Search
Close this search box.
پیر ,15 جون ,2026ء

تبادلے کے وقت اسکول پرنسپل نےکرسی چھوڑنے سے انکار کر دیا، پھر کیا ہوا؟

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت میں آئے دن کئی ایسے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں جو سوشل میڈیا صارفین کو بھی حیران کر دیتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر پریاگ راج کے بشپ جانسن گرلز سکول میں اس وقت ڈرامائی صورتحال پیدا ہو گئی جب سکول کی پرنسپل نے اپنے تبادلے کا سن کر بطور احتجاج کرسی چھوڑنے سے انکار کر دیا۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اساتذہ سمیت اعلیٰ حکام دفتر میں گھس کر پرنسپل کو ہٹانے کی کوشش کر رہے تھے جبکہ پرنسپل مزاحمت کرتے ہوئے کرسی سے چمٹ رہی تھی۔

خاتون پرنسپل کی جانب سے الزام لگایا گیا کہ انہیں زبردستی تبدیل کیا جا رہا ہے، دوسری جانب ڈیوسیس برائے لکھنؤ بشپ مؤرس ایڈگر ڈین نے کہا کہ خاتون پرنسپل پر پیپرز لیک کرنے اور ڈھائی کروڑ کی کرپشن کا الزام ہے۔

بشپ ڈین کے مطابق ادارے کے اسٹاف ممبر کو بھی اسپیشل ٹاسک فورس نے گرفتار کیا ہے۔

لیڈی پرنسپل پارول بلادیو کی جگہ شرلی میسی کو تعینات کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لیڈی پرنسپل کو دروازے کھلتے ہی چند اساتذہ نے دھکے دے کر دفتر سے باہر نکال دیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق خاتون پرنسپل کو مرد وکلاء نے بھی ہراساں کیا اور ان کا فون چھیننے کی کوشش کی جب کہ انہیں کرسی سمیت دفتر سے باہر لے جایا گیا۔
مزیدپڑھیں :سابق بھارتی اداکارہ کسمپرسی کی حالت میں انتقال کرگئیں

یہ بھی پڑھیں