اسلام آباد(نیوزڈیسک) محکمہ موسمیات حکام کیمطابق 2 اگست 2024 سے 6 اگست تک بلوچستان کے 22 اضلاع میں طوفانی بارش کا امکان، حکومت کا ضلعی انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم ، جبکہ شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ بحیرہ عرب اور خلیج بنگال سے مون سون ہوائیں شدت کے ساتھ بلوچستان میں داخل ہوچکی ہیں جس کے باعث شدید بارشیں متوقع ہیں۔
قلعہ سیف اللہ، بارکھان، موسیٰ خیل، خضدار، لسبیلہ، آواران، پنجگور، کیچ، قلات، کوئٹہ، زیارت، ژوب، قلعہ عبداللہ، مستونگ، سبی، شیرانی، کوہلو، بولان، ہرنائی، نصیر آباد، جعفرآباد اور مکران کے ساحلی علاقوں میں تیز ہوائیں اورگرج چمک کے ساتھ وقفے وقفے سے بارش کا امکان ۔
راولپنڈی، اٹک، چکوال، تلہ گنگ، جہلم، منڈی بہاؤالدین، گجرات، گوجرانوالہ، حافظ آباد، وزیر آباد، ساہیوال، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، ننکانہ صاحب، چنیوٹ، فیصل آباد، لاہور موسلادھار بارش کاامکان،شدید بارشوں کے باعث اسلام آباد، راولپنڈی، گوجرانوالہ، لاہور، شیخو پورہ، قصور، سیالکوٹ، سرگودھا، فیصل آباد، ملتان، ساہیوال، نوشہرہ اور پشاور کے نشیبی علاقے اور سندھ کے نشیبی علاقے بھی زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔
خیبرپختونخوا کے پہاڑی علاقوں، مری، گلیات، کشمیر اور گلگت بلتستان میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ٹریفک کی آمدورفت متاثر ہونے کا خطرہ ۔ پاکستان میں مون سون کی بارشوں کا دورانیہ عام طور پر جولائی سے ستمبر تک ہوتا ہے۔ یہ بارشیں ملک کے مختلف حصوں میں مختلف شدت اور مدت کے ساتھ برستی ہیں۔ یہ بارشیں نہ صرف زرعی پیداوار کے لیے بلکہ پانی کے ذخائر کو بھرپور کرنے اور موسم کو خوشگوار بنانے کے لیے بھی انتہائی اہم ہیں۔
مسافر کو ہارٹ اٹیک ، بھارت جانیوالی پروازکوہنگامی طور پر کراچی ایئرپورٹ پراتار لیا
