اسلام آباد(نیوزڈیسک)سال 2024 اختتام کے قریب پہنچ چکا ، نیا سال 2025 کے آنے کی تیاریاں شروع، عالمی سطح پر جنگی صورتحال گھمبیر ہوچکی ہے ۔ ایک طرف ایران اور اسرائیل کے درمیان سردجنگ جاری ہے جبکہ غزہ اور لبنان میں اسرائیل کی جارحیت بھی جاری ہے ۔
دوسری جانب روس اور امریکہ کے مابین جنگ بھی سرپر کھڑی ہے ۔دفاعی ماہرین نے بھی اپنے تجزیات شروع کردیئے کہ اگر روس اور امریکہ کے درمیان جنگ چھڑ گئی اور نوبت نیوکلیئر ہتھیاروں کے استعمال تک آگئی تو کس قسم کی تباہی اور کتنی تباہی ہوسکتی ہے ،جس کا ایک امریکی جریدے نے جائزہ لیکر دنیا کو بتایا دیا کہ آئندہ دنیا میں کیا ہونے جارہا ہے ۔
جریدے کے مطابق امریکہ کا طاقتور ترین نیوکلیئر ہتھیار بی 83 ہے، اس نیوکلیئر بم سے جو شعلہ بلند ہوگا وہ چار اسکوائر کلومیٹر رقبے پر محیط ہوگا اور تباہی اس قدر ہوگی کہ ایک سو 75 اسکوائر کلومیٹر رقبے میں عمارتیں تباہ یا جل جائیں گی۔ جریدے کا کہنا ہے کہ اگر امریکا کا طاقتور ترین نیوکلیئر بم روس، چین اور شمالی کوریا کے دارالحکومتوں پر پھینکا گیا تو ہولناک تباہی ہوگی۔
جریدے کے مطابق اگر اسے ماسکو پر پھینکا گیا تو چودہ لاکھ افراد ہلاک اور سینتیس لاکھ زخمی ہونگے۔بیجنگ پر پھینکا گیا تو پندرہ لاکھ افراد ہلاک اور تینتیس لاکھ زخمی ہوں گے، اسی طرح اگر یہ پیونگ یانگ پر پھینکا گیا تو تیرہ لاکھ شہری ہلاک اور گیارہ لاکھ زخمی ہوں گے۔
معروف اداکارہ ماہ نور پی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت کو اپنا دل دے بیٹھیں



