Search
Close this search box.
جمعه ,17 جولائی ,2026ء

بشارالاسد حکومت کو خطرہ، شامی باغی دستے حمص میں داخل، 2ہزار شامی فوجی عراق فرار

د مشق (نیوزڈیسک)شامی باغی دستے حمص میں داخل ہوگئے ،سینٹرل جیل سمیت کئی دیہات پر قبضہ کرلیا ۔ دوران قبضہ 35000 سے زائد جیل سے فرار ہوگئے ۔ غیر ملکی خبررساں ایجنسی کیمطابق شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کیخلاف لڑنے والے باغی گروپ حیات تحریر الشام کے باغیوں نے اتوار کے روز حکومت کے خلاف زبردست کارروائی کے دوران اہم شہر حمص پر قبضہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ باغیوں نے حمص کی سینٹرل جیل پر بھی قبضہ کیا جس دوران تین ہزار پانچ سو قیدی فرار ہوگئے۔ باغیوں کا اسرائیلی سرحد کے قریب القُنیطرہ کا کنٹرول سنبھالنے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔

خبرایجنسی کے مطابق دو ہزار شامی فوجیوں نے عراق میں پناہ لے لی۔ جبکہ پولینڈ نے اپنے شہریوں کو شام چھوڑنے کی ہدایت کردی ہے۔ادھر اقوامِ متحدہ کے نمائندے نے شامی تنازع کے حل کیلئے فوری سیاسی مذاکرات کا مطالبہ کیا ہے۔

شام میں خانہ جنگی سے تقریبا 15 لاکھ افراد کے بے گھر ہونے کا خدشہ ہے۔ شام میں پہلے ہی ایک کروڑ 29 لاکھ افراد غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔شام کے دارالحکومت دمشق پر خوف اور غیریقینی کے سائے منڈلانے لگے ہیں۔

باغی فورسز دمشق کے قریب پہنچتی جا رہی ہیں۔خبرایجنسی کے مطابق بشارالاسد کے دمشق چھورنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ جبکہ شامی صدر کے دفتر نے بشارالاسد کی شہر چھوڑنے کی تردید کردی۔ انہوں نے کہا کہ وہ دارالحکومت میں ہی ہیں اور اپنے کام میں مصروف ہیں۔

عرب میڈیا کے مطابق شامی فوج کے دستوں نے دمشق کے گرد پوزیشنیں چھوڑ دیں ہیں۔ فوج کی جانب سے پوزیشنیں چھوڑنے سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل چکا ہے۔ وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کے اطراف میں آہنی دیوار کھڑی کردی ہے۔

شامی افواج کی جنرل کمان کے ترجمان نے ویڈیو بیان میں شہریوں سے کہا نے کہ وہ افواہوں پر یقین نہ کریں یا ان کا شکار نہ ہوں اپنی فوج پر بھروسہ رکھیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ فوج باغیوں کا مقابلہ کرنے میں مصروف ہے۔
باغیوں کی پیش قدمی، بشار الاسد کابینہ فرار ہونے کیلئے فوجی بیس پر جمع

یہ بھی پڑھیں