نیویارک (نیوزڈیسک)پاکستان میں صوبائی وزرا اور مشیروں کی تنخواہوں میں بڑے اضافے پر امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان کا ردعمل سامنے آگیا۔ترجمان امریکی وزارت خارجہ کی پریس بریفنگجت دوران ایک صحافی نے سوال کیا کہ پاکستانی وزراء کی تنخواہوں میں 900 فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے۔
صحافی نے سوال جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ابھی ایک ماہ قبل ہی میں نے واشنگٹن ڈی سی میں پاکستانی وزیر خزانہ سے پوچھا تھا کہ ایک ایسے ملک میں یہ اضافہ بالکل ناقابل قبول ہے جہاں کے حالات بہتر نہ ہوں اورملک غریب ہوہو اور پھر آپ یہاں فنڈز یا قرضے مانگنے آجاتے ہیں۔جس پر امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے مبہم انداز میں کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ یہ سوال کہیں نہ کہیں ہے۔
مجھے امید ہے کہ ہم جلدی اس تک پہنچیں گے۔صحافی نے پھر سے پوچھا کہ اس بارے میں آپ کا کیا تبصرہ ہے جس پر میتھیو ملر نے سوال کیا کہ کس پر؟ تنخواہوں میں اضافے کے معاملے پر؟صحافی نے اپنے سوال کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے مشکل وقت پاکستان کا ساتھ دیا لیکن وہاں کے حکمرانوں نے اپنی تنخواہوں میں 900 فیصد اضافہ کرلیا۔
امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان میتھیوملر نے جواب دیا کہ میرے خیال میں تنخواہوں میں اضافے کا سوال پاکستان کے عوام اور وہاں حکومت کا معاملہ ہے امریکا کا مسئلہ نہیں۔امریکی ترجمان میتھیو ملر کا مزید کہنا تھا کہ ہم دنیا بھر میں کسی بھی ملک کے حکومتی ملازمین کی تنخواہوں پر اپنی رائے نہیں دیتے۔
واضح رہے کہ پنجاب اسمبلی میں اراکین اسمبلی کی تنخواہوں میں لاکھوں روپے اضافے کا بل کثرت رائے سے منظور کیا گیا تھا جبکہ گورنر پنجاب سے بل کی منظوری کے بعد پنجاب میں ایم پی اے کی تنخواہ میں 526 فیصد اضافہ ہو جائے گا۔
نان فائلرزکا شکنجہ مزیدسخت کرنے کی تیاری، گاڑیاں اور زیادہ جائیداد خریدنے پر پابندی کا بل اسمبلی میں پیش


