چین میں سردیوں کے موسم میں سانس کی بیماریوں میں اضافہ معمول کی بات ہے لیکن حالیہ رپورٹس میں ہیومن میٹا پنیومو وائرس ( ایچ ایم پی وی) کے کیسز میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ خاص طور پر 14 سال سے کم عمر بچوں میں یہ بیماری زیادہ رپورٹ ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دیگر وائرس جیسے رائنو وائرس، انفلوئنزا اے، اور مائکوپلاسما پنیومونیا بھی پھیل رہے ہیں۔
ہیومن میٹا پنیومو وائرس ایک آر این اے وائرس ہے جو میٹا پنیومو وائرس جینس اور Pneumoviridae فیملی سے تعلق رکھتا ہے۔ اسے پہلی بار 2001 میں ڈچ محققین نے دریافت کیا تھا۔ یہ وائرس بنیادی طور پر ان ڈراپ لیٹس کے ذریعے پھیلتا ہے جو کھانسی اور چھینک کے دوران خارج ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ، متاثرہ افراد کے قریبی رابطے یا آلودہ سطحوں کے ذریعے بھی منتقلی ہو سکتی ہے۔ایچ ایم پی وی کی علامات عام زکام اور کووڈ-19 سے ملتی جلتی ہیں، جن میں کھانسی، بخار، اور زکام جیسے اثرات شامل ہیں۔
یہ وائرس بچوں اور بزرگوں کو زیادہ متاثر کرتا ہے، جیسے کووڈ-19 کے دوران دیکھا گیا تھا۔ خاص طور پر 14 سال سے کم عمر بچے اس وائرس کا زیادہ شکار ہو رہے ہیں۔ چونکہ ایچ ایم پی وی کے لیے ابھی تک کوئی ویکسین دستیاب نہیں ہے، اس لیے ماہرین عوام کو ماسک پہننے، ہاتھ دھونے، اور ہجوم سے بچنے کی ہدایت کر رہے ہیں۔
چینی حکام نے خبردار کیا ہے کہ مختلف سانس کی بیماریوں کا ایک ساتھ پھیلاؤ ملک کے صحت کے نظام پر دباؤ ڈال رہا ہے۔ بچوں کے ہسپتالوں میں خاص طور پر نمونیا کے کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جن میں سے کئی شدید نوعیت کے ہیں۔ چین کی بیماریوں پر قابو پانے کی اتھارٹی نے نامعلوم قسم کے نمونیا کی نگرانی کے لیے ایک خصوصی نظام متعارف کرایا ہے تاکہ مستقبل میں کسی نئے وبائی مرض کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔
