ٹو کیو(انٹرنیشنل ڈیسک)صوبے کے پولٹری فارمز میں برڈ فلو پھیلنے کے بعد بحرانی صورتحال پیدا ہو گئی۔ انتظامیہ نے 6 لاکھ سے زیادہ مرغیاں تلف کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
جاپان کے صوبہ نائیگاٹا میں برڈ فلو پھیلنے کے بعد 6 لاکھ تیس ہزار مرغیاں تلف کی جائیں گی۔ یہ اس موسم میں تیسرا بڑا بحران ہے جس سے پولٹری صنعت اور خوراک کی سپلائی کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے
ٹوکیو میں میڈیا رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ جاپان کی پولٹری صنعت اس وقت شدید بحران سے دوچار ہے کیونکہ ملک میں تیزی سے خطرناک برڈ فلو پھیل رہا ہے۔
برڈ فلو کے ماہرین کے مطابق یہ بیماری نہ صرف مرغیوں اور دیگر پرندوں کے لیے جان لیوا ثابت ہو رہی ہے بلکہ کبھی کبھار انسانوں اور دیگر جانوروں کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت اور صنعت دونوں کے لیے یہ صورتحال تشویش کا باعث بن گئی ہے۔
ایک ہی فارم میں سوا چھ لاکھ مرغیوں کی تلفی
جاپان کے سرکاری حکام نے منگل کو تصدیق کی کہ نائیگاٹا صوبے کے تائینائی شہر کے ایک بڑے پولٹری فارم میں ’ہائیلی پیتھوجینک ایویئن انفلوئنزا‘ (ایچ پی اے آئی) کی موجودگی پائی گئی ہے۔ اس فارم میں تقریباً 6 لاکھ 30 ہزار مرغیاں ہیں جنہیں وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے تلف کیا جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ جاپان میں رواں سیزن کے دوران برڈ فلو کا تیسرا بڑا واقعہ ہے۔
ایچ فائیو وائرس کی تصدیق
حکام کے مطابق، پیر کی صبح فارم میں غیر معمولی تعداد میں مرغیوں کی اموات رپورٹ ہوئیں جس کے بعد فوری طور پر جانچ شروع کی گئی۔ ابتدائی ٹیسٹ میں ایچ-5 وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، اب وائرس کے جینیاتی تجزیے کا عمل جاری ہے تاکہ اس کے پھیلاؤ اور شدت کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔
سال مین برڈ فلو آؤٹ بریک کا تیسرا سانحہ
اس سال جاپان میں برڈ فلو کا پہلا کیس 22 اکتوبر کو ہوکائیدو کے شہر شیراوئی میں سامنے آیا تھا۔ دوسرا واقعہ اسی صوبے کے اینیوا شہر میں پیش آیا، جب کہ تازہ کیس تائینائی میں ریکارڈ کیا گیا ہے۔ تینوں واقعات نے پولٹری سیکٹر میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے کیونکہ اس بیماری کا اثر ملک بھر میں مرغی اور انڈے کی پیداوار پر پڑ سکتا ہے۔
’ہائیلی پیتھوجینک ایویئن انفلوئنزا‘ ایک انتہائی متعدی مرض ہے جو پرندوں میں تیزی سے پھیلتا ہے اور اکثر اوقات اموات کی شرح بہت زیادہ ہوتی ہے۔ یہ بیماری صرف گھریلو مرغیوں تک محدود نہیں بلکہ جنگلی پرندوں میں بھی پھیل سکتی ہے۔ کچھ معاملات میں انسانوں میں بھی اس کے اثرات دیکھے گئے ہیں، اگرچہ اس کی شرح کم ہوتی ہے۔
عالمی سطح پر بھی برڈ فلو کی لہریں پولٹری صنعت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہیں۔ کئی ممالک میں لاکھوں مرغیوں کو مارا جا چکا ہے تاکہ بیماری پر قابو پایا جا سکے۔ اس کے نتیجے میں انڈوں اور مرغی کے گوشت کی سپلائی متاثر ہوئی ہے اور قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
مرغیوں کی نقل و حرکت پر پابندی
جاپان میں حکام نے وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں۔ متاثرہ پولٹری فارموں کے اردگرد کے علاقوں میں مرغیوں کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جب کہ صفائی اور جراثیم کشی کے عمل کو تیز کیا گیا ہے۔ مقامی انتظامیہ نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور بیمار پرندوں کی اطلاع فوراً دیں۔
مزیدپڑھیں:نیٹ میٹرنگ استعمال کرنے والوں پر کتنے روپے فکسڈ چارجز لگائے جائیں گے؟
