دمشق(نیوزڈیسک) سعودی اخبار العربیہ کے مطابق شامی صدر بشار الاسد ماسکو فرار ہونے سے قبل سونے اور نوادرات کا خزانہ لے کر فرار ہوئے . شامی مذاکراتی کمیٹی کے سابق آئینی مشیر ایڈووکیٹ عیسیٰ ابراہیم نے بشار الاسد کے اقتدار سے نکلنے کو “اس طرح فرار ہونے، اور اپنے اختیارات کسی مقامی، انقلابی، یا غیر جانبدار پارٹی کو منتقل کیے بغیر” فرار قرار دیا۔
عیسیٰابراہیم ایڈووکیٹ نے کہا کہ بشارالاسد نے اپنی مجرمانہ پالیسیوں کی وجہ سے ملک کو تباہی کے دھانے پر لا کھڑا کیا۔ عیسیٰ ابراہیم بتاتے ہیں اسد کے اپنے عہدے سے دستبردار ہونے کا اعلان کرنے سے انکار کی وجہ ان کی “شخصیت میں موجود ضد اور تکبر تھا، انہیںان کی خود سری لے ڈوبی۔
وہ سونا اور نوادرات لے کر فرار
عیسیٰ ابراہیم جو اس وقت شام کے ساحلی علاقوں میں سرگرم ایک سیاسی تنظیم “سول ورک موومنٹ” کے مشیر کے طور پر کام کر رہے ہیں نے “العربیہ ڈاٹ نیٹ” کو دیے گئے بیانات میں کہا کہ الاسد شام کو لوٹ کر چلے گئے۔ روس اور ایران کے ساتھ معاہدوں کے ذریعے ملک کو کئی دہائیوں تک گروی رکھا رقم اور سونا جیسی بڑی مقدار میں شامی دولت لوٹی گئی۔
دوسری طرف انہوں نےکہا کہ بشار الاسد کا نکلنا “روسی مدد” کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ انہوں نے اس فرارکو روس کی “گود” میں جانے کے مترادف قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کا انکشاف کہ بشار الاسد اور روسی صدر کے درمیان تعلقات کی نوعیت “دو ممالک کے درمیان تعلقات” نہیں تھی، بلکہ “دو لوگوں، الاسد اور پوتین کے درمیان تعلق” تھا۔
پاکستانی خاندان نے شادی اور 7 بچوں کی پیدائش ایک ہی دن ہونے کا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا


