نیویارک (نیوزویب ڈیسک ) حماس کے سربراہ اسماعیل ہانیہ کے قتل کے محرکات اور خفیہ ہاتھ سامنے آنے لگےبرطانوی میڈیا نے انکشاف کیا کہ حماس کے سربراہ اسماعیل ہانیہ کو اسرائیلی خفیہ ایجنسی نے ایرانی ایجنٹوں کے ذریعے قتل کروایا گیا۔برطانوی میڈیا کے مطابق ایرانی ایجنٹوں نے مہمان خانے کے 3 کمروں میں دھماکا خیز مواد نصب کیا تھا، ایرانی حکام کے پاس ایجنٹوں کے کمروں میں انتہائی تیزی سے آنے جانے کی ویڈیو بھی موجود ہے ۔
دھماکا خیز مواد نصب کرنیوالے ایجنٹ ایران چھوڑ چکے تھے، دھماکا خیز موادریموٹ کنٹرول کے ذریعے ایران سے باہر رہ کر تباہ کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق اسماعیل ہانیہ ایران کے دوروں کے دوران اکثر اسی عمارت میں قیام کیا کرتے تھے، اصل منصوبے کے تحت اسماعیل ہانیہ کومئی 2024 میں طیارہ حادثے میں جاں بحق ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی نماز جنازہ میں شرکت کے موقع قتل کیاجاناتھا
تاہم اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں تاخیر اس لیے کی گئی کہ اس وقت عمارت میں بہت بڑا مجمع تھا اور آپریشن کی ناکامی کے امکانات زیادہ تھے۔واضح رہے کہ 31 جولائی کو حماس کے سیاسی سربراہ اسماعیل ہانیہ کو تہران میں ان کی رہائشگاہ پرمیزائل حملے میں شہید کیا گیا تھا، وہ ایرانی صدر کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے ایران گئے تھے۔
