Search
Close this search box.
اتوار ,05 جولائی ,2026ء

برطانیہ کے نئے وزیراعظم نے پالیسی کا اعلان کر دیا، تبدیلی لانے کا عزم

لندن (انٹرنیشنل ڈیسک) وزیراعظم رشی سونک نے برطانیہ کے عام انتخابات میں شکست کے بعد اپنا استعفیٰ کنگ چارلس کو پیش کر دیا ہے جب کہ کیئر سٹارمر نے اپنی اہلیہ کے ہمراہ بکنگھم پیلس میں کنگ چارلس سے ملاقات کی اور حکومت سازی کی دعوت قبول کی۔ واضح رہے کہ برطانیہ میں کنزرویٹو کا 14 سالہ دور ختم ہو گیا ہے اور عام انتخابات میں لیبر پارٹی نے کامیابی حاصل کر لی ہے جس کے بعد سر کیئر سٹارمر نئے وزیر اعظم بن گئے ہیں۔

برطانیہ کے عام انتخابات میں 650 میں سے 648 نشستوں کے نتائج کا اعلان کردیا گیا ہے اور لیبر پارٹی نے اب تک 412 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ عام انتخابات میں کنزرویٹو نے 121 اور لبرلز نے 71 نشستیں حاصل کیں، جب کہ حکومت بنانے کے لیے پارلیمنٹ کی 650 نشستوں میں سے 326 نشستیں درکار ہیں، اور لیبر پارٹی بھاری اکثریت حاصل کر کے حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے۔

برطانیہ کے نئے وزیر اعظم کیئرسٹارمر نے بکنگھم پیلس میں کنگ چارلس سے ملاقات کے بعد اپنی تقریر میں کہا کہ میں ابھی شاہی محل سے واپس آیا ہوں اور میں نے وزیر اعظم بننے کی پیشکش قبول کر لی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم سب کو بحیثیت قوم آگے بڑھنا ہے، میں رشی سونک کا بھی شکر گزار ہوں، میری حکومت عوام کی خدمت کرے گی۔

کیر سٹارمر نے کہا، “ہم اپنی پالیسی پر بھی نظرثانی کریں گے، عوامی توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کریں گے۔”

انہوں نے کہا کہ وہ محنت کش طبقے کے لیے عالمی معیار کے اسکول اور کالج بنائیں گے، جس سے برطانیہ ایک بار پھر ایک سرکردہ ملک بن جائے گا۔

نومنتخب وزیراعظم نے کہا کہ دنیا کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، ہم مل کر ان کا مقابلہ کریں گے، محنت کش طبقے کی زندگیوں میں بہتری لائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ تبدیلی کے لیے فوری کام شروع کریں گے، عوام نے تبدیلی اور خدمت کو ووٹ دیا ہے۔
مزیدپڑھیں :لاہور میں ٹرام چلانے کا اعلان

یہ بھی پڑھیں