Search
Close this search box.
هفته ,13 جون ,2026ء

ذیابیطس کاشکاربنانے والی اہم وجہ دریافت

کینبرا(نیوزڈیسک)دنیا بھر میں ذیابیطس ٹائپ 2 کا مرض وبا کی طرح پھیل رہا ہے اور اب اس کی ایک بڑی وجہ دریافت ہوئی ہے۔

آدھی رات کو کمرہ روشن کرنے کے لیے جلائے جانے والے بلب یا اسمارٹ فون سے خارج ہونے والی روشنی جسم کی اندرونی گھڑی کے افعال متاثر کرتی ہے۔

آدھی رات کے وقت مصنوعی روشنی کی زد میں رہنے والے افراد میں ذیابیطس ٹائپ 2 کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

یہ بات آسٹریلیا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

تحقیق میں مصنوعی روشنیوں سے ذیابیطس ٹائپ 2 کے شکار ہونے کی وجہ کو ثابت نہیں کیا گیا، مگر دونوں کے درمیان تعلق ضرور سامنے آیا۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ آدھی رات کے بعد مصنوعی روشنیوں میں زیادہ رہنے والے افراد ذیابیطس ٹائپ 2 سے متاثر ہونے کا خطرہ 67 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

تحقیق میں خیال ظاہر کیا گیا کہ مصنوعی روشنیوں سے رات کو سونا مشکل ہو جاتا ہے جس سے ذیابیطس کا خطرہ بڑھتا ہے۔

محققین کے مطابق آدھی رات کے بعد مصنوعی روشنیوں سے دوری ذیابیطس ٹائپ 2 سے بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

یہ پہلی تحقیق نہیں جس میں مصنوعی روشنیوں اور ذیابیطس کے خطرے میں تعلق دریافت کیا گیا۔

اس سے قبل نومبر 2022 میں چین میں ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ رات کو کسی ایسے کمرے میں سونا جہاں مصنوعی روشنی (بلب وغیرہ کی روشنی) پھیلی ہوئی ہو تو ذیابیطس سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں