Search
Close this search box.
پیر ,29 جون ,2026ء

مکیش امبانی اپنے اثاثے کیسے تقسیم کرنا چاہتے ہیں؟

ممبئی(نیوز ڈیسک)مکیش امبانی ایشیا کے امیرترین شخص ہیں مگر اپنے اثاثوں کی تقسیم کے حوالے سے وہ کافی فکرمند ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ برسوں سے دنیا کے ارب پتی خاندانوں کو جانچ رہے ہیں کہ انہوں نے اپنی اگلی نسل کو سب کچھ کیسے منتقل کیا۔

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق حال ہی میں یہ عمل تیز کردیا گیا ہے اور ایشیا کے امیرترین شخص اپنی 208 ارب ڈالرز کی سلطنت کے اگلے مرحلے کا منصوبہ تیار کرہے ہیں تاکہ ان کا خاندان ان اثاثوں کے لیے ٹکڑے ٹکرے نہ ہوجائے، جیسے متعدد دولت مند خاندان ہوئے بشمول امبانی خاندان کے۔

مگر براعظم ایشیا کا یہ امیر ترین خاندان درحقیقت ماضی میں اتنا امیر نہیں تھا بلکہ مکیش کے والد دھیرج لال ہیرا چند امبانی پٹرول پمپ میں کام کرتے تھے اور وہاں سے عدن گئے اور پھر بھارت آکر اپنے کاروبار کی بنیاد رکھی۔

2002 ء میں جب دھیرج لال امبانی کا انتقال ہوا تو ان کی کوئی وصیت نہیں تھی۔ جس کے بعد مکیش امبانی اور ان کے بھائی انیل امبانی کے درمیان وراثت کے لیے کافی طویل جنگ ہوئی اور دونوں کے تعلقات متاثر ہوئے۔

2005 ء میں دونوں بھائیوں کے درمیان معاہدہ ہوا جس کے تحت مکیش امبانی کو آئل، گیس، پیٹروکیمیکلز اور دیگر کاروباری آپریشنز کا کنٹرول ملا (بنیادی طور پر ریلائنس انڈسٹری کا بیشتر حصہ انہیں مل گیا)، اب مکیش امبانی 91.1 ارب ڈالرز کے مالک ہیں۔

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق اس معاملے سے واقف ذرائع نے بتایا کہ مکیش امبانی اپنے اثاثوں کی تقسیم کے لیے وال مارٹ انکارپوریشن کی ملکیت رکھنے والی والٹن فیملی کے ماڈل سے متاثر ہیں۔

ذرائع کے مطابق مکیش امبانی خاندانی اثاثوں کو ایک ٹرسٹ جیسے اسٹرکچر میں منتقل کرنے پر غور کررہے ہیں جس کے پاس ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ کا کنٹرول ہوگا۔ مکیش امبانی، ان کی اہلیہ نیتا اور تینوں بچے کے پاس ریلائنس کو کنٹرول کرنے والے ادارے میں حصے ہوں گے اور وہ بورڈ میں شامل ہوں گے جن کے ساتھ مکیش امبانی کے پرانے وفادار ساتھی ہوں گے جو روزمرہ کے آپریشنز کو سنبھالیں گے۔

ویسے اس حوالے سے مکیش امبانی اکیلے نہیں۔ ایشیا کے عمررسیدہ ارب پتی افراد اپنی دولت کے آگے منتقل کرنے کے مسئلے کا سامنا کررہے ہیں۔

ایک ہزار سے زیادہ خاندانوں میں سے ایشیا کے خاندانوں کی مجموعی دولت 5.8 ٹریلین ڈالرز ہے جبکہ بھارت میں ایسے خاندانوں کے اثاثے 1.5 ٹریلین ڈالرز کے قریب ہے۔

ٹانوٹو سینٹر فار ایشین فیملی بزنس اینڈ انٹرپرائزز اسٹڈیز کی ڈائریکٹر وینی چیان پینگ نے بتایا کہ ایشیا کے امیر افراد اپنے جانشینوں کے معاملے کو کس طرح سنبھالتے ہیں، وہ ایشیائی خطے پر اثرانداز ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ امبانی ایشیا کا امیرترین خاندان ہے اور لوگ یقیناً ان کی جانب دیکھیں گے۔

ذرائع نے بتایا کہ مکیش امبانی کی جانب سے اب بھی مختلف آپشنز پر غور کیا جارہا ہے اور کوئی فیصلہ نہیں ہوا، مگر ریلائنس کے نمائندوں اور مکیش امبانی نے اس حوالے سے کوئی بیان یا ردعمل جاری نہیں کیا۔

