ممبئی(شوبز ڈیسک)بھارت کے ارب پتی بزنس مین پنکج اوسوال کی 26 سالہ بیٹی وسندھرا کی یوگنڈا میں گرفتاری نے نہ صرف مقامی میڈیا بلکہ بھارتی میڈیا میں بھی تہلکہ مچا دیا ہے، وسندھرا کے خلاف ایک شخص کے اغوا اور قتل کی کوشش کا الزام لگایا گیا ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق وسندھرا کو یکم اکتوبر کو مبینہ طور پر 20 مسلح افراد پر مشتمل ایک گروپ نے خاندان کے ایکسٹرا نیوٹرل الکحل (ENA) پلانٹ سے پکڑا تھا، مقامی حکام نے ان کی گرفتاری کو لاپتہ شخص سے متعلق جاری تحقیقات سے جوڑا ہے۔
وسندھرا کیساتھ ساتھ کمپنی کی وکیل ریٹا نگبیرے سمیت کئی ساتھیوں کی گرفتاری کے بعد اس معاملے نے بھارتی میڈیا میں کافی توجہ حاصل کرلی ہے، ایک رپورٹ کے مطابق وسندھرا اوسوال کا موبائل فون ضبط کرلیا گیا ہے، اس کے علاوہ انہیں اپنے اہل خانہ اور وکلاء سے رابطے کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
وسندھرا کے خاندان نے ان پر لگائے جانے والے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے گرفتاری کو غیرقانونی قرار دے دیا ہے۔
وسندھرا اوسوال کے خاندان کی جانب سے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وسندھرا کو خراب حالات میں رکھا گیا ہے، جس کے باعث وہ جوتوں سے بھرے کمرے میں رہنے پر مجبور ہے، انہیں نہانے یا کپڑے بدلنے تک کیلئے بھی کوئی سہولت میسر نہیں ہے۔ وسندھرا کے خاندان نے یہ بھی اطلاع دی کہ انہیں اینزائٹی کا دورہ پڑا، جس پر حکام نے کوئی توجہ نہیں دی۔
یوگنڈا میں زیر حراست وسندھرا کے والد اور معروف صنعت کار پنکج اوسوال نے اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ آن آربیٹریری ڈیٹینشن (ڈبلیو جی اے ڈی) کے پاس ایک اپیل دائر کی ہے، جس میں انہوں نے اپنی بیٹی کی حراست کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
پنکج اوسوال نے دعویٰ کیا کہ ان کی بیٹی کو ایک سابق ملازم کے جھوٹے الزامات پر حراست میں لیا گیا ہے جس نے مبینہ طور پر قیمتی سامان چرایا تھا، اس شخص نے اوسوال خاندان کو ضامن بنا کر دو لاکھ ڈالر کا قرض لیا، صنعتکار کا کہنا تھا کہ جب ان کی بیٹی نے قرض ادا کرنے سے انکار کر دیا تو ملازم نے مبینہ طور پر قرضے سے بچنے کیلئے وسندھرا کے خلاف جھوٹے الزامات لگا انتقامی کارروائی کی۔
پنکج اوسوال کے مطابق مذکورہ سابق ملازم جلد ہی یوگنڈا سے فرار ہو گیا اور بعد میں اسے تنزانیہ میں مبینہ طور پر چوری کے ثبوت کے ساتھ پکڑا گیا، ملازم کے گرفتار ہونے کے باوجود وسندھرا پر اغوا اور قتل کی کوشش کا جھوڑا الزام لگایا گیا ہے۔
وسندھرا اوسوال کے والد نے یوگنڈا کے صدر یوویری میوزیوینی کو بھی خط لکھ کر اس کیس میں براہ راست مداخلت کی اپیل کی ہے۔
1999 میں پیدا ہونے والی وسندھرا اوسوال بھارت کے ارب بزنس مین پنکج اوسوال کی بیٹی ہیں، ان کی پرورش ہندوستان، آسٹریلیا اور سوئٹزرلینڈ میں ہوئی اور انہوں نے سوئس یونیورسٹی سے فنانس میں گریجویشن کیا۔
وسندھرا اوسوال پرو انڈسٹریز کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں جو اوسوال گروپ گلوبل کا حصہ ہیں، پرو انڈسٹریز کی ویب سائٹ کے مطابق، پرو انڈسٹریز افریقہ کی سب سے اعلیٰ جدید ترین ایتھنول پروڈیوسر ہے۔ وسندھرا نے گریجویشن کے دوسرے سال کے دوران پرو انڈسٹریز کی بنیاد رکھی۔
پرو انڈسٹریز کی ویب سائٹ کے مطابق وسندھرا اوسوال کو 2023 میں گلوبل یوتھ آئیکون ایوارڈ جیسے اعزاز سے نوازا گیا اور اکنامک ٹائمز نے انہیں وومن آف دی ایئر قرار دیا تھا۔
بنیادی طور پر بھارتی پنجاب سے تعلق رکھنے والا اوسوال خاندان اپنی کاروباری کامیابی، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں فلاحی کاموں کیلئے کافی عرصے سے میڈیا میں چھایا ہوا تھا، 2023 میں یہ خاندان دنیا کے مہنگے ترین گھروں میں سے ایک سوئٹزرلینڈ کے گنگنز میں ‘ولا واری’ خریدنے کے لیے بھی میڈیا کی توجہ کا محور رہا، رپورٹ کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں خریدا گئے اس ولا کی قیمت مبینہ طور پر 200 ملین ڈالرز بتائی جاتی ہے۔
مزیدپڑھیں :ڈائریکٹر کے گھر سے نکلتی تاپسی پاپارازی کو دیکھ کر غصہ کیوں ہوئی؟

