کراچی ( اوصاف نیوز)شہر قائد کے ہوٹلوں میں فراہم کرنے کے لیے پنجاب سے مردہ مرغیوں کا گوشت لایا جا رہا تھا جو کہ پکڑا گیا۔
ملک میں شہریوں کی صحت سے کھیلنے کے لیے ناجائز منافع خور انسانیت سے گرے ہوئے کام کرتے ہیں۔ گزشتہ روز بھی کراچی کے ہوٹلوں کو فراہم کرنے کے لیے پنجاب سے 4 ہزار کلو گرام مردہ مرغیوں کا گوشت لایا جا رہا ہے۔ تاہم فوڈ اتھارٹی نے یہ کوشش ناکام بنا دی۔
عوام کی صحت سے کھلواڑ کی یہ کوشش کیسے ناکام بنائی گئی اور معاشرے کے ناسوروں کو کیسے پکڑا گیا۔ اس حوالے سے پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ڈی جی محمد عاصم نے اے آر وائی نیوز کے مارننگ شو باخبر سویرا میں بتایا۔
ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی کا کہنا تھا کہ ہماری ٹیم ہفتے کے ساتوں دن 24 گھنٹے کام کرتی ہے۔ اطلاع ملتی تھی کہ وہاڑی سے کراچی بھاری مقدار میں مردہ مرغیوں کا گوشت فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس خفیہ اطلاع پر ہماری ٹیم فوری حرکت میں آئی اور رحیم یار خان کے قریب انہیں پکڑ لیا۔
محمد عاصم جاوید نے بتایا کہ ہماری ٹیم نے نہ صرف یہ حرام اور مضر صحت گوشت پکڑ کر تلف کیا بلکہ دو افراد کو گرفتار کر کے پولیس کے حوالے بھی کیا، جنہوں نے دوران تفتیش بتایا کہ یہ گوشت کراچی کے ہوٹلوں میں فراہم کیا جانا تھا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اتھارٹی رواں برس اب تک مضر صحت گوشت فراہم کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 18 ملین کلو کلو گوشت پکڑا جس میں سے 8 لاکھ 82 ہزار کلو گرام گوشت مضر صحت ثابت ہونے پر اس کو تلف بھی کیا۔ اس کے علاوہ اب تک 372 ایف آئی آر بھی درج کرائی جا چکی ہیں۔
ڈی جی فوڈ اتھارٹی نے بتایا کہ ہمارے تیز ترین آپریشنز کے بعد مضر صحت گوشت اور دودھ فراہم کرنے والوں نئے حربے استعمال کر رہے ہیں اور اب وہ بچوں کی اسکول وین اور عام گھریلو استعمال کی گاڑیوں میں یہ چیزیں سپلائی کر رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ہم صرف سپلائر نہیں بلکہ جس دکان یا ہوٹل سے یہ اشیا برآمد ہوتی ہیں۔ ان کے خلاف بھی کارروائی کرتے ہیں۔ یہ کام کرنے والے عام مجرم نہیں بلکہ معاشرے کے مجرم ہیں۔ اتھارٹی ایکٹ کے تحت اس کی زیادہ سے زیادہ سزا سات سال اور کم سے کم ایک ماہ ہے۔ اب یہ کورٹ کی صوابدید ہوتی ہے کہ وہ کتنی سزا دیتی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ مضر صحت اشیائے خور ونوش کھانے سے دل، جگر اور گردے کے مہلک امراض کا خدشہ ہوتا ہے۔ اس لیے ہم اپنے قانون میں ترمیم کرکے ان سزاؤں اور جرمانوں کا بڑھا رہے ہیں۔ تاکہ معاشرے میں جعلی اشیائے خور ونوش کا قلعہ قمعہ کیا جا سکے۔
محمد عاصم نے کہا کہ اس کے علاوہ ہم نے لاکھوں لیٹر جعلی دودھ پکڑ کر تلف کیا اور کئی سپلائر کو پکڑ کر ان پر مقدمات قائم کیے۔ یہ لوگ جعلی دودھ میں انسانی صحت کے لیے مضر کیمیکل اور مردہ اجسام کو محفوظ کرنے والا کیمیکل استعمال کرتے تھے۔
مزید پڑھیں:مسلم لیگ (ن) کا اتحادی حکومت سے علیحدگی کا فیصلہ