یو بی ایس گلوبل ویلتھ منیجمنٹ کے سنگاپور کے سربراہ جان بوس نے بتایا کہ ایشیا کے امیرترین افراد کی موجودہ نسل اثاثونوں کی منتقلی کے خطرات سے واقف ہیں۔ انہوں نے کہا وہ اس سے بچنا چاہتے ہیں، اور پھر وبا کا سامنا ہے جس نے لوگوں کو حقیقی معنوں میں سوچنا شروع کردیا ہے کہ وہ آخر چاہتے کیا ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کووڈ 19 کی آمد سے قبل خاندانی جانشین اور انتظامی معاملات کے حوالے سے صارفین نے دگنا زیادہ رابطہ کیا ہے۔ اس سے پہلے یہ خاندان اس مسئلے کو التوا میں ڈالنے کے عادی تھے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ثقافتی طور پر یہ ایسا معاملہ نہیں جس پر لوگ بات کرنا پسند کرتے ہوں، نوجوان نسل بھی اوپر نہیں آنا چاہتی، مگر اب لوگ پہلے سے تیار ہونا چاہتے ہیں۔

اگرچہ مکیش امبانی نے عوامی طور پر ریلائنس کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر کی حیثیت سے پیچھے ہٹنے کے کسی منصوبے کا ذکر نہیں کیا، مگر ان کے بچے منظر پر زیادہ نمایاں ہورہے ہیں۔ جون 2021 ء میں شیئر ہولڈز سے خطاب کرتے ہوئے مکیش امبانی نے پہلی بار عندیہ دیا کہ ان کے جڑواں بچے 30 سال کے آکاش اور ایشا اور 26 سالہ اننت ریلائنس میں اہم کردار ادا کریں گے۔

انہوں نے اس موقع پر کہا مجھے کوئی شبہ نہیں کہ ریلائنس کی اگلی نسل کی قیادت ایشا، آکاش ست اننت کریں گے، جو اپنی قیمتی ورثے کو مزید بڑھائیں گے۔

ذرائع کے مطابق مکیش امبانی کو وال مارٹ کو سنبھالنے والے خاندان کے ماڈل نے بہت زیادہ متاثر کیا ہے جو 1992 ء میں اس کے بانی سام والٹن کے انتقال کے بعد اپنایا گیا تھا۔ والٹن فیملی دنیا کا امیر ترین خاندان ہے جس میں اثاثوں کی تقسیم مختلف انداز سے ہوئی۔ اس خاندان کے افراد کو وال مارٹ کے صرف بورڈ لیول کی قیادت حاصل ہے، باقی اس امریکی ریٹیل کمپنی کو 1988 ء سے منیجرز چلا رہے ہیں، جب ڈیوڈ گلاس نے سام والٹن کی جگہ سی ای او کی ذمہ داری سنبھالی۔

سام والٹن کے بڑے بیٹے روب والٹن اور ان کے بھتیجے اسٹیورٹ والٹن وال مارٹ کے بورڈ کا حصہ ہیں جبکہ گریگ پینیر (روب والٹن کے داماد) 2015 ء سے Bentonville نامی کمپنی کے چیئرمین ہیں۔ ویسے تو اکثر اس خاندان کو دیگر شیئر ہولڈز سے زیادہ مراعات دیئے جانے کے الزامات لگتے ہیں مگر یہ خاندان اپنی توجہ وال مارٹ سے باہر دیگر کاروبار، سرمایہ کاری یا فلاحی کاموں پر مرکوز کرتا ہے۔ والٹن فیملی کا ماڈل اس کے بانی سام کی غیرمعمولی دوراندیشی کی عکاسی کرتا ہے، جن کی جانب سے پہلے ایک عالمی کمپنی کی بنیاد چند دکانوں کے ساتھ رکھی گئی تھی۔

انہوں نے اپنی موت سے لگ بھگ 40 سال قبل 1953 ء میں ہی اپنے جانشینوں کی تیاری شروع کردی تھی اور خاندانی کاروبار کا 80 فیصد حصہ اپنے چار بچوں ایلس، روب، جم اور جان کو منتقل کردیا تھا۔ اس سے ٹیکسوں کی شرح میں کمی لانے اور کمپنی پر خاندان کے کنٹرول کو برقرار رکھنے میں مدد ملی۔

