمپ دن کے اوقات میں پیدل چلنے والوں اور مسافروں کو ٹھنڈے پانی اور مشروبات کے ذریعے راحت پہنچاتے ہیں۔

ہیٹ اسٹریس کٹ کی تیاری
ہیٹ اسٹریس کٹ پریشانی کے وقت کام آتی ہے۔ آپ کی کٹ میں ضروری سامان جیسے بوتل بند پانی ٹوپیاں، ہلکے پھلکے کپڑے اور او آر ایس جیسی اہم ادویہ شامل ہونی چاہئیں ۔ کٹ کو ایسی جگہ رکھیں جہاں سے وہ با آسانی قابل رسائی ہو۔
وینٹی لیشن کو یقینی بنائیں
یقینی بنائیں کہ آپ کا گھر یا رہنے کی جگہ ہوادار ہو۔ گرمی کو روکنے کے لیے شیڈز ، بلائنڈ زیا پردے لگائیں۔ اگر آپ کو اپنے کولنگ سسٹم میں کوئی مسئلہ نظر آتا ہے تو اسے ترجیحی بنیادوں پر ٹھیک کریں۔ اسی طرح عوامی مقامات پر نصب یونٹس کی خرابی کی رپورٹ فوری طور متعلقہ اتھارٹی کو کریں ۔ بروقت کی گئی چھوٹی سے مرمت زندگیوں کو بچاسکتی ہے
سایہ دار جگہ میں رہیں
انتہائی درجہ حرارت میں گرمی سے بچنے کے طریقوں پر عمل کریں۔ ہمیشہ سایہ دار اور ہوادار جگہ میں رہیں۔ اگر آپ کے گھر کا اندرونی ماحول بہت گرم ہو یا دھوپ براہ راست پڑ رہی ہو تو ایسی ٹھنڈی جگہ منتقل ہو جائیں جہاں دھوپ نہ ہو ۔ دو پہر میں ( 11:00 سے 5:00 بجے تک ) بلاضرورت گھر سے باہر نکلنے سے گریز کریں۔ صحت اور احتیاطی تدابیر پر عمل کریں۔ اگر باہر جانا بہت ضروری ہو تو ٹھہر ٹھہر کر سفر کریں۔ اگر ممکن ہو تو سایہ دار یا ٹھنڈی جگہ پر آرام کریں۔
مواصلات
آپ کو ہنگامی رابطوں کے چینلز کے بارے میں معلوم ہونا چاہیے۔ مقامی حکام، ہنگامی خدمات فراہم کرنے والوں اور اپنے پیاروں سمیت اہم رابطہ نمبروں کو محفوظ کریں۔ خبروں اور سرکاری معلوماتی چینلز کے ذریعے ہیٹ ویو اور موسم کے حوالے سے باخبر رہیں۔ ایسے افراد کو با قاعدگی سے چیک کریں جن کے ہیٹ ویو کا شکار ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، جیسے بوڑھے، بچے اور وہ لوگ جو دائمی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔
گرمی سے متاثرہ علاقوں میں جانے سے گریز کریں
جن علاقوں میں گرمی کی شدت زیادہ ہونے کا خطرہ ہو ان علاقوں میں جانے یا ٹھہرنے سے گریز کریں۔ کچن یا ہیوی ڈیوٹی آلات والے علاقوں کے قریب رہنے سے گریز کریں۔ گرمی کی لہر کے بعد احتیاطی تدابیر اختیار کریں
، گرمی سے متعلقہ بیماریوں کی علامات جیسے پانی کی کمی کی نگرانی کریں، اور ہائیڈریشن کی ضروریات سے آگاہ رہیں۔