والٹن خاندان کو ابھی وال مارٹ کے 47 فیصد کی ملکیت والٹن انٹرپرائزز ایل ایل سی اور دیگر ٹرسٹوں کے ذریعے حاصل ہے، جس کے باعث انہیں کنٹرول حاصل ہے۔ کیلیفورنیا یونیورسٹی کے ماہر نیلسن لیسٹی نشین کے مطابق خاندان کے 50 فیصد حصے کے قریب کی ملکیت کا مطلب یہ ہے کہ ان کے تعینات کردہ منیجرز کے پاس ہی حقیقی طاقت ہے۔ وال مارٹ نیلسن کے اس خیال کی تردید کرتے ہوئے کہتی ہے کہ کمپنی اکثریتی خودمختار بورڈ کو مستحکم رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔

انتظامی معاملات ہی وہ شعبہ ہے جو کسی فرد جیسے مکیش امبانی کو متاثر کرتا ہے۔ جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ 2002 ء میں جب دھیرج لال امبانی کا انتقال ہوا تو ان کی کوئی وصیت نہیں تھی جس کا نتیجہ دونوں بھائیوں کے درمیان اثاثوں کی تقسیم کے معاملے میں طویل عرصے تک جنگ چلی۔ شروع میں دونوں بھائیوں نے مل کر کام کیا جس میں مکیش چیئرمین اور انیل نائب چیئرمین تھے مگر بتدریج دونوں میں تنازعات بڑھنے لگے۔

یہ تنازعات اتنے زیادہ بڑھ گئے تھے کہ ان کی ماں کوکیلا بین کو مداخلت کرنا پڑی اور ان کی وجہ سے ہی 2005 ء میں دونوں کے درمیان معاملات طے پائے اور ریلائنس کے اثاثوں کو تقسیم کیا گیا۔ ان سب کی وجہ سے مکیش امبانی اپنے بچوں میں اس طرح کے تنازعات نہیں چاہتے۔

تھامس سینٹر فار فیملی انٹرپرائزز کے بھارت میں سربراہ کیول رام چندرن کے مطابق بھائی کے ساتھ تلخ تجربے سے گزرنے والے مکیش امبانی اپنے خاندان میں اس طرح کی پھوٹ نہیں چاہتے۔

مکیش امبانی کے جانشین کو جو کاروباری سلطنت منتقل ہوگی، وہ مکیش اور ان کے بھائی کو خاندانی ورثے کے طور پر منتقل ہونے والی سلطنت سے بہت مختلف ہوگی۔

ذرائع نے بتایا کہ مکیش امبانی کی جانب سے خاندان کے کنٹرول کو مستحکم کرنے کے لیے کاروبار کو ری اسٹرکچر کیا جارہا ہے اور مارچ 2019 ء میں اگر ریلائنس میں اس خاندان کا حصہ47.27 فیصد تھا تو وہ اب بڑھ کر50.6 فیصد ہوگیا ہے۔

وقت کے ساتھ ریلائنس3 کاروباری شعبوں انرجی، ریٹیل اور ڈیجیٹل کی ہولڈنگ کمپنی میں منتقل ہوسکتی ہے، جن ممکنہ طور پر مستقبل میں الگ الگ رجسٹر کیا جائے گا۔

مکیش امبانی کے بچوں اور اہلیہ کا اس ہولڈنگ کمپنی میں مساوی حصہ ہوگا اور انہیں اس کارباری گروپ کے زیرتحت اداروں پر یکساں کنٹرول دیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق اس طرح کا سیٹ اپ کنٹرول کے حوالے سے غیریقینی صورت حال کی روک تھام کرے گا جس سے آپس میں تنازعات کا خطرہ نہیں ہوگا جبکہ خاندان کے پاس ریلائنس کو چلانے کا اختیار والٹن خاندان سے زیادہ ہوگا۔

مکیش امبانی کے بچے پہلے ہی کمپنی میں زیادہ نمایاں ہورہے ہیں۔ ایشا اور آکاش نے ریٹیل اور ٹیکنالوجی میں کمپنی کے آگے بڑھنے میں اہم کردار ادا کیے ہیں جس میں فیس بک (میٹا) سے مذاکرات بھی ہیں جس کے بعد امریکی کمپنی نے 5.7 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری ریلائنس کے جیو پلیٹ فارم میں کی۔
مزیدپڑھیں :دلیپ کمار کو دوسری شادی کا ملال کیوں ہوا؟

یہ بھی پڑھیں